*مد مقابل اپنے موضوع سے ہٹ کر جذبات سے کام لے رہے ہیں*
بسم اللہ الرحمن الرحیم
یہ تحریر فریقِ مخالف کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کے جواب میں سنجیدگی، ذمہ داری اور علمی توازن کے ساتھ پیش کی گئی ہے، مقصد نہ کسی پر الزام رکھنا ہے اور نہ کسی بحث کو طول دینا، بلکہ اصل غرض یہ ہے کہ گفتگو کو اس کے درست علمی دائرے میں رکھتے ہوئے ابہام کو واضح کیا جائے اور اصل نکتے کو سامنے لایا جائے،جواب میں تاخیر محض غفلت کا نتیجہ نہیں ہے، چند روز ذاتی مشغولیات اور سفر درپیش رہا، اور اس کے بعد مسلسل عملی ذمہ داریوں نے فرصت نہ دی، اسی باعث چار پانچ دن گزر گئے، اس تاخیر پر دل سے معذرت خواہ ہوں،فریقِ مخالف کے اٹھائے گئے سوالات کو پوری سنجیدگی سے لیا گیا ہے اور جواب کسی فرد یا جماعت کو ہدف بنانے کے لیے نہیں، بلکہ ایک فکری موقف کی وضاحت کے لیے ہے، امید ہے کہ اس تحریر کو اسی نیت اور سنجیدہ زاویے سے پڑھا جائے گا جس نیت سے اسے قلم بند کیا گیا ہے۔
یہ بات سب سے پہلے واضح ہونی چاہیے کہ زیرِ بحث تحریر محض ایک شخص کی فریاد نہیں بلکہ ایک خاص فکری زاویے سے اہلِ سنت بریلوی مکتبِ فکر پر قائم کیا گیا مقدمہ ہے، اس مقدمے کی بنیاد یہ ہے کہ اہلِ سنت میں دین کی خدمت، اختلاف کو برداشت کرنے کے بجائے، تکفیر کو فروغ دینے کی صورت اختیار کر چکی ہے، اگر یہی دعویٰ درست مان لیا جائے تو پھر واقعی اہلِ سنت جواب دہ ٹھہرتے ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ دعویٰ اصولی حقیقت پر مبنی ہے یا اطلاقی بے اعتدالی پر؟
اہلِ سنت بریلوی کا اصول کبھی یہ نہیں رہا کہ ہر اختلاف رکھنے والا کافر ہے،ان کا بنیادی موقف یہ ہے کہ دین محض جذبات کا نام نہیں بلکہ حدود کا نام ہے، اور ایمان کی کچھ سرحدیں ہیں جن کا تعین ضروری ہے، اگر یہ سرحدیں مٹا دی جائیں تو نہ ایمان کی پہچان باقی رہتی ہے اور نہ کفر کا مفہوم، اسی لیے اہلِ سنت نے ہمیشہ یہ کہا کہ بعض اقوال اور بعض عقائد بذاتِ خود کفر ہیں، یہ بات کہنا دین کی حفاظت ہے، نہ کہ لوگوں سے دشمنی۔
یہاں وہ بنیادی نکتہ نظر انداز کر دیا جاتا ہے جسے سمجھے بغیر ساری گفتگو بددیانتی بن جاتی ہے، اور وہ یہ کہ اہلِ سنت نے عقائد پر حکم لگایا ہے، افراد پر نہیں، امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کی پوری جدوجہد اسی نکتے کے گرد گھومتی ہے،انہوں نے واضح طور پر لکھا کہ عام آدمی، جو نہ عبارات کے دقائق سمجھتا ہے، نہ کلامی موشگافیوں سے واقف ہے، محض اپنے اکابر سے نسبت یا تقلید کی بنیاد پر کافر نہیں قرار دیا جا سکتا، جب تک اس سے صریح کفر کا التزام اور اس پر اصرار ثابت نہ ہو۔
اس کے باوجود یہ کہنا کہ عملی طور پر کوئی دیوبندی یا وہابی تکفیر سے محفوظ نہیں ایک جذباتی الزام ہے، علمی نتیجہ نہیں،جبکہ حقیقت یہ ہے کہ عوام کے ساتھ معاملات، نکاح، نماز، معاشرت سب جاری رہے ہیں،بقول آپکے اس سے صاف ظاہر ہے کہ اجتماعی اور عمومی تکفیر اہلِ سنت کا منہج نہیں، بلکہ بعض افراد کی سخت زبانی کو پورے مسلک پر چسپاں کر دیا گیا ہے۔
رہا یہ سوال کہ یہ اصلاح ہے یا تقیہ؟ تو اس میں بھی خلطِ مبحث ہے، اہلِ سنت نے کبھی اپنے عقائد کو چھپایا نہیں،کتابوں میں اصول پوری صراحت سے موجود ہیں، البتہ عوامی خطاب میں ہر بات اسی شدت سے کہنا حکمت نہیں ہوتی، عالم کا کام اصول بتانا ہے اور خطیب کا کام اصلاح کرنا، اس فرق کو نہ سمجھنا اور ہر احتیاط کو تقیہ کہنا دراصل فقہی شعور کی کمی ہے، نہ کہ کسی خفیہ سازش کا ثبوت۔
جہاں تک بعض خطیبوں کے سخت، اشتعالی اور تشبیہی جملوں کا تعلق ہے تو اہلِ سنت اس کا دفاع نہیں کرتے، یہ بات تسلیم کی جاتی ہے کہ بعض لوگوں نے زبان کا وہ ادب ملحوظ نہیں رکھا جو منبر کا حق تھا، مگر یہ طے شدہ اصول ہے کہ کسی فرد یا چند خطیبوں کی لغزش پورے مسلک کا عقیدہ نہیں بن جاتی، اگر ایسا معیار قائم کیا جائے تو پھر ہر مکتب کو اپنے بدترین نمائندوں کے حوالے سے پرکھنا پڑے گا، جو سراسر ناانصافی ہے۔
دیوبندی فکر کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ تکفیر نہیں کرتے، ایک حد تک درست اور ایک حد تک ادھورا ہے، اگر کسی عمل کو شرک، کسی قول کو ناقضِ ایمان اور کسی راستے کو کفر تک پہنچانے والا کہا جائے، تو محض لفظ کافر استعمال نہ کرنے سے حقیقت بدل نہیں جاتی، یہاں اختلاف نیت کا نہیں، طریقے کا ہے، اہلِ سنت سمجھتے ہیں کہ اگر کوئی چیز واقعی ایمان کو زائل کرتی ہے تو اس کا واضح نام لینا ابہام کو ختم کرتا ہے، جبکہ دوسرا فریق احتیاطِ لفظی کو ترجیح دیتا ہے، یہ منہجی اختلاف ہے، نہ کہ اخلاقی برتری۔
مسجد اور عوام کے بارے میں جو شکوہ کیا گیا ہے، اس پر اہلِ سنت کا موقف بالکل واضح ہے، مسجد اللہ کا گھر ہے، کسی مسلک کی جاگیر نہیں، کلمہ گو مسلمان کو محض فقہی یا اعتقادی اختلاف کی بنیاد پر مسجد سے نکالنا نہ شریعت کا حکم ہے اور نہ اکابر کا طریقہ، اگر کہیں ایسا ہو رہا ہے تو وہ ظلم ہے، اور ظلم کی ذمہ داری افراد پر عائد ہوتی ہے، مسلک پر نہیں۔
آخر میں بات نہ بریلوی اور دیوبندی کی رہ جاتی ہے، نہ اصلاح اور تقیہ کی، اصل سوال یہ ہے کہ کیا ایمان کی حدیں بھی محفوظ رہیں اور امت بھی نہ ٹوٹے؟ اہلِ سنت بریلوی اسی توازن کے قائل ہیں، وہ نہ حد مٹانا چاہتے ہیں اور نہ امت توڑنا،جو حد مٹاتا ہے وہ دین کو کھوکھلا کرتا ہے، اور جو حد کی آڑ میں امت کو کاٹتا ہے وہ بھی دین کو نقصان پہنچاتا ہے، حق ان دونوں انتہاؤں کے درمیان ہے،
اور اسی کو اہلِ سنت کا موقف کہا جاتا ہے۔
اس پوری وضاحت کے بعد یہ بات بطورِ الزام اور سوالِ قائمہ درج کرنا ضروری ہے کہ فریقِ مخالف کی جانب سے مجھے محض چند وڈیوز بطورِ دلیل کمنٹس میں بھیجی گئیں۔ اوّل تو ان میں سے بعض وڈیوز سرے سے چل ہی نہیں سکیں، اور ثانیاً میں نے بارہا یہ بنیادی سوال اٹھایا کہ کیا چند منتخب وڈیوز، وہ بھی سیاق و سباق سے کاٹ کر، کسی پورے مسلک کی فکری حقیقت، اصولی منہج اور صدیوں پر پھیلی علمی روایت کا فیصلہ کرنے کے لیے کافی ہو سکتی ہیں؟ کیا یوٹیوب کلپس اب اصولِ عقیدہ اور میزانِ حق و باطل بن چکے ہیں؟
اس کے باوجود یہی وڈیوز بار بار دہرائی جاتی رہیں، اور جب اصولی گفتگو کی طرف بلایا گیا تو اس سے گریز کیا گیا۔ میں مسلسل لکھتا رہا کہ اگر واقعی گفتگو سنجیدہ ہے تو اصول، کتب، تصریحاتِ اکابر اور عملی منہج پر بات کی جائے، نہ کہ چند اشتعالی مناظر کو پورے مسلک پر تھوپ دیا جائے۔ اس طرزِ استدلال سے حقیقت واضح نہیں ہوتی، بلکہ پہلے سے قائم شدہ الزام کو دہرانے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
*✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*