سوشل میڈیا پر دین: فائدہ یا نقصان؟
- آج کا انسان اسکرین کے ایک لمس سے دنیا بھر کی خبریں، خیالات اور نظریات حاصل کر لیتا ہے۔ سوشل میڈیا نے فاصلے سمیٹ دیے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا اس قربت نے فہم بھی بڑھایا ہے؟ خاص طور پر جب بات دین کی ہو، تو یہ سوال اور زیادہ اہم ہو جاتا ہے کہ سوشل میڈیا دین کے لیے نعمت ہے یا آزمائش؟
- سوشل میڈیا کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس نے دین کو محدود حلقوں سے نکال کر عام انسان تک پہنچا دیا۔ آج ایک عام مسلمان قرآن کی تلاوت، حدیث کی وضاحت، علماء کے بیانات اور دینی نصیحتیں چند سیکنڈ میں سن اور پڑھ سکتا ہے۔
- بہت سے لوگ ایسے ہیں جن کی زندگی میں دین کی طرف پہلا قدم کسی مختصر ویڈیو، تحریر یا پوسٹ کے ذریعے ہی پڑا۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو سوشل میڈیا دین کی دعوت کا ایک مؤثر ذریعہ بن چکا ہے۔
- لیکن تصویر کا دوسرا رخ بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہی سوشل میڈیا جہاں علم پہنچاتا ہے، وہیں ادھورا، غیر مستند اور جذباتی دین بھی پھیلا دیتا ہے۔
- چند منٹ کی ویڈیو، بغیر سیاق و سباق کے ایک حدیث، یا کسی مسئلے کا آدھا حکم—یہ سب مل کر دین کو آسان نہیں بلکہ مشکوک بنا دیتے ہیں۔ علم کی جگہ جذبات اور تحقیق کی جگہ مقبولیت نے لے لی ہے۔
- ایک اور بڑا نقصان یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر دین اکثر مقابلہ بن جاتا ہے:
- کس کی بات زیادہ سخت ہے؟
- کس کی ویڈیو زیادہ وائرل ہوئی؟
- کس نے دوسرے کو زیادہ “غلط” ثابت کیا؟
- یہ طرزِ عمل دین کے مقصد کے خلاف ہے، کیونکہ دین اصلاح کے لیے آیا تھا، تماشے کے لیے نہیں۔
- اصل مسئلہ سوشل میڈیا نہیں، بلکہ ہماری ترجیحات ہیں۔ اگر سوشل میڈیا کو علم کا دروازہ سمجھا جائے تو یہ فائدہ دیتا ہے، لیکن اگر اسے آخری عدالت بنا لیا جائے تو نقصان یقینی ہے۔ دین کو سیکھنے کے لیے تسلسل، استاد اور صبر چاہیے—جو چند پوسٹس سے حاصل نہیں ہو سکتا۔
- ضرورت اس بات کی ہے کہ:
سیکھنے اور سکھانے میں فرق کو سمجھیں
اور سوشل میڈیا کو ذریعہ رکھیں، مرکز نہ بنائیں
- آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ سوشل میڈیا پر دین نہ مکمل فائدہ ہے، نہ مکمل نقصان—بلکہ ایک آزمائش ہے۔ فائدہ اسی کو ہوگا جو اخلاص، فہم اور احتیاط کے ساتھ اس راستے سے گزرے۔
- دین خاموشی میں سمجھا جاتا ہے،
دانشمندی یہی ہے کہ ہم دونوں کے بیچ توازن قائم رکھیں۔