پٹنہ کی فضا میں آج ایک چیخ گھل گئی ہے۔۔۔ ایک ۲۲ سالہ نرسنگ کی طالبہ صوفیہ عرف رخسار کی چیخ جسے اس کے اپنے بوائے فرینڈ امت نے تیسری منزل سے دھکا دے کر خاموش کر دیا۔۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ صرف ایک لڑکی نہیں مری، ایک نسل کی آنکھوں سے حیا، عقل اور احتیاط کے معنی رخصت ہو گئے۔ یہ پہلا واقعہ نہیں، نہ آخری ہوگا جب تک قوم کے اہلِ منبر خاموش ہیں، جب تک والدین کے دلوں میں تربیت کی آگ بجھی ہوئی ہے، جب تک بیٹیاں محبت کے نام پر دھوکے کو خواب سمجھتی رہیں گی۔۔۔۔۔۔
اے وارثانِ انبیاء! آپ کے سینوں میں جو علم رکھا گیا وہ صرف فقہی مسئلے سمجھانے کے لیے نہیں تھا، وہ دردِ امت کو بیدار کرنے کے لیے تھا مگر آج امت کی بیٹی گرتی ہے اور منبر خاموش رہتا ہے، محبت کے نام پر عزتیں پامال ہوتی ہیں اور خطابتیں سیاسی تبصروں میں گم ہیں!
اے خطیبِ ملت! اے صاحبِ علم و فضل! آج تمہارے منبر کو صوفیہ کے خون سے پکار ہے۔ وہ تمہیں یاد دلا رہی ہے کہ علم صرف پڑھانے کے لیے نہیں، بچانے کے لیے بھی ہوتا ہے۔ اور اے والدین! تمہاری بیٹیاں تمہارا فخر ہیں مگر فخر کی حفاظت تربیت کے بغیر ممکن نہیں۔ انہیں سمجھاؤ کہ محبت تب خوبصورت ہوتی ہے جب وہ نکاح کے آسمان کے نیچے سانس لیتی ہے ورنہ وہ صرف دھوکے کا ملبہ ہوتی ہے۔ انہیں بتاؤ کہ لڑکوں کے میٹھے جملے ایمان کا امتحان ہیں، سچائی کا نہیں کہ جو مرد تمہیں تمہارے والدین سے چھپ کر چاہتا ہے وہ کبھی تمہیں عزت کے ساتھ اپنانا نہیں چاہے گا۔۔۔۔۔
اے لڑکیو! تم قیمتی ہو، تمہارا مقام جذبات کے تماشے میں برباد ہونے کے لیے نہیں، ایمان کے قلعے میں محفوظ رہنے کے لیے ہے۔ اپنی آزادی کو شعور کے ساتھ جیؤ ورنہ یہی آزادی تمہارے لیے زنجیر بن جائے گی۔۔ تمہاری مسکراہٹیں ان مردوں کے ہاتھوں کی کھیل نہ بنیں جن کے دل ایمان سے خالی ہیں۔ صوفیہ کا قتل صرف ایک جرم نہیں، ایک پیغام ہے کہ جب عقل سو جائے اور ایمان پسِ منظر میں چلا جائے تو محبت کے نام پر ذلت کی داستانیں لکھی جاتی ہیں۔۔۔
یہ وقت احتجاج کا نہیں، توبہ کا ہے، بیداری کا ہے اور منبر سے لے کر گھر تک سب کو مل کر یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم اپنی بیٹیوں کو دنیا نہیں، دین کے ساتھ باشعور بنائیں گے کیونکہ اگر اگلی صوفیہ کو بچانا ہے تو منبر سے صدائے درد اٹھنی ہوگی ورنہ تاریخ پھر ایک نام مٹا دے گی اور ہم پھر صرف افسوس لکھیں گے۔۔۔۔۔۔
✍🏻 محمد پالن پوری
https://whatsapp.com/channel/0029Vb6ClOvDuMRbbKrnXM3B