ان الصلاه تنهى عن الفحشاء والمنكر
بے شک نماز بے حیائی اور برے کاموں سے روکتی ہےاسی لیےاسلامی عبادات میں نماز کو جو امتیازی مقام حاصل ہے، وہ کسی اور عبادت کو نصیب نہیں۔ یہ واحد عبادت ہے جو بندے کو براہِ راست اس کے رب سے جوڑ دیتی ہے۔ اسی عظمت کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے نماز کی فرضیت زمین پر نہیں بلکہ اپنے محبوب نبی کریم ﷺ کو شبِ معراج پر بلا کر عطا فرمائی۔ یہ واقعہ خود اس حقیقت کو بیان کرتا ہے کہ نماز اللہ کے نزدیک کس قدر بلند مرتبہ رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نماز صرف امتِ محمدیہ پر ہی نہیں بلکہ تمام سابقہ امتوں پر بھی فرض کی گئی، کیونکہ یہ عبادت انسان کے ظاہر کو بھی سنوارتی ہے اور باطن کو بھی۔
رسولِ اکرم ﷺ نے نماز کی حقیقت کو ایک جملے میں یوں واضح فرمایا:
اسلام اور کفر کے درمیان فرق کرنے والی چیز نماز ہے"
یعنی نماز ایمان کی پہچان ہے۔ جو شخص اسے مضبوطی سے تھام لیتا ہے وہ اپنے دین کو محفوظ کر لیتا ہے، اور جو اس سے غفلت برتتا ہے وہ اپنے ایمان کی بنیاد کو ہلا دیتا ہے۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں آتا ہے کہ جب نماز کا وقت قریب ہوتا تو آپ کے چہرے کا رنگ بدل جاتا۔ جب اس کی وجہ پوچھی گئی تو فرمایا:
یہ وہ امانت ہے جسے آسمانوں، زمین اور پہاڑوں نے اٹھانے سے انکار کر دیا تھا، اور اسے انسان نے قبول کیا۔
یہ بات عیاں کرتی ہے کہ نماز کوئی معمولی فریضہ نہیں بلکہ ایک بھاری ذمہ داری ہے جس کے ذریعے انسان اللہ کے قریب ہوتا ہے۔
نماز درحقیقت تمام عبادات کا نچوڑ ہے۔ اس میں حج کی کیفیت ہے، کیونکہ بندہ اپنے رب کے حضور کھڑا ہو کر عاجزی اختیار کرتا ہے۔ اس میں روزے کی روح ہے، کیونکہ وہ دنیا سے کٹ کر اللہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ اس میں زکوٰۃ کی پاکیزگی ہے، کیونکہ یہ دل کو بخل اور غفلت سے صاف کرتی ہے۔ اس میں قربانی کا جذبہ ہے، کیونکہ انسان اپنی نیند، آرام اور خواہشات کو چھوڑ کر اللہ کے سامنے جھکتا ہے۔ یہی وجہ ہے حدیث شریف میں نماز کو دین کا ستون کہا گیا ہے۔
اس کے باوجود یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ آج کا نوجوان نماز سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ اسے صرف یہ بتایا جاتا ہے کہ نماز پڑھنے پر ثواب اور چھوڑنے پر گناہ ہے، مگر یہ نہیں بتایا جاتا کہ نماز اس کی زندگی کو کس طرح بدل سکتی ہے۔ نوجوان یہ نہیں جانتے کہ نماز دل کو سکون دیتی ہے، اضطراب کو ختم کرتی ہے، ذہنی دباؤ کو کم کرتی ہے اور روح کو نئی طاقت عطا کرتی ہے۔ جو نوجوان تھکا ہوا، پریشان یا مایوس ہوتا ہے، اگر وہ سجدے میں جائے تو اسے وہ راحت ملتی ہے جو دنیا کی کسی چیز میں نہیں۔
اسی طرح یہ بھی کم بتایا جاتا ہے کہ نماز جنت کا راستہ ہے۔ وہ جنت جس میں نہ کوئی خوف ہے، نہ غم، نہ تھکن، بلکہ دائمی خوشی اور اللہ کی رضا ہے۔ نماز وہ کنجی ہے جو ان نعمتوں کے دروازے کھولتی ہے۔ دوسری طرف بے نمازی کے لیے قرآن و حدیث میں سخت تنبیہات بھی آئی ہیں، مگر صرف ڈر ہی کافی نہیں ہوتا۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم نوجوانوں کے سامنے اللہ کو صرف سزا دینے والا بنا کر پیش کرتے ہیں، جبکہ اللہ تعالیٰ محبت کرنے والا، معاف کرنے والا اور اپنے بندوں کو گلے لگانے والا رب ہے۔ اللہ اپنے بندے کو دشمن نہیں بلکہ قریبی دوست سمجھتا ہے۔ نماز اسی دوستی کا سب سے خوبصورت اظہار ہے۔ جب بندہ سجدے میں جاتا ہے تو وہ اپنے رب سے بات کرتا ہے، اپنی غلطیوں کا اعتراف کرتا ہے، اپنی امیدیں بیان کرتا ہے اور اپنے دل کا بوجھ ہلکا کر دیتا ہے۔
نماز دراصل اللہ سے مکالمہ ہے، شکایت کا دروازہ ہے، معافی کی کنجی ہے اور رحمت حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے کو لوٹنے نہیں دیتا، بلکہ اپنی رحمت سے ڈھانپ لیتا ہے۔ اگر نوجوانوں کو یہ احساس ہو جائے کہ نماز ان کے رب کی محبت کا دروازہ ہے تو وہ خود مسجد کی طرف دوڑیں گے۔
جب انسان یہ سمجھ لے کہ وہ ہر سجدے میں اپنے رب کے قریب ہو رہا ہے، ہر دعا میں اپنی تقدیر سنوار رہا ہے اور ہر رکعت میں اپنی روح کو زندگی دے رہا ہے، تو نماز بوجھ نہیں بلکہ سب سے بڑی نعمت بن جاتی ہے۔
نوجوانوں کو مسجد کی طرف لانے کا اصل طریقہ یہ ہے کہ ہم انہیں اللہ کے عذاب سے زیادہ اس کی محبت دکھائیں، اور نماز کو خوف نہیں بلکہ قربت کا راستہ بنا کر پیش کریں۔ کیونکہ جب دل اللہ سے جڑ جائے، تو قدم خود بخود مسجد کی طرف اٹھنے لگتے ہیں۔خر میں ہمیں یہ بات گہرائی سے سمجھ لینی چاہیے کہ نماز کوئی رسمی عبادت نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندے کے لیے ایک کھلا ہوا دروازہ ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جب زمین پر کھڑا ایک کمزور انسان آسمان کے رب سے براہِ راست جڑ جاتا ہے۔ جس دن نوجوان یہ سمجھ جائے کہ مسجد صرف عبادت گاہ نہیں بلکہ دلوں کا شفا خانہ ہے، روحوں کا مرکز ہے اور زندگی کو سنوارنے کی سب سے بڑی جگہ ہے، اس دن اس کے قدم خود بخود مسجد کی طرف بڑھنے لگیں گے۔
اگر ہم اپنی نئی نسل کو یہ احساس دلا دیں کہ نماز اللہ کی طرف سے دی گئی سب سے قیمتی ملاقات ہے، جس میں رب اپنے بندے کو توجہ سے سنتا ہے، اس کی غلطیوں کو معاف کرتا ہے اور اس کے مستقبل کو بہتر بناتا ہے، تو کوئی طاقت نوجوانوں کو سجدے سے دور نہیں رکھ سکتی۔