ِبِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ٠ؕ
نَحْمَد‌ُہ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہٖ الْکَرِیْمِ امَّابَعَدْ٠ؕ
قَالَ اللّٰہُ تَبَارَکْ وَ تَعَالٰی فِی الْقُرْآنِ الْمَجِیْدِ :فَخَلَفَ مِنْ بَعْدِ ھِمْ خَلْفٌ اَضَاعُوْا الصَّلٰوةَ وَ اتَّبَعُو‌ْاالشَّھَوٰتِ فَسَوْفَ یَلْقَوْنَ غَیَّاً٠ؕ(سورہ مریم:آیت نمبر:59)
ترجمہ: "پھر اُن کے بعد ایسے لوگ آئے جنھوں نے نماز کو ضائع کردیا اور خواہشات کے پیچھے پڑگئے ، تو عنقریب وہ گمراہی کے انجام سے دوچار ہوں گے ۔"
مقصدِآیت:"اس مضمون کی ابتداء قرآن مجید کی اس آیت سے کرنے کا مقصد یہ ہے کہ یہ واضح کیاجاسکے کہ نماز کا تَرک کرنا کوئی معمولی کوتاہی نہیں بلکہ ایک ایسا سنگین عمل ہے جس کے نتیجے میں فرد اور معاشرہ دونوں گمراہی اور اخلاقی زوال کا شکار ہوجاتے ہیں ۔"
نماز اسلام کا ستون اور بندے کو اپنے ربّ سے جوڑنے والی سب سے محفوظ عبادت ہے ۔لیکن ! افسوس کے آج ہمارا معاشرہ خصوصاً نوجوان نسل ، نماز اور جماعت سے مسلسل دور ہوتی جارہی ہے ۔ مساجد کا ویران ہونا ، صفوں کا مختصر ہوجانا اور نماز کے بعد لوگوں کا اپنے کاموں میں مشغول رہنا اس بات کی واضح علامت ہے کہ نماز ہماری زندگی سے نکلتی جارہی ہے ۔ یہ صرف ایک فرد کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ پورے معاشرے کا اجتماعی بحران ہے ۔ اس دوری کے پیچھے چند ظاہری نہیں بلکہ گہری اور بنیادی وجوہات کار فرما ہے ۔"

مسئلہ ١): لوگ نماز اور جماعت سے کیوں دور ہورہے ہیں ؟اصل وجہ کیا ہے ؟
لوگ نماز اور جماعت سے دور ہورہے اس کی چند وجوہات ہے جو درج ذیل ہے ۔
١) ایمان کی کمزوری: سب سے پہلی اور اصل وجہ ایمان کی کمزوری ہے ۔ جب دل اللہ کی عظمت،آخرت کی فکر ، قبر اور حساب و کتاب کا احساس کمزور ہوجائے تو عبادت بوجھ محسوس ہونے لگتی ہے ۔ زبان زبان سے ایمان کا دعویٰ تو رہتا ہے ، مگر دل کی کیفیت بدل جاتی ہے ، اور یہی کیفیت نماز سے دوری کا پہلا زینہ بنتی ہے ۔
٢)دنیا کی محبت اور مادّہ پرستی:
آج کا انسان دنیاوی فائدوں ، پیسے اور مصروفیات میں اتنا الجھ گیا ہے کہ اصل مسئلہ وقت کی کمی نہیں ، بلکہ اس کی ترجیحات بدل گئی ہے ۔یعنی وہ اہم کاموں کو چھوڑ کر کم اہم چیزوں کو اہمیت دینے لگا ہے ۔کاروبار، نوکری ، موبائل ،سوشل میڈیا ،نیٹ فلکس اور تفریح سب کچھ ہے ۔ مگر نماز کے لئے وقت نہیں ہے ۔ " اصل مسئلہ وقت کی کمی نہیں ، بلکہ نماز کو زندگی کے مرکز سے نکال دینا ہے ۔"
٣) گھریلو ماحول کی خرابی :
بچّے وہی سیکھتے ہیں جو گھر میں دیکھتے ہیں ۔ جب والد خود نماز کے پابند نہ ہو ، جب ماں نماز کی اہمیت نہ سمجھائے ، جب گھر میں اذان کی آواز بے اثر ہوجائے تو نئی نسل کے لئے نماز صرف ایک رسمی بات بن کر رہ جاتی ہے ۔
٤)دینی تعلیم اور صحیح تربیت کا فقدان:
اکثر لوگ نماز اس لئے چھوڑ دیتے ہیں کہ " انہیں نماز کی فضلیت معلوم نہیں ، نماز چھوڑنے کے نقصانات کا احساس نہیں ، نماز کو صرف رسم سمجھا گیا ہے روح نہیں سمجھی گئی۔ "جب عبادت کا شعور نہ ہو تو عمل باقی نہیں رہتا ۔"
٥) گناہوں کی کثرت اور دل کا سیاہ ہوجانا:
گناہ انسان کے دل کو مردہ کردیتے ہیں۔ جب آنکھ ،کان، زبان ، اور دل گناہوں میں مشغول ہوجائے تو نماز میں دل نہیں لگتا ، سجدہ بوجھ لگتا ہے اور مسجد اجنبی محسوس ہونے لگتی ہے ۔ 
"یہ ایک روحانی حقیقت ہے ۔"
٦) سستی ،کاہلی اور نفس کی غلامی:
نماز چھوڑنے کی ایک اور وجہ نفس کی پیروی ہے ۔ نیند پیاری ،بستر عزیز ،آرام محبوب ۔ اور نماز مؤخر ہوتی چلی جاتی ہے ، یہاں تک کہ تَرک ہوجاتی ہے ۔
"یہ کاہلی شیطان کا سب سے بڑا ہتھیار ہے ۔"
٧) معاشرتی اثرات اور ماحول:
جب ماحول بے دینی کا ہو ، جب دوست نماز نہ پڑھتے ہو ، جب مسجد سے تعلق کمزور ہو ،تو انسان رفتہ رفتہ اسی دھارے میں بَہہ جاتا ہے ۔
"انسان تنہا مضبوط نہیں رہ سکتا اِلا‌َّ
ماشاۤءاللّٰہ ؛ ماحول اثر انداز ہوتا ہے ‌"
٨) مسجد اور امام سے جذباتی تعلق کا فقدان:
کئی مقامات پر مساجد آباد ہیں مگر دل خالی ، امام صاحب سے رَبط نہیں ، نوجوانوں کے سوالات کا جواب نہیں ۔
"جب مسجد صرف عبادت گاہ بن کر رہ جائے اور رہنمائی کا مرکز نہ ہو تو نوجوان دور ہوجاتے ہیں ۔"
اصل وجہ کیا ہے ؟(خلاصہ):
اگر ان سب باتوں کو ایک جملے میں سمیٹے تو اصل وجہ اللّٰہ سے تعلق کا کمزور ہوجانا ہے ۔جب اللّٰہ سے رشتہ مضبوط ہوتا ہے تو نماز خود بخود زندگی کا حصّہ بن جاتی ہے ، اور جب رشتہ کمزور ہوجائے تو نماز سب سے پہلے متاثرہوتی ہے ‌۔ 
نماز سے دوری "اصل مسجد سے نہیں" بلکہ ربّ سے دوری کا اعلان ہے ‌۔ جب ہم اللّٰه کی طرف پلٹے گے ،نماز خود بخود ہماری طرف آئے گی ۔ اِن شاۤءاللّٰہ...

٢) اثرات: نماز چھوڑنے کے دنیاوی اور دینی نقصانات کیاہیں ؟
نماز چھوڑنے کے دنیاوی نقصانات :
١) نمازِفجر:نمازِ فجر کے وقت سوتے رہنے سے ہم آہنگی پر اثر پڑتا ہے ، کیوں کہ اجسام کائنات کی نیلگی طاقت سے محروم ہوجاتے ہیں ، رزق میں کمی اور بے برکتی آجاتی ہے ، چہرہ بے رونق ہوجاتا ہے ۔لہٰذامسلسل فجر قضا پڑھنے والا شخص بھی انہی لوگوں میں شامل ہے ۔
٢) نمازِظہر:وہ لوگ جو مسلسل نمازِظہر چھوڑتے ہیں وہ بدمزاجی اور بدہضمی سے دو چار ہوجاتے ہیں۔اس وقت کائنات زرد ہوجاتی ہے۔معدہ اور نظامِ انہضام پر اثر انداز ہوتی ہے ۔روزی تنگ کردی جاتی ہے ۔ 
٣)نمازِ عصر: اکثر نمازِ عصر چھوڑنے والوں کی تخلیقی صلاحیتیں کم ہوجاتی ہیں اور عصر کے وقت سونے والوں کا ذہن "کُندْ" ہوجاتا ہے اور اولاد بھی کُند ذہن پیدا ہوتی ہے ۔کائنات اپنا رنگ بدل کر نارنجی ہوجاتی ہے اور یہ پورے نظامِ تولید پر اثر انداز ہوتی ہے ۔
٤) نمازِ مغرب: مغرب کے وقت سورج کی شعاعیں سُرخ ہوجاتی ہے ۔جنّات اور ابلیس کی طاقت عروج پر ہوتی ہیں ۔ سب کام چھوڑ کر پہلے مغرب کی نماز ادا کرنی چاہئے ۔ اس وقت سونے والوں کی اولاد کم ہوتی ہے یا ہوتی ہی نہیں ، اور اگر ہوجائے تو نافرمان ہوتی ہے ۔ 
٥)نمازِ عشاء: نمازِ عشاء چھوڑنے والے ہمیشہ پریشان رہتے ہے ۔ کائنات نیلگی ہوکر سیاہ ہوجاتی ہے اور ہمارے دماغ اور نظامِ اعصاب پر اثر کرتی ہے ۔ نیند میں بے سکونی اور بُرے خواب آتے ہیں ، جَلد بڑھاپا آتا ہے ۔ 
مزید بے نمازی کے دل میں بے چینی ، اضطراب اور گھبراہٹ عام ہوجاتی ہے نیٖز نماز نہ ہو تو جھوٹ ، بددیانتی ،غصہ ، حسد اور بے راہ روی بڑھنے لگتی ہے ، جس سے انسان و معاشرہ دونوں متاثر ہوتے ہیں ۔ بے نمازی کی کمائی ،وقت ، صحت اور رشتوں میں رفتہ رفتہ برکت کم ہوجاتی ہیں چاہے ظاہری طور پر سب کچھ موجود ہو ‌۔ بے نمازی والدین "اولاد" کو بھی نماز سے دور کردیتے ہیں ،یوں بے نمازی کا رجحان نسل در نسل منتقل ہوتا جاتا ہے ۔ نماز مصیبتوں میں ڈھال ہے جب یہ سہارا نہ رہے تو چھوٹے مسائل بھی بڑے دکھ بن جاتے ہیں اور انسان ٹوٹنے لگتا ہے ۔ نماز چُھوٹنے سے نیک لوگوں کی صحبت چھوٹ جاتی ہے اور انسان غلط ماحول کا حصہ بن جاتا ہے ۔

نماز چھوڑنے کے دینی نقصانات :
١) اللّٰه سے تعلق کمزور ہوجانا:
نماز بندے اور ربّ کے درمیان براہِ راست رابطہ ہے ۔ جب نماز چھوٹتی ہے تو سب سے پہلے اللّٰه سے قربت ختم ہونے لگتی ہے اور دل میں سختی اور بے حسی پیدا ہوجاتی ہے ۔
٢): ایمان کے لئے شدید خطرہ: 
رسول اللّٰہ ؐ نے فرمایا:بَیْنَ الْعَبْدِوَبَیْنَ الْکُفْرِ تَرْکُ الصَّلٰوةِ۔(رواہٗ مسلم ، مشکوٰۃ)
"بندے اور کفر کے درمیان نماز چھوڑ دینے ہی کا فاصلہ ہے (یعنی بندہ اگر نماز چھوڑے گا تو کفر کی سرحد سے جاملے گا )۔"
یہ حدیثِ مبارکہ واضح کرتی ہے کہ " نماز چھوڑنا ایمان کو انتہائی خطرناک کنارے پر لے جاتا ہے ۔ 
٣) آخرت میں سخت حساب اور عذاب:
حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللّٰہ ﷺ نے فرمایا: "ان اول ما یحاسب به العبد یوم من عمله الصلوٰۃ فان صلحت فقد افلح وانجح و ان فسدت خاب و خسر" (رواه الترمذی والنسائ و ابن ماجہ و الحاکم و الصححة کذا فی الدر المنثور ) "قیامت کے دن اعمال میں سب سے پہلے نماز کی جانچ ہوگی اگر وہ ٹھیک نکلی تو بندہ کامیاب اور بامراد ہوگا اور اگر اس کی نمازیں خراب نکلیں تو نامراد اور خسارہ میں ہے ۔"
قرآن سے دوری:
نماز قرآن سے جوڑتی ہے ۔ نماز چھوڑنے والا رفتہ رفتہ قرآن ، ذکر اور دعا سے بھی دور ہوجاتا ہے اور اس کی روحانی زندگی تقریباً ختم ہوجاتی ہے ۔
٥) گناہوں پر جرأت پیدا ہوجانا:
نماز انسان کو برائی سے روکتی ہے ۔ جب یہ ڈھال ہٹ جائے تو گناہ آسان اور معمولی لگنے لگتے ہیں اور ضمیر کی آواز دب جاتی ہے ۔
نیٖز ایک اور حدیث ہے جو مسندِ احمد میں حضرت عبداللّٰہ بن عمرو بن العاص ؓ سے مروی ہے کہ "رسول اللّٰہ ؐ نے ایک دن نماز پر کلام کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ جو کوئی نماز کو اہتمام سے ادا کرے گا تو نماز اس کے واسطے قیامت میں نور ہوگی ، برہان ہوگی اور بالآخر ذریعۂ نجات ہوگی اور جو کوئی اس کو اہتمام سے ادا نہیں کرے گا تو اس کے واسطے نہ نور بنے گی نہ برہان ہوگی نہ ذریعۂ نجات اور وہ شخص قیامت میں قارون ، فرعون اور ہامان اور ابی بن خلف مکه کے سرغنہ کے ساتھ ہوگا ۔"(معاذاللّٰہ)

نیز ان آیات میں نماز کو دین یا دین کی اصل و اساس کہا گیا ہے اور نماز نہ پڑھنے والے کو کفر یا دین سے خروج اور دولتِ اسلام سے محرومی قرار دیا گیا ہے ۔ 
مثلاً سورہ بقرہ کی آیت :١٤٣"وَمَاکَانَ اللّٰهُ لِیُضِیْعَ اِیْمَانُکُمْ" میں اکثر مفسرین کے نزدیک نماز ہی کو "ایمان" کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے ۔اور سورہ روم کی ایک آیت سے مفہوم ہوتا ہے کہ نماز نہ پڑھنے والے آدمی اہلِ ایمان سے کٹ کر مشرکوں سے جُڑ جاتا ہے ۔"وَاَقِیْمُوالصَّلَوٰةَ وَلَا تَکُوْنُوْ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ "۔ 
"نماز قائم کرو اور مشرکوں میں سے نہ ہوجاؤ" اور سورہ مرسلات کی ایک آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز کے متعلق احکامِ الٰہیہ کی تعمیل نہ کرنے والے یعنی نماز نہ پڑھنے والے کو یا مؤمنیں کے زمرے میں نہیں ہے بلکہ منکرین اور مکذبین میں سے ہیں ۔ 
"وَاِذَا قِیْلَ لَھُمْ ارْکُعُوْلَایَرْکَعُوْنَ وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُکَذِّبِیْنَ "(مرسلات)
سورہ قلم کی اس آیت میں آخرت کا عجیب عبرتناک منظر کا نقشہ بڑے مؤثر و بلیغ انداز میں کھینچا گیا ہے ۔ ارشاد ہے :👇
يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ وَيُدْعَوْنَ إِلَى السُّجُودِ فَلَا يَسْتَطِيعُونَ ۝
خَاشِعَةً أَبْصَارُهُمْ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ ۖ وَقَدْ كَانُوا يُدْعَوْنَ إِلَى السُّجُودِ وَهُمْ سَالِمُونَ﴾ (نۤ و القلم)
اس آیت کے مضمون کا حاصل یہ ہے کہ قیامت کے دن جب کہ نہایت سخت گھڑی ہوگی اور اللّٰہ ربّ العزت کی خاص تجلّی (تجلّی صاق) ظاہر ہوگی اور لوگوں سے سربسجود ہوجانے کو کہا جائے گاتواللّٰہ کے جو بندے دنیا میں اس کے حضور میں سجدہ ریز ہوا کرتے تھے (یعنی نماز پڑھا کرتے تھے )تو وہ فوراً سربسجود ہوجائے گی لیکن وہ لوگ جو دنیا میں ہر طرح کی صحت و توانائی ہونے کے باوجود نمازیں نہیں پڑھتے تھے اور نماز کے لئے دعوت دینے والوں اور پکارنے والوں کی بات نہیں سنتے اور نہیں مانتے تھے وہ ہر چند چاہیں گے کہ کسی طرح سجدہ کر سکیں لیکن اس وقت ان کی کمریں تختے کے مانند کردی جائیں گی اور وہ سجدہ نہیں کرسکیں گے اس وقت ذلت و خواری کا عذاب ان پر چھا جائے گا ،اور ان کی نگاہیں زمین میں گڑی ہوگی ۔

نماز نہ پڑھنے والوں کے لئے جہنم سے پہلے سرِمحشر رسوائی کا یہ کتنا بڑا عذاب ہوگا ۔ اور اس وقت ان کے دلوں پر کیا گذرے گی ۔رَبَّنَا لَا تُخْزِنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ۔
پورے نظامِ دینی میں نماز کی جو امتیازی حیثیت ہے ، صحابہ کرامؓ نے اس کو خوب سمجھا تھا ۔اس کی بنیاد حضرت فاروقِ اعظم ؓنے اپنے عہدِ خلافت میں اسلامی قلمرو کے تمام عمال (صوبوں کے اعلیٰ افسران)کو ایک خاص گشتی فرمان لکھا تھا ۔"ان اھم امور کم عندی الصلوٰۃ من حفظھا و حافظ علیھا حفظ حفظ دینه و من ضیعھا فھو لما سواھا اضیع" (مؤطا امام مالک ؒ)
 تمہارے کاموں میں میرے نزدیک سب سے زیادہ مہتم بالشان کام نماز ہے جس نے کماحقہ اس کی حفاظت کی اس نے اپنے پورے دین کی حفاظت کرلی اور جس نے نماز کو ضائع کیا تو وہ دین کے دوسرے کاموں کو اور زیادہ برباد کردے گا "۔ 
حضرت فاروقِ اعظمؓ کے اس ارشادِ مبارک سے معلوم ہوا کہ نماز ہی پوری زندگی جانچنے کے لئے میزان اور معیار ہے ، جس شخص کی نماز جتنی اعلیٰ ہوگی اس کی باقی زندگی بھی اسی قدر بہتر ہوگی ۔ اور جو شخص نماز میں جتنا کوتاہ اور ناقص ہوگا اس کی بقیہ دینی زندگی میں بھی اسی بقدر نقصان ہوگا ۔

٣)حل(اہم ترین): آپ کی نظر میں اس مسئلے کا حل کیا ہے ؟ ہم عوام کو ، نوجوانوں کو مسجد کی طرف واپس کیسے لاسکتے ہیں ؟
ہماری نظر میں عوام کو ، نوجوانوں کو مسجد کی طرف واپس لانے کے لئے چند طریقے ہیں ۔
" اگر ہم واقعی چاہتے ہے کہ ہماری مساجد آباد ہو اور عوام ،نوجوان نسل نماز سے جُڑ جائے ،مساجد سے ان کا گہرا تعلق قائم ہوجائے تو ہمیں نصیحت کے ساتھ ساتھ اپنا رویّہ ،ماحول اور طرزِ فکر بھی بدلنا ہوگا ۔ جس طرح ہم دعوت و تبلیغ کا کام کرتے ہیں اسی طرح لوگوں کو مساجد سے جوڑنے کے لئے مسلسل صبر کے ساتھ نماز کی دعوت دینا ہوگی ۔ ایک بڑے مقصد کے تحت عوام کو مساجد سے جوڑنے کی تحریک چلانا ہوگی ۔ عوام ایک دو دن کے بیان سے مساجد سے کبھی جڑ نہیں سکتے ۔ اس لئے عوام پر مسلسل (دعوتِ نماز کی )محنت کی ضرورت ہے ۔امام صاحب لوگوں کو نماز و جماعت کی فضیلت بتائیں ، عوام کو بتائے کہ نماز بوجھ نہیں ہے ، نماز سہارا بناکر پیش کرے ، عوام کو بتائے کہ نماز ناکامی میں کندھا ہے ، نماز ذہنی دباؤ کا علاج ہے ، یہ باتیں سچے قصے ،مثالوں اور تجربوں سے سمجھائیں ٗ فتوے سے نہیں ۔ سائنس اور نماز کی حکمتیں بتائیں ‌۔ عوام کا جماعت کے ساتھ جذباتی تعلق پیدا کرے کہ جماعت تنہائی ختم کرتی ہے ، مسجدیں خاندان بناتی ہے ، باجماعت نماز کی اہمیت بتائے کہ باجماعت سے بے شمار دینی و ملّی مصلحتیں وابستہ ہیں ، باجماعت نماز انفرادی (تنہا) نماز سے 27/ستائیس درجے افضل ہے ، حدیث میں آتا ہے کہ " حضرت عبداللّٰہ بن عمرؓفرماتے ہیں :رسول اللّٰہ ﷺ نے فرمایا با جماعت نماز پڑھنا تنہا نماز پڑھنے کی بہ نسبت ستائیس درجے افضل ہے ۔ ( رواه البخاری باب فضل صلاة الجماعة: 645)۔ بے شمار برکتوں کا ذریعہ ہے ۔ باجماعت نماز اسلام کی پہچان ، ایمان کی روشن دلیل ہے ۔ عظیم الشان اسلامی شعار اہلِ اسلام کی شان و شوکت بڑھانے والی انھیں بلند و بالا مقام اور درجۂ کمال پر پہچانے والی عبادت ہے ۔ باجماعت نماز پڑھنے کے احکام بتائے کہ باجماعت نماز پڑھنا کتنا اہم فریضہ ہے کہ " بعض کے نزدیک باجماعت نماز پڑھنا واجب ہے اور بعض نےسنّتِ مؤکدہ کہا ہے "۔ 
نوجوانوں کو ذمّہ داری دیں جیسے صفیں درست کرنے کی ، مائیک ، اذان ، صفائی ، سوشل میڈیا پیچ مسجد ، جس سے ان میں جذبہ پیدا ہوگا ۔ ہفتے میں ایک دن نوجوانوں کی نشست لگائے بیس تیس منٹ کی جس میں ان سے سوال و جواب کرے ،وحقیقی مسائل ، موبائل گناہ ،کیریئر ، نکاح وغیرہ ۔ یہ نشست حکم نہیں بلکہ ان کے لئے رہنمائی ہو ۔گھر سے مسجد تک والدین کا کردار یہ ہو کہ بچوں کو نماز کے لئے مارے نہیں ان کو مسجد ساتھ لے کر جایا کرے تاکہ وہ مسجد کے عادی بنے، تو جوانی میں مشکلات پیدا نہیں ہوتی ہے ۔ مسجد کا سخت ماحول جیسے ڈانٹ ڈپٹ ، ذلیل کرنا ، سوال کرنے پر روک ، یہ چیزیں نوجوانوں کو نئے نمازیوں کو مسجد سے دور کرتی ہے ۔ نمازی بندہ جب جھوٹ بولے ، دھوکہ دے ، بداخلاق ہوتو لوگ کہتے ہیں نماز پڑھ کر بھی یہی حال ہے ؟ تو یہ باتیں بھی لوگوں کو مسجد سے دور کرتی ہے ۔ یا یہ کہ محلہ کی سطح پر ذمہ دار لوگوں کا نماز کا دعوتی گروپ ہو ۔ جو لوگوں کو مسجد و نماز سے جوڑنے کا عملی کام کرتا ہو ۔ یہ کام ناممکن اور مشکل ہے ہمارے ہندوستان میں چونکہ یہ اسلامی ملک نہیں ہے ۔ لیکن اس پر عمل درآمد ہوتو ، ہوسکتا مسلسل محنت کے بہتر نتائج حاصل ہو ۔ دعوتی گروپ کا انقلابی طریقہ اس طرح ہوکہ نوجوان ہر دن گشت کے ذریعے نماز کی دعوت دیں جس میں فضائلِ نماز و وعید وغیرہ کا ہر روز ذکر کرکے اپنی بات دل و دماغ میں اتارے ۔ تو یہ محنت لوگوں میں بدلاؤ لا سکتی ہے ۔ لیکن اس پر کام کرنے والے افراد اپنائیت سے ، محبت سے ، بغیر تحقیر کے اس کام کو انجام دیں تو نماز کی دعوت دل میں اترتی ہے ۔ یہ کام زبردستی ، تحقیر ، طنز سے خالی ہو ۔ مسکرا کر دعا کے ساتھ ہو ، نرمی ، تسلسل اور اخلاص پر قائم ہو ۔اگر دعوت الٰی الصَّلٰوة میں یہ چیزیں نہ ہوئی تو دعوت نفرت میں بدل سکتی ہے ۔ مساجد کو آباد کرنے کی فضیلت بتائیں تاکہ لوگ مسجد سے رغبت کرے جیسا کہ : ایک حدیث میں ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ سات قسم کے لوگوں کو اُس دن اپنی رحمت کا سایہ عنایت فرمائیں گے جس دن اس کے سایے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا ، ان سات قسم کے لوگوں میں ایک شخص ہے :
رجل قلبه معلق فی المساجد ۔
مسجد سے نماز سے فارغ ہوکر جانے بعد بھی واپس آنے تک اس کا دل مسجد ہی میں اٹکا رہتا ہے ۔(متفق علیہ بخاری :٦٦٠/١/٩١) اور بھی بہت سی فضیلتیں ہے جس سے نوجوانوں اور عوام کے قلوب کو بیدار کر سکتے ہے ۔ 
اخیر میں ہم پھر بیان کرتے ہے کہ " اپنی اُمّت کو رسول اللّٰہ ﷺ کی آخری وصیت "
رسول اللّٰہ ﷺ نے اس دنیا سے جاتے جاتے بار بار امت کو نماز کی وصیت اور تاکید فرمائی ہے یہاں تک کی ایک صحیح روایت کے مطابق آخری الفاظ جو آپ ﷺ کی زبانِ مبارک سے بار بار نکلے وہ یہی تھے کہ :
"الصلوٰۃ و ماملکت ایمانکم الصلوٰۃ و ماملکت ایمانکم"
"دیکھو!نماز کو مضبوطی سے تھامے رہنا اور غلاموں باندیوں کے ساتھ حسنِ سلوک کا خیال رکھنا ۔" 
وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ أَوَّلًا وَآخِرًا، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى نَبِيِّهِ الْكَرِيمِ