معاشرے میں بے نمازی کا بڑھتا ہوا رجحان: اسباب، اثرات اور عملی حل


✒️ابن اسلم الہ آبادی 


ہر دور کی تہذیب اس کے فکری مزاج اور عملی ترجیحات کی آئینہ دار ہوتی ہے۔ جب کسی معاشرے میں اقدار زندہ ہوں تو اعمال میں نظم، کردار میں وقار اور زندگی میں توازن نمایاں ہوتا ہے؛ لیکن جب یہی اقدار کمزور پڑ جائیں تو سب سے پہلے عبادات نظر انداز ہونے لگتی ہیں۔ نماز، جو دینِ اسلام کا ستون اور ایمان کی عملی تعبیر ہے، اسی زوال پذیر صورتِ حال کی سب سے بڑی متاثرہ حقیقت بن چکی ہے۔ آج کا معاشرہ ایک ایسے مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں بے نمازی محض ایک فرد کی کوتاہی نہیں رہی، بلکہ ایک بڑھتا ہوا اجتماعی رجحان بن چکی ہے، جو خاموشی سے دلوں کو خالی اور زندگیوں کو بے سمت کرتا جا رہا ہے۔
نماز درحقیقت انسان اور اس کے رب کے درمیان وہ مضبوط رشتہ ہے جو انسان کو غفلت کے اندھیروں سے نکال کر شعور کی روشنی میں لے آتا ہے۔ یہی عبادت انسان کو وقت کی قدر سکھاتی، نفس کو قابو میں رکھتی اور اخلاق کو سنوارتی ہے۔ مگر افسوس کہ آج اسی نماز کو زندگی کے مرکز کے بجائے ایک ثانوی عمل سمجھ لیا گیا ہے۔ نتیجتاً یہ سوال شدت سے ابھرتا ہے کہ آخر بے نمازی کا رجحان مسلسل کیوں بڑھ رہا ہے، اور وہ کون سے عوامل ہیں جو اس سنگین صورتِ حال کو جنم دے رہے ہیں؟
بے نمازی کے پھیلتے ہوئے رجحان کی سب سے نمایاں وجہ دینی شعور کی کمزوری ہے۔ دین اب بہت سے لوگوں کے لیے ضابطۂ حیات نہیں رہا، بلکہ محض چند رسومات اور معلومات کا مجموعہ بن کر رہ گیا ہے۔ نماز کی فرضیت تو زبان پر ہے، مگر دل میں اس کی عظمت اور ترکِ نماز کے انجام کا احساس باقی نہیں رہا۔ جب ایمان محض الفاظ تک محدود ہو جائے اور عمل سے اس کا رشتہ ٹوٹ جائے، تو عبادت میں سستی اور غفلت ایک فطری نتیجہ بن جاتی ہے۔
اسی شعوری کمزوری کو دنیا پرستی مزید تقویت دیتی ہے۔ موجودہ دور کا انسان مادی ترقی، معاشی استحکام اور ظاہری کامیابی کو زندگی کا اصل مقصد سمجھ بیٹھا ہے۔ دن کا آغاز دنیا کی فکر سے ہوتا ہے اور رات اسی فکر پر ختم ہو جاتی ہے۔ ایسے ماحول میں نماز، جو انسان کو چند لمحے دنیا سے کاٹ کر رب کی طرف بلاتی ہے، غیر ضروری محسوس ہونے لگتی ہے۔ یوں دنیا کے عارضی فائدے کے لیے آخرت کے دائمی نقصان کو قبول کر لیا جاتا ہے، اور بے نمازی ایک معمول بن جاتی ہے۔
گھریلو ماحول بھی اس رجحان کے فروغ میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ وہ گھر جہاں نماز عملی زندگی کا حصہ نہ ہو، جہاں اذان کی آواز محض ایک پس منظر کی آواز بن جائے، اور جہاں والدین خود عبادت میں کوتاہی برتیں، وہاں اولاد کے دل میں نماز کی اہمیت کیسے پیدا ہو سکتی ہے؟ بچے نصیحت سے زیادہ عمل سے سیکھتے ہیں۔ جب انہیں نماز پڑھتے ہوئے نہ دیکھا جائے تو وہ ترکِ نماز کو گناہ نہیں، بلکہ فطری طرزِ زندگی سمجھنے لگتے ہیں۔ اس طرح بے نمازی ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل ہوتی چلی جاتی ہے۔
عصری تہذیب اور میڈیا نے بھی اس رجحان کو وسعت دی ہے۔ موبائل فون، سوشل میڈیا اور تفریح کے بے شمار ذرائع نے انسان کو ہر وقت مصروف رکھا ہوا ہے۔ توجہ منتشر ہے، ذہن الجھا ہوا ہے، اور وقت کی قدر ختم ہو چکی ہے۔ نماز، جو یکسوئی اور حضورِ قلب چاہتی ہے، اس منتشر ذہن کے لیے مشکل بن جاتی ہے۔ چنانچہ انسان سہولت کو ترجیح دیتا ہے، اور سہولت کا راستہ اکثر ترکِ نماز کی صورت میں نکلتا ہے۔
جب بے نمازی کا یہ رجحان معاشرے میں جڑ پکڑ لیتا ہے تو اس کے اثرات نہایت گہرے اور ہمہ گیر ہوتے ہیں۔ سب سے پہلے اخلاقی زوال نمایاں ہوتا ہے۔ نماز انسان کو برائی سے روکتی ہے، ضمیر کو بیدار رکھتی ہے اور خود احتسابی کا شعور پیدا کرتی ہے؛ لیکن جب یہ روحانی نگرانی ختم ہو جائے تو جھوٹ، فریب، بددیانتی اور بے حیائی عام ہو جاتی ہے۔ معاشرہ بظاہر ترقی کرتا دکھائی دیتا ہے، مگر اندر سے کھوکھلا ہو جاتا ہے۔
روحانی سطح پر بے نمازی ایک شدید خلا کا شکار رہتا ہے۔ دل بے چین ہوتا ہے، سکون کی تلاش میں انسان ایک کے بعد دوسرے سہارے آزماتا ہے، مگر حقیقی قرار نصیب نہیں ہوتا؛ کیونکہ دل کا سکون کسی مادی شے میں نہیں، بلکہ سجدے کی عاجزی میں پوشیدہ ہے۔ جب پیشانی رب کے حضور نہیں جھکتی تو دل بھی چین سے محروم رہتا ہے۔
معاشرتی اعتبار سے بے نمازی نظم و ضبط کے خاتمے کا سبب بنتی ہے۔ نماز وقت کی پابندی سکھاتی ہے؛ اور جب یہ عادت ختم ہو جائے تو زندگی کے دیگر معاملات بھی بے ترتیب ہو جاتے ہیں۔ وعدے کمزور پڑ جاتے ہیں، ذمہ داریاں نظر انداز ہوتی ہیں، اور اجتماعی اعتماد مجروح ہو جاتا ہے۔ یوں ایک فرد کی بے نمازی پورے معاشرے کے بگاڑ میں تبدیل ہو جاتی ہے۔
اس بڑھتے ہوئے رجحان کو روکنے کے لیے سب سے پہلے اس کے اسباب کا شعوری ادراک ضروری ہے۔ محض سختی، ملامت یا تنقید اس مسئلے کا حل نہیں، بلکہ حکمت، محبت اور عملی تدبیر درکار ہے۔ نماز کو ایک بوجھ کے طور پر پیش کرنے کے بجائے اسے زندگی کی سب سے بڑی نعمت کے طور پر متعارف کرانا ہوگا۔ یہ احساس اجاگر کرنا ہوگا کہ نماز انسان سے کچھ چھینتی نہیں، بلکہ اسے بہت کچھ عطا کرتی ہے۔
گھروں میں نماز کو عملی طور پر زندہ کرنا ہوگا۔ والدین اگر خود نماز کو ترجیح دیں گے تو اولاد کے دلوں میں بھی اس کی اہمیت راسخ ہوگی۔ مساجد کو محض عبادت کی جگہ نہیں، بلکہ روحانی تربیت کے مراکز بنانا ہوگا؛ جہاں نرمی، خیرخواہی اور اصلاح کا ماحول ہو۔ وقت کی تنظیم کو دینی ذمہ داری سمجھنا ہوگا، اور غیر ضروری مشاغل کو محدود کر کے نماز کو زندگی کے شیڈول کا محور بنانا ہوگا۔
سب سے بڑھ کر یہ کہ بے نمازی کے ساتھ نفرت یا تحقیر کے بجائے ہمدردی اور دعا کا رویہ اپنانا ہوگا؛ کیونکہ دل جبر سے نہیں، محبت سے بدلتے ہیں۔ جب انسان نماز کی برکت کو دوسروں کی زندگی میں دیکھے گا تو وہ خود بھی اس کی طرف مائل ہوگا۔
آخر میں یہ حقیقت پوری وضاحت کے ساتھ سامنے رہنی چاہیے کہ بے نمازی کا بڑھتا ہوا رجحان محض ایک علامت ہے؛ اصل بیماری دلوں کی غفلت ہے۔ جب دل بیدار ہوں گے تو نماز خود بخود زندگی میں واپس آ جائے گی۔ اور جب نماز لوٹ آئے گی تو فرد بھی سنورے گا، معاشرہ بھی سنورے گا، اور امت بھی اپنی کھوئی ہوئی روحانی طاقت دوبارہ حاصل کر لے گی۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اس غفلت سے نجات عطا فرمائے، نماز کی قدر و عظمت کو دلوں میں زندہ کرے، اور ہماری کوششوں کو قبولیت عطا فرمائے۔ آمین۔