🖋️بنتِ ابوالخیر اعظمیؔ
یہ خاموشی محض لفظوں کا نہ ہونا نہیں
یہ وہ گہری آواز ہے جو شور میں سنائی نہیں دیتی یہ دل کی وہ صدا ہے جو ہجوم میں دب جاتی ہے
اور یہ روح کی وہ فریاد ہے جو اکثر ہماری مصروف زندگی میں ان سنی رہ جاتی ہے۔
ہم روز بولتے ہیں، مسکراتے ہیں، مصروف رہتے ہیں
مگر کیا کبھی رُک کر سنا ہے
کہ ہمارے اندر کی خاموشی ہم سے کیا کہہ رہی ہے؟
یہ خاموشی کہتی ہے
کیا تم نے خود کو وقت دیا؟
کیا تم نے اپنے رب کو یاد کیا؟
یا صرف دنیا کے تقاضوں میں خود کو کھو دیا؟
خاموشی دراصل دل کا آئینہ ہوتی ہے۔
جب انسان اپنے آپ سے سچ بولنے لگتا ہے
تو الفاظ خاموش ہو جاتے ہیں اور دل بولنے لگتا ہے۔
یہ خاموشی ہمیں یاد دلاتی ہے
کہ ہم باہر سے کتنے ہی مطمئن کیوں نہ نظر آئیں
اگر اندر سکون نہیں تو سب کچھ ادھورا ہے۔
دل کی ویرانی، آنکھوں کی تھکن،
اور روح کی بے چینی اکثر اسی خاموشی میں چھپی ہوتی ہے۔
یہ وہ لمحہ ہوتا ہے
جب دل آہستہ سے پوچھتا ہے:
"کیا تم اسی مقصد کے لیے پیدا کی گئ تھی؟"
آج ہماری زندگی شور سے بھری ہوئی ہے۔
موبائل کی آوازیں، ذمہ داریوں کا دباؤ،
خواہشوں کی دوڑ اور مقابلے کی فضا ہر طرف شور ہی شور ہے۔
مگر اسی شور کے بیچ ایک خاموش چیخ ہے
جو ہمیں اپنی اصل کی طرف بلاتی ہے۔
یہ خاموشی کہتی ہے:
"رُک جاؤ… ذرا ٹھہر جاؤ
یہ دوڑ کہاں لے جا رہی ہے؟
کیا دل مطمئن ہے؟
کیا رب راضی ہے؟
یہ خاموشی ہمیں تھکنے کے بعد نہیں بلکہ ٹوٹنے سے پہلے آواز دیتی ہے۔
مگر ہم اکثر اسے نظر انداز کر دیتے ہیں۔
سب سے گہری خاموشی وہ ہوتی ہے جو انسان کو اللہ کے قریب لے جائے۔
جب بندہ دنیا سے ہٹ کر اپنے رب کے سامنے بیٹھتا ہے تو لفظوں کی حاجت نہیں رہتی۔
وہ خاموشی ایک سجدہ بن جاتی ہے
ایک آنسو بن جاتی ہے
ایک دعا بن جاتی ہے۔
یہ خاموشی کہتی ہے:
"تو ہمارے قلب سے آواز آتی ہے"اے بندے
تو نے سب کو خوش کرنے کی کوشش کی،
اپنے رب کو خوش کرنے کے لیے بھی رُکا؟"
نماز کے سجدے میں،
رات کی تنہائی میں،
اور آنکھوں کی نمی میں
یہ خاموشی سب سے زیادہ بولتی ہے۔
یہ خاموشی ہم سے شکوہ بھی کرتی ہے۔
وہ کہتی ہے:
تم نے مجھے بہت دیر تک دبائے رکھا
تم نے مجھے سُننے کے بجائے شور میں کھو جانا پسند کیا۔
یہ وہ خاموشی ہے
جو گناہوں کے بعد دل میں اترتی ہے
جو غفلت کے لمبے وقفے کے بعد اندر سے سوال بن کر ابھرتی ہے۔
اگر اسے سُن لیا جائے تو یہ اصلاح بن جاتی ہے
اور اگر نظر انداز کر دی جائے تو یہی خاموشی
دل کی موت کا اعلان بن جاتی ہے۔