*عورت پردے میں رہ کر سب کچھ کر سکتی ہے*
عورت تمدن کا زیور ہے معاشرت کی روح ہے،اور قوموں کے اخلاق و ایمان کا پہلا مدرسہ ہے، جب عورت بیدار ہوتی ہے تو نسلیں سنورتی ہیں، جب عورت کردار کی بلندی کو پاتی ہے تو قومیں عروج پاتی ہیں، اور جب عورت اپنا مقام بھول جائے تو معاشرے اپنی پہچان کھو دیتے ہیں.
پردہ عورت کے لیے قید نہیں یہ اس کا وقار ہے اس کی عزت کا ہالہ ہے پردہ عورت کو چھپاتا نہیں، محفوظ کرتا ہے، پردے میں رہ کر بھی عورت وہ سب کچھ کر سکتی ہے جو دنیا کے بڑے بڑے مرد نہ کر پائے، اور کیا بھی زمانہ انکی مثالیں لانے سے عاجز ہے،
عورت نے ہمیشہ پردے میں رہ کر قلم، عقل، تربیت اور ایمان سے انقلاب برپا کیا.
قوموں کو سدھارنے والی عورت ہی تھی، جب ماں نے ایمان سکھایا تو گھر جنت بنا،
جب بہن نے غیرت جگائی تو بھائی فاتح ہوا، جب بیوی نے تقویٰ کی راہ دکھائی تو شوہر ولی بن گیا،
اور جب عورت نے خود کو رب کے لیے وقف کیا تو دنیا نے اُس کے قدموں میں سکون پایا.
اسلام نے عورت کو عزت دی
نبی کریم ﷺ نے فرمایا دنیا ایک متاع ہے اور بہترین متاع صالحہ عورت ہے
یعنی نیکی اور کردار کی عورت سب سے قیمتی سرمایہ ہے،
یہی عورت جب پردے میں رہ کر کام کرتی ہے تو اُس کا اثر نسلوں تک جاتا ہے.
کبھی ہم تاریخ کے ان صفحات کا مطالعہ تو کریں، پردے میں رہ کر کتنا بڑا کام کیا ہے عورتوں نے، دنیا کو بدل کر رکھ دیا عورتوں نے اور دنیا کو ایک پیغام دیا عورت صرف گھر کی ملکہ نہیں بلکے وہ ہر میدان میں ایک عظیم سرمایہ ہے.
کرتے ہیں ذرا تاریخ کا مطالعہ:
ام المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا: تجارت کی دنیا میں عظیم خاتون مگر کردار میں حیاء اور وقار کی مثال، پردے میں رہ کر نبی ﷺ کی نصرت کی اسلام کے ابتدائی دور کی سب سے بڑی محسنہ بنیں، کتنی مدد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمائی پوری دنیا پر عیاں ہے.
بنت پیغمبر اسلام حضرت فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا: پردہ، حیاء، علم اور عبادت کا پیکر اور تاریخ کے صفحات پر ان سے زیادہ با پردہ عورت نہیں ملتی، جنکے پردے کی گواہی سورج چاند ستارے اور کائنات کی تمام اشیاء دیتی ہوئی نظر آتی ہیں، لیکن انہوں نے اولاد کی ایسی تربیت کی جس نے اسلام کا پرچم ہمیشہ بلند رکھا، اور امام حسن و حسین رضی اللہ تعالٰی عنہما اُن کی گود کی تربیت کا نتیجہ ہیں.
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا: علم کی دنیا میں آفتاب و ماہتاب، پردے میں رہ کر ہزاروں احادیث روایت کیں، اور فقہ و تفسیر میں اُن کے شاگرد بڑے بڑے صحابہ تھے،
انہوں نے خواتین کو تعلیم دی اور امت کو علم کی میراث عطا کی یہ عورت ہیں مرد نہیں.
ام المومنین حضرت حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہما: قرآن کے تحریری نسخے کی امینہ، انہوں نے پردے میں رہ کر قرآن کی حفاظت کا فریضہ انجام دیا
آج امت جس قرآن کو پڑھتی ہے، اُس کی ترتیب میں حفصہ کا کردار نمایاں ہے.
ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا: دانش و حکمت کی پیکر
نبی ﷺ کے مشوروں میں ان کی رائے کو وزن دیا جاتا تھا، حدیبیہ کے موقع پر ان کی دانشمندی نے مسلمانوں کو بحران سے نکالا.
حضرت زینب بنت علی رضی اللہ عنہما: کربلا کی خطیبہ پردے میں رہ کر یزید کے دربار میں حق کی آواز بنی، ان کے ایک جملے نے ظلم کی سلطنت کو ہلا کر رکھ دیا، انہوں نے دکھا دیا کہ پردے میں رہ کر بھی عورت میدانِ حق میں مضبوط قلعہ ہوتی ہے.
حضرت رابعہ بصری رحمۃ اللہ علیہا:
تصوف کی مایۂ ناز خاتون، پردے میں رہ کر عبادت، زہد، اور عشقِ الٰہی کی ایسی مثال قائم کی کہ مرد صوفی اُن کے شاگرد بنے، ان کی دعا آج بھی روحوں کو جھنجھوڑ دیتی ہے.
فاطمہ الفہری رحمۃ اللہ علیہا (مراکش): دنیا کی پہلی یونیورسٹی جامعۃ القرویین کی بانی، پردے میں رہ کر تعلیم کا ایسا نظام قائم کیا جو آج بھی قائم ہے، یورپ کے کئی علمی ادارے اسی سے متاثر ہوئے اور سوچنے پر مجبور ہو گئے کے اتنا بڑا کام ایک عورت کے ہاتھ اور آج بھی شرمندہ ہیں.
سیدہ نفیسہ رحمۃ اللہ علیہا
قرآن و حدیث کی ماہر ہزاروں طلبہ نے ان سے تعلیم حاصل کی
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ جیسے عالم ان کے علم سے فیض یاب ہوئے
پردے میں رہ کر بھی وہ امت کی روحانی استادہ بنیں.
فاطمہ بنت عبدالملک رضی اللہ عنہا
خلیفہ عمر بن عبدالعزیز کی بیوی
پردے میں رہ کر شوہر کی پشت پر وہ قوت بنیں جس نے خلافت کو عدل و زہد کا نمونہ بنایا، انہوں نے دنیا کی چمک چھوڑ کر اپنے شوہر کے ساتھ اصلاحِ امت کا بیڑا اٹھایا.
اور بہت سی عورتیں اسلام کے دامن میں ہیں جنکی مثال بیان کرنے سے زمانہ قاصر ہے،کبھی پڑھیں حضرت آسیہ رضی اللہ عنہا کو جو فرعون کی بیوی تھی،پڑھیں کبھی حضرت میمونہ کو اور بہت سی عورتیں ہیں، خدارا آپ بہترین قوم تیار کر سکتی ہو اور اپنے سپنوں کی اڑان اڑ سکتی ہو لیکن مذہب اسلام کے دامن کو صحیح سے پکڑو تو صحیح تم فقط ہاؤس وائف نہیں بلکے ایک بہترین معمار ہو امت کی، آپکا جو دل آتا ہے آپ کرو لیکن شرعی حدود میں رہ کر اور یہ پابندیاں اسلام نے مرد کو بھی رکھی ہیں صرف تمہیں نہیں.
یاد رکھو قومیں ماں کی گود میں بنتی ہیں، ایک نیک ماں ایک صالح نسل پیدا کرتی ہے، اگر عورت تعلیم یافتہ، باحیا اور ایمان دار ہو تو اُس کے شاگرد صرف اولاد نہیں، پوری نسل ہوتی ہے.
عورت کے قدموں تلے جنت اس لیے رکھی گئی کہ وہ تربیت گاہ ہے
وہ قلم سے بھی سکھا سکتی ہے، گود سے بھی، وہ کردار سے بھی رہنمائی کر سکتی ہے، دعا سے بھی، جب عورت اپنی عزت کو پہچان لیتی ہے تو دنیا اُس کے علم، کردار اور دعا سے سنور جاتی ہے.
پردہ عورت کی رکاوٹ نہیں، اس کی طاقت ہے،
یہ عزت کا قلعہ ہے جس کے اندر سے وہ علم، عمل اور خدمت کی روشنی پھیلاتی ہے،
عورت جب اپنی پاکیزگی کے ساتھ دنیا میں قدم رکھتی ہے تو وہ صرف گھر نہیں، پورے معاشرے کو جنت بنا دیتی ہے، پردے میں رہ کر بھی وہ استاد ہے، رہنما ہے، معمار ہے
وہ نسلوں کی معلمہ ہے، اور قوموں کی ضمیر ہے.
کسی نے کیا ہی خوب کہا تھا،
عورت کبھی مریم کبھی حوا کبھی زہراء
عورت ہر دور میں قوموں کو سنوارا.
✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️