پندرہ شعبان کا روزہ نہ رکھنے کا شرعی حکم — کیا آدمی گناہگار ہوتا ہے؟


بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمد للہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علی سید الانبیاء والمرسلین، وعلی آلہ وأصحابہ أجمعین۔

  • ماہِ شعبان اسلامی سال کا ایک بابرکت مہینہ ہے، جس کی فضیلت احادیثِ نبویہ سے ثابت ہے۔ اسی مہینے کی پندرہویں رات کو عوام میں شبِ براءت کے نام سے جانا جاتا ہے، جس کے متعلق مختلف دینی اعمال، خصوصاً روزہ رکھنے کے حوالے سے سوالات پیدا ہوتے ہیں۔

  •  زیرِ نظر تحریر میں یہ واضح کیا جا رہا ہے کہ اگر کوئی شخص 15 شعبان کا روزہ نہ رکھے تو کیا وہ گناہگار ہوتا ہے یا نہیں؟


  • 15 شعبان کے روزے کی شرعی حیثیت
سب سے پہلے یہ اصولی بات ذہن نشین رہنی
 چاہیے کہ 15 شعبان کا روزہ فرض یا واجب نہیں ہے۔

  • شریعتِ مطہرہ میں اس دن کے روزے کو سنتِ مؤکدہ یا لازم قرار دینے کی کوئی صریح اور قطعی دلیل موجود نہیں۔

  • البتہ بعض احادیث میں نبی کریم ﷺ سے شعبان کے مہینے میں کثرت سے روزے رکھنا ثابت ہے، جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ:

  • “میں نے نبی ﷺ کو رمضان کے علاوہ کسی مہینے میں اتنے روزے رکھتے نہیں دیکھا جتنے شعبان میں رکھتے تھے۔”
(صحیح بخاری، صحیح مسلم)

  • اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شعبان میں نفلی روزے رکھنا مستحب ہے، لیکن خاص طور پر صرف پندرہ شعبان کے روزے کو لازم سمجھ لینا درست نہیں۔

  • کیا 15 شعبان کا روزہ نہ رکھنے والا گناہگار ہے؟



  • اس سوال کا صاف اور واضح جواب یہ ہے کہ:
  • ❝نہیں، 15 شعبان کا روزہ نہ رکھنے سے آدمی گناہگار نہیں ہوتا❞
کیونکہ:

  • یہ روزہ فرض نہیں
  • نہ ہی واجب

  • اور نہ ہی سنتِ مؤکدہ

  • لہٰذا جو شخص اس دن روزہ نہ رکھے، اس پر کوئی گناہ لازم نہیں آتا۔

  • روزہ رکھنے کی صورت میں کیا حکم ہے؟


  • اگر کوئی شخص:
  • نفلی عبادت کی نیت سے
  • یا شعبان کے عمومی روزوں کے ضمن میں
  • یا اللہ کی رضا کے لیے
  • 15 شعبان کو روزہ رکھتا ہے تو یہ باعثِ اجر ہے، بشرطیکہ اسے لازم، فرض یا دین کا لازمی حصہ نہ سمجھا جائے۔

  • غلط فہمیوں کی وضاحت


  • یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ:
  • 15 شعبان کے روزے کو چھوڑنے پر گناہ سمجھنا
  • یا روزہ نہ رکھنے والے پر اعتراض کرنا
  • یا اسے دین میں کمی قرار دینا
  • یہ سب غلط فہمیاں ہیں اور شریعت میں ان کی کوئی بنیاد نہیں۔

  • دین میں اصل اصول یہ ہے:
  • جو چیز شریعت نے لازم نہ کی ہو، اسے لازم سمجھنا بھی درست نہیں۔

  • خلاصۂ کلام

  • 15 شعبان کا روزہ نفلی ہے
  • نہ رکھنے پر کوئی گناہ نہیں
  • رکھنے پر اجر و ثواب کی امید ہے
  • لازم یا فرض سمجھنا درست نہیں  

  • دعا 


  • اللّٰہ تعالیٰ ہمیں دین کی صحیح سمجھ عطا فرمائے، افراط و تفریط سے محفوظ رکھے، اور ہماری عبادات کو اخلاص کے ساتھ قبول فرمائے۔
  • آمین یا رب العالمین۔