قطع رحمی یعنی خونی رشتوں کو توڑنا اور عزیز و اقارب سے بدسلوکی کرنا اسلام میں ایک انتہائی سنگین اور گناہِ کبیرہ ہے
جس کی مذمت قرآن و حدیث میں کثرت سے آئی ہے اور اسے اللہ کی رحمت سے دوری کا سبب قرار دیا گیا ہے
کیونکہ انسانی معاشرے کی بنیاد خاندان اور رشتوں پر قائم ہے اور جب کوئی شخص اپنے قریبی رشتہ داروں سے تعلق ختم کرتا ہے تو وہ نہ صرف ایک سماجی برائی کا مرتکب ہوتا ہے بلکہ اللہ کے حکم کی کھلی نافرمانی بھی کرتا ہے
اور قرآن مجید میں ایسے لوگوں پر لعنت بھیجی گئی ہے جو زمین میں فساد پھیلاتے اور رشتوں کو کاٹتے ہیں
جبکہ نبی کریم ﷺ نے واشگاف الفاظ میں فرمایا ہے کہ قطع رحمی کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا جس سے اس گناہ کی ہولناکی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے
اور یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ صلہ رحمی یعنی رشتوں کو جوڑنے سے عمر اور رزق میں برکت ہوتی ہے جبکہ رشتوں کو توڑنے سے انسان ان تمام برکات سے محروم ہو جاتا ہے اور دنیا میں بھی ذلت و رسوائی اس کا مقدر بنتی ہے کیونکہ جو شخص اپنے خون کے رشتوں کا وفادار نہیں ہو سکتا وہ معاشرے کے کسی دوسرے فرد کے لیے بھی مخلص نہیں ہو سکتا۔
اکثر اوقات لوگ انا پسندی، معمولی مالی تنازعات یا غلط فہمیوں کی بنیاد پر برسوں پرانے تعلقات ختم کر دیتے ہیں حالانکہ اسلام ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ اصل صلہ رحمی یہ نہیں کہ جو آپ سے ملے آپ اس سے ملیں
بلکہ اصل کمال یہ ہے کہ جو آپ سے تعلق توڑے آپ اس سے تعلق جوڑیں اور جو آپ پر ظلم کرے آپ اسے معاف کر دیں تاکہ اللہ کی رضا حاصل ہو سکے اس لیے ہمیں چاہیے کہ اپنے دلوں کو کینہ اور حسد سے پاک رکھیں اور چھوٹی چھوٹی باتوں کو درگزر کر کے اپنے
رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک کریں
کیونکہ رشتوں کی مضبوطی ہی میں ہماری دنیاوی سکون اور اخروی نجات پنہاں ہے اور اس گناہ سے سچی توبہ کر کے ٹوٹے ہوئے تعلقات کو بحال کرنا ہی ایک سچے مومن کا شیوہ ہے تاکہ ہم اللہ کے غضب سے بچ سکیں اور اس کی رحمتوں کے سائے میں زندگی گزار سکیں۔