حلیمہ سعدیہ کے ساتھ(1) - مکہ مکرمہ کے معزز خاندانوں کی یہ عادت تھی کہ وہ اپنے بچوں کو دودھ پلانے کے لیے دیہات کی عورتوں کے سپرد کر دیتے تھے تاکہ وہ ان کی پرورش کریں، کیونکہ دیہات کا ماحول بچوں کے جسمانی نشوونما کے لیے زیادہ موزوں ہوتا تھا اور شہر کی بیماریوں سے محفوظ رکھتا تھا، جو اکثر بچوں کو متاثر کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ دیہات میں رہنے سے بچے خالص عربی زبان اچھی طرح سیکھ لیتے اور فصیح لہجے میں بات کرنے کے عادی ہو جاتے تھے۔

بچوں کی پرورش اور دیکھ بھال کا معیار ہر قبیلے میں مختلف ہوتا تھا، اس لیے مکہ مکرمہ کے معزز خاندانوں کو خاص طور پر اس بات کی فکر ہوتی تھی کہ ان کے بچے بہترین اور سب سے زیادہ نگہداشت کرنے والے قبیلے میں جائیں۔ اس معاملے میں سب سے مشہور قبیلہ بنی سعد تھا۔

بنی سعد کی شہرت صرف بچوں کی اچھی پرورش اور نگہداشت تک محدود نہ تھی بلکہ ان کی زبان بالکل خالص اور فصیح عربی تھی جس میں کسی قسم کی ملاوٹ نہ تھی، اور وہ اچھے اخلاق و عادات میں بھی مشہور تھے۔ اسی وجہ سے عبدالمطلب نے چاہا کہ محمد ﷺ کی پرورش بنی سعد میں ہو۔

مؤرخین لکھتے ہیں کہ حلیمہ سعدیہ چند عورتوں کے ساتھ حسبِ روایت مکہ مکرمہ آئیں تاکہ کوئی بچہ لے جائیں اور دودھ پلائیں۔ جب وہ مکہ مکرمہ پہنچیں تو رسول اللہ ﷺ کو ہر عورت کو پیش کیا گیا لیکن سب نے آپ کو لینے سے انکار کیا، اس لیے کہ آپ یتیم تھے، اور کہا گیا کہ شاید غربت کی وجہ سے بھی انہوں نے انکار کیا کیونکہ یہ عورتیں مالدار بچوں کی تلاش میں ہوتی تھیں۔

لیکن متعدد محققین نے لکھا ہے کہ یہ بات درست نہیں کہ آپ ﷺ غریب تھے، کیونکہ آپ ﷺ اپنے دادا عبدالمطلب کی کفالت میں تھے جو مکہ مکرمہ کے سردار اور معزز شخصیت تھے اور ان جیسے لوگوں سے تو عطا کی امید رکھی جاتی تھی۔

جب حلیمہ سعدیہ کو کوئی دوسرا بچہ نہ ملا تو وہ واپس رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور آپ کو لے لیا اور پھر اپنے دیار واپس روانہ ہو گئیں۔


جاری۔۔۔۔۔۔۔۔


✍🏻: محمدریحان ضیاءالحق عفي عنہ

خادمِ تدریس، مدرسہ ریاض الجنۃ، دھولیہ (مہاراشٹر)

وخادم القرآن، مجمع عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ، لحلقات القرآن الکریم عن بُعد، بالمدینۃ المنورۃ۔