- کیا شَبِ بَرَات کی رات جاگنا ضروری ہے؟
- اِس بارے میں علماءِ کرام کی تنبیہات
- شَبِ بَرَات کی فضیلت کے بیان کے ساتھ ساتھ یہ بات نہایت ضروری ہے کہ عوام الناس کے درمیان پائی جانے والی بعض غلط فہمیوں کی اصلاح بھی کی جائے۔ ان میں سب سے نمایاں غلط فہمی یہ ہے کہ شَبِ بَرَات کی رات جاگنا فرض یا لازم سمجھ لیا گیا ہے،
- حالانکہ شریعتِ مطہرہ میں اس کی کوئی صریح دلیل موجود نہیں۔ اسی بنا پر علماءِ کرام نے اس مسئلہ پر نہایت واضح اور متوازن تنبیہات فرمائی ہیں۔
- ١. شریعت میں ’’ضروری‘‘ ہونے کا مفہوم:
- اسی لیے علماء فرماتے ہیں کہ:
- ٢. علماءِ کرام کی واضح تنبیہ:
اکابر علماء مثلاً امام نووی، امام ابن تیمیہ، امام ابن قیم رحمہم اللہ اور برصغیر کے اکابر جیسے حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ شَبِ بَرَات کی فضیلت کو مانتے ہوئے اس میں غلو سے بچا جائے۔
- حضرت ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
- ٣. غلط رویّوں پر تنبیہ:
- علماءِ کرام نے خاص طور پر درج ذیل امور سے منع فرمایا ہے:
- اس رات کو لازمی طور پر جاگنے کا عقیدہ رکھنا
- نیند کو گناہ سمجھنا
- جو نہ جاگے اسے گناہ گار یا محروم کہنا
- ثابت نہ ہونے والی مخصوص نمازیں یا طریقے ایجاد کرنا
- حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ فرماتے ہیں:
- ٤. اعتدال کا راستہ — علماء کی ہدایت:
جو شخص اس رات کچھ وقت عبادت کرے، وہ باعثِ اجر ہے
- جو نہ جاگ سکے، اس پر کوئی گناہ نہیں
- اصل مطلوب نیت، اخلاص اور اصلاحِ نفس ہے، نہ کہ محض بیداری
- امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک بھی:
"فضیلت والی راتوں میں عبادت باعثِ خیر ہے، مگر شریعت نے کسی خاص رات کو لازم قرار نہیں دیا۔"
- ٥. خلاصۂ تنبیہ:
- علماءِ کرام کی ان تمام تنبیہات کا خلاصہ یہ ہے کہ:
شَبِ بَرَات کی رات جاگنا ضروری نہیں
اسے فرض یا واجب سمجھنا درست نہیں
عبادت کی اجازت ہے، جبر نہیں
دین میں وہی چیز معتبر ہے جو سنت سےثابت ہو
- شَبِ بَرَات کی رات جاگنے کے بارے میں علماءِ کرام کی واضح تنبیہ یہ ہے کہ اس رات کی فضیلت اپنی جگہ مسلم ہے، مگر اسے لازم سمجھنا، یا اس پر دوسروں کو مجبور کرنا، شریعت کے مزاج کے خلاف ہے۔ اسلام ہمیں اعتدال، اخلاص اور سنت کی پیروی سکھاتا ہے، نہ کہ شدت اور غلو۔