انسانی زندگی کی اصل کامیابی مادی آسائشوں اور دنیاوی ترقی میں نہیں بلکہ روحانی سکون،اخلاقی بلندی اور رب کائنات کی رضا میں پوشیدہ ہے، دین اسلام چونکہ ایک آفاقی دین ہے اور مکمل ضابطۂ حیات ہے، جو انسان کی اجتماعی، انفرادی، روحانی اور اخلاقی زندگی کی طرف رہنمائی کرتا ہے، دین اسلام کی تعلیمات میں عبادات کو بنیادی حیثیت حاصل ہے کیونکہ عبادات کے ذریعے ہی انسان خالق کائنات سے قریب ہوتا ہے ، حکمتِ الہی اور شریعتِ ربانی نے اس کے لیے جو طریقہ اختیار کیا ہے وہ اَیک بلند منتہا کی طرف تدریج و تسہیل کے ساتھ بڑھنے کی معجزانہ مثال ہے، معراج میں پچاس (۵۰)نمازیں فرض کی گئیں، پھر اس کو کم کر کے پانچ نمازوں کو لایا گیا اور قرآن مجید سے نماز کے فرض ہونے اور اور تمام عبادات میں سب سے اول اور بہترین عبادت قرار دیا گیا ہے۔۔
اللہ رب العزت نے نمازوں کو ان کے اوقات کے ساتھ دن اور رات میں پانچ نمازوں کو فرض کیا ہے، اور انکا اپنے وقت مقررہ میں ادا کرنا ہر عاقل اور بالغ مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے، اور یہ ان پر ہر حال میں ہر صورت میں اور جگہ فرض ہے خواہ صحت مند ہوں یا بیمار ہوں، سفر میں ہوں یا حضر میں ہو حتی کہ حالت جنگ میں بھی نماز کو فرض کیا گیا ہے، البتہ نماز کی ادائیگی اور رکعات میں کچھ تخفیف اور رعایت کا حکم ہے۔ 
 دور موجود اس اہم عبادت کو بہت آسانی کے ساتھ ترک کیا جا رہا ہے کہ ہر ایک فرد آہستہ آہستہ اس بلا کے زیراثر آتا جارہا ہے، اور یہ معاشرے میں ایک طاعون کی طرح پھیلتا جا رہا ہے اور لوگ ترک صلاۃ کو. ایک معمولی شئے سمجھنے لگے ہیں،حال یہ ہے کہ جس طرح قرون اولٰی میں نماز کو اہمیت حاصل تھی اور جس طرح اسلاف امت کے یہاں نماز اور تکبیر اولٰی کو اہمیت حاصل رہی دور جدید میں معاشرے نے نماز کو ان ترجیحات سے نکال دیا ہے، جب نماز کو ترجیحات سے نکال دیا گیا تو تمام تر عبادات متاثر ہو نے لگی 
اسی طرح انسانوں کو اللہ رب العزت نے جس طرح کا طرز زندگی سکھایا تھا کہ ”وَجَعَلۡنَا الَّیۡلَ لِبَاسًا ﴿ۙ۱۰﴾ وَّ جَعَلۡنَا النَّہَارَ مَعَاشًا ﴿﴿۪۱۱﴾“آیت مبارکہ کی رو سے دیکھا جاۓ تو دن کام کے لیے اور رات کو آرام کے لیے بنایا گیا ہے، جبکہ معاشرۂ انسانی نے اس بالکل الٹا کردیا ہے وہ رات کامیابی کی تلاش میں ہوتے ہیں اور دن کو نمازوں کو ترک کر کے آرام و تفریح کر رہے ہو تے ہیں اور بالعکس کچھ جو دن میں کام کرتے ہیں مگر اپنے طرز زندگی میں اتنے مگن ہوتے ہیں کہ ان کو اوقات نماز غیر موزوں معلوم ہوتے ہیں، اور نماز موخر ہوتے ہوتے ترک ہو جایا کرتی ہے۔
معاشرے میں بے نمازیوں کا رجحان کچھ اس طرح بھی بڑھنا شروع ہو جاتا ہے کہ زندگی کا مقصد حقیقی کامیابی(رضاۓ الہی) سے ہٹ بکر مادی کامیابی تک محدود ہو جاۓ، اور عبادات اولین فریضہ نہ ہو کر ثانوی فریضہ بن جاۓ۔ 
چوں کہ ترک صلاۃ معاشرے کے لیے ایک بڑا اہم مسئلہ ہے تو اس کے چند اسباب بھی زیر نظر رہیں، (١)اولاً عصر حاضر میں مسلم معاشرے میں دینی ہم آہنگی کی بہت کمی ہے، شریعت اسلامی کا علم نا ہونا، نماز جیسی عظیم عبادت کی فرضیت اور اس کی اہمیت سے نا آشنا ہونا ، جس کی وجہ سے معاشرے میں بے نمازی بڑھتے جارہے ہیں۔ (۲)ثانیاً مسلم معاشرے میں وہ طبقہ جو ایک حد تک مغربی تہذیب کے پیروکاروں کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا ہو، ان کا نظام تعلیم مغربی تہذیب کے طرز پر ہو ان کا طریقہ کاروبار مغربی تہذیب سے متاثر ہو اور یہاں تک ان کا طرز زندگی بھی مغربی تہذیب سے متاثر ہوا ہو، چونکہ انسانی فطرت ہے کہ وہ ماحول سے تاثر لیتا ہے نتیجتاً اس طبقہ میں بھی نماز کو چھوڑ دینے کی عادت پڑتی جاتی ہے اور یہی عادت ان کو تارکینِ صلاۃ کا لقب دے دیتی ہے۔ 
(۳)ثالثاً مسلم معاشرے میں بالخصوص نوجوانوں میں دینی تربیت کا فقدان ، اہل اللہ سے دوری اور علماء کرام سے لاتعلقی ، مساجد و مدارس سے بے رغبتی بھی ترک صلاۃ کے اسباب میں سے ہیں، ساتھ ہی سوشل میڈیا کا بےجا استعمال ،بے وجہ دیر رات تک قہوہ خانوں ، چوک چوراہوں پر شب بیداری کرنا معاشرے میں نماز کو چھوڑنے والوں کی کثرت کس اسباب ہیں۔ 
جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ جس طرح نماز پڑھنا قرب الہی کا ذریعہ ہے اور عذاب جہنم سے بچاتا ہے ، اسی طرح نماز نہ پڑھنا اللہ کے غصہ اور جہنم کی آگ کو دعوت دینے کا ذریعہ ہے۔
واضح رہے کہ مسلمان بے نمازی کب کہلاتا ہے؟ جس طرح ایک نماز کے پڑھنے سے انسان نمازی نہیں کہلاتا اسی طرح ایک نماز کے چھوٹ جانے سے انسان بے نمازی نہیں کہلاتا۔ ہاں! نماز کا عادی نمازی اور نماز چھوڑنے کا عادی بے نمازی کہلاتا ہے۔ حدیث مبارکہ میں ہے ” مَنْ تَرَكَ الصَّلاَةَ مُتَعَمِّداً فَقَدْ كَفَرَ جِهَاراً“ کہ نماز کو جان بوجھ کر چھوڑنے والا کفر کا مرتکب ہے، یعنی اگر نماز جان بوجھ کر نا چھوڑی جاۓ بلکہ چھوٹ جاۓ تو قضا کی جا سکتی ہے 
احادیث مبارکہ میں کئی جگہ تارکینِ صلاۃ کے لیے وعیدیں آئیں ہیں، الغرض جتنے نقصانات ذکر کیے جائیں کم ہونگے ، امت مسلمہ کا یوں تنزلی کا شکار ہونا اور پر کشیدہ حالات کا آنا ترک صلاۃ کے ہی آثار میں سے ہیں کیونکہ نماز صرف ایک دینی فریضہ نہیں بلکہ دین کے ستونوں میں سےایک ستون ہے، جدید سائنسی تحقیقات کے مطابق نماز میں ہونے والی حرکات و سکنات انسانی جسم اور انسانی ذہن کے لیے بہت فائدہ مند ہے، انسانی ذہن صحت مند اور پر سکون ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ غیر مذاہب قوموں میں ذہنی تناؤ کا شکار ہونا عام ہوتا جا رہا ہے،وہ اپنی ذہنی صحت کے لیے یوگا اور دیگر ورزشوں کا سہرا لیتے ہیں، اور ایسے ہی کچھ اثرات تارکینِ نماز پر بھی ہوتے ہیں، نماز کے چھوڑنے سے انسان کے اندر ایمان کی کمزوری، غفلت اور نفسانی خواہشات کی پیروی کا بھی غلبہ ہوتا جاتا ہے 
معلوم ہوا کہ جس طرح نماز پڑھنے کے فوائد ہیں اسی طرح نماز نہ پڑھنے سے مزید منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں 
نماز چونکہ ایک اہم فرض ہے اور اس کو ترک کتنے کا رجحان معاشرے میں بڑھتا جا رہا ہے اور مسلم معاشرہ دیمک زدہ لکڑی کی طرح کمزور ہوتا جارہا ہے، جب معاملہ اتنا سنگین ہوں وعیدیں اتنی سخت ہوں اور معاشرے میں اس کے غیر معمولی اثرات نظر آرہے ہوں تو پھر مسلم معاشرے کو اس بلا سے نکالنے کے لیے کوئی نہ کوئی عملی حل ہونا چاہیے، کیونکہ ان حالات میں صرف نصیحت مؤثر نہیں ہوتی بلکہ تگ و دو بھی ضروری ہوتی ہے، اگر معاشرے میں ان چند باتوں پر عمل درآمد کیا جاۓ تو امید ہے کہ مسلم معاشرے میں پھیلتی ہوئی اس وبا کو روکا جاسکتا ہے (۱) پہلی بات یہ کہ معاشرے میں بالخصوص مسلمان نوجوانوں کو نماز کی فرضیت اور اہمیت کی تعلیم دی جاۓ اور ساتھ ہی قرآن و حدیث میں وارد وہ نصوص جن میں تارکینِ نماز کی سزائیں اور وعیدیں مذکور ہیں ان کا تذکرہ کیاجائے تاکہ مسلمان نوجوانوں کے دل میں شوق نماز پیدا ہو اور ترک صلاۃ پر ان کا دل عذاب سے ڈر جاۓ (۲) دوسری یہ کہ ایسے مراکز کا انعقاد کیا جائے جہاں صرف نصیحت سے کام نہ لیا جائے بلکہ عملی مشق بھی کرائی جاۓ جیسے نشے کی عادت کو ختم کرنے کے لیے نشہ مکتی مراکز بناۓ جاتے ہیں نا کہ صرف نصیحت سے کام لیا جاتا ہے،معاشرے میں تارکینِ نماز کی بڑھتی مقدار نشہ کے پھیلنے سے زیادہ نقصان دہ ہے، (۳) تیسری یہ کہ والدین نیک بنیں اور نماز کے پابند ہوں تاکہ ان کی اولادیں ان سے نماز کی اہمیت کو سیکھیں اور نماز کے پابند بنیں کیونکہ اولاد کے لیے پہلے استاد اور مربی اس کے والدین ہوتے ہیں (٤) چوتھی یہ کہ از خود اپنی طرز زندگی کو کو اوقات نماز کے ساتھ ڈھالیں اور نماز کی فکر کریں ساتھ ہی سوشل میڈیا کے بے جا استعمال سے پرہیز کریں بالخصوص اوقات نماز میں سوشل میڈیا اور غیر ضروری مصروفیات سے دور رہیں 
الغرض اگر درج بالا چند باتوں پر عمل درآمد کیا جاۓ تو معاشرے میں ترک صلاۃ کا بڑھتا رجحان کم کیا جا سکتا ہے اور اسلاف کے دور کی طرح دور حاضر میں بھی مساجد میں نمازیوں کی رونق واپس آ سکتی ہے
ختم شد