ایپسٹن فائلز کیا ہے ؟؟؟؟


پڑھیں تو سہی ، آپ حیران رہ جائیں گے "

بقلم : مدثر فاروقی ✒️

تاریخ کے دسترخوان پر جب بھی انسانیت کی تذلیل کا تذکرہ ہوگا ، مغرب کی اس موجودہ "مہذب جاہلیت" کا نام سرِ فہرست ہوگا۔

آج ہم جس تہذیب کو روشنی کا منبع سمجھ کر اس کے طواف میں مگن ہیں وہ دراصل ایک ایسا غسل خانہ ہے جس کی بدبو نے آفاق کو آلودہ کر دیا ہے۔ 

جیفری ایبسٹین کی یہ فائلیں محض کاغذ کے ٹکڑے نہیں ہیں ، یہ اس "تہذیبی فرعونیت" کا کچا چٹھا ہیں جو انسانی حقوق کے لبادے میں معصوموں کے لہو سے ہولی کھیلتی آئی ہیں ۔

کیا آپ جانتے ہیں ؟ مارکوئس ڈی ساڈ (Marquis de Sade) کو ؟ 

یہ 18ویں صدی کا ایک فرانسیسی اشرافیہ (Aristocrat) اور مصنف تھا۔ آپ یہ جان کر چونک جائیں گے کہ نفسیات میں استعمال ہونے والی اصطلاح "Sadism" (دوسروں کو تکلیف دے کر جنسی تسکین حاصل کرنا) اسی کے نام سے نکلی ہے۔

 یہ اپنے محل میں غریب عورتوں اور مردوں کو اغوا کر کے لاتا ، انہیں زنجیروں سے جکڑتا اور ان پر وہ تشدد کرتا جس کا ذکر کرنا بھی انسانیت کی توہین ہے۔

 اس کا ماننا تھا کہ "مطلق آزادی" کا مطلب یہ ہے کہ انسان پر کوئی اخلاقی یا مذہبی پابندی نہ ہو ، یہاں تک کہ اسے دوسرے کا قتل یا ریپ کرنے کی بھی آزادی ہو۔

کچھ سمجھے ہیں آپ ؟

سمجھیں تو سہی ، آج کا مغرب جس "آزادی" کا ڈھول پیٹتا ہے ، اس کی نظریاتی جڑیں اسی درندے سے ملتی ہیں۔

کیا آپ جانتے ہیں ؟ پروفومو اسکینڈل (Profumo Affair) کو ؟

یہ 1963 کا واقعہ ہے جس نے برطانوی حکومت گرا دی تھی۔
 یہ ایبسٹین کیس کا ہی قدیم ورژن تھا جہاں سیاست ، جاسوسی اور جنسی استحصال ایک جگہ جمع تھے۔

برطانیہ کا وزیرِ جنگ (John Profumo) ایک ایسی لڑکی (Christine Keeler) کے ساتھ ملوث پایا گیا جو ایک روسی جاسوس کے ساتھ بھی تعلقات میں تھی۔

 اس پورے کھیل کا ماسٹر مائنڈ ایک ڈاکٹر (Stephen Ward) تھا، جو ایبسٹین کی طرح بڑے لوگوں کو "لڑکیوں کی سپلائی" کا کام کرتا تھا۔ وہ بااثر لوگوں کی نجی محفلیں سجاتا اور ان کے جنسی رازوں کو اقتدار کے لیے استعمال کرتا تھا۔ 

جب بھانڈا پھوٹا تو معلوم ہوا کہ لندن کی اعلیٰ ترین اشرافیہ اس گندگی میں ڈوبی ہوئی تھی۔

کچھ سمجھے آپ ؟

کیا آپ جانتے ہیں ؟ جمی ساویل (Jimmy Savile) برطانوی میڈیا کا "ایبسٹین" کو ؟

یہ وہ کیس ہے جو ایبسٹین کے بالکل متوازی ہے۔

 جمی ساویل بی بی سی کا مشہور ترین پریزنٹر اور شاہی خاندان کا قریبی دوست تھا۔
بھیانک انکشاف یہ ہے کہ اس کی موت کے بعد (2011 میں) انکشاف ہوا کہ اس نے 50 سال تک برطانوی اسپتالوں، اسکولوں اور بی بی سی کے دفاتر میں سینکڑوں بچوں اور بچیوں کا جنسی استحصال کیا۔

جی جی ، ٹھیک پڑھا وہی بی بی سی ۔

اور اسی بی بی سی کا "سٹار" جمی ساویل (Jimmy Savile) صرف ایک پریزنٹر نہیں تھا ، وہ بی بی سی کا چہرہ تھا۔ اس نے 1955 سے 2009 تک بی بی سی کی عمارتوں، ڈریسنگ رومز اور اسٹوڈیوز کے اندر معصوم بچوں اور بچیوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنایا۔
 تحقیقات (The Pollard Review) میں یہ ثابت ہوا تھا کہ بی بی سی کے کئی اعلیٰ افسران کو جمی ساویل کی ان حرکات کا علم تھا، مگر انہوں نے ہمیشہ اسے "تحفظ" دیا۔ یہاں تک کہ جب ساویل مر گیا اور ایک تحقیقاتی ٹیم (Newsnight) نے اس کے کرتوتوں پر پروگرام بنانا چاہا، تو بی بی سی کے بڑوں نے وہ پروگرام رکوا دیا تاکہ ادارے کی "ساکھ" نہ گرے۔

سب سے ہولناک بات یہ تھی کہ برطانوی اسٹیبلشمنٹ ، پولیس اور بی بی سی کو سب معلوم تھا لیکن اسے اس لیے تحفظ دیا گیا کیونکہ وہ "بڑا نام" تھا اور چیریٹی (خیراتی کاموں) کا ڈھونگ رچاتا تھا۔

یہ وہی بی بی سی ہے جو پاکستان کے کسی مدرسے یا کسی عالمِ دین پر معمولی سا الزام لگ جائے تو اسے "عالمی خبر" بنا دیتا ہے۔ یہ وہی بی بی سی ہے جو ہمیں "انسانی حقوق" اور "عورت کی آزادی" کا سبق پڑھاتا ہے، مگر اس کے اپنے اسٹوڈیوز پچاس سال تک بچیوں کے ریپ کے لیے استعمال ہوتے رہے اور اس نے اپنے "سٹار" کو بچانے کے لیے حقائق کو دفن کیے رکھا۔

کیا آپ جانتے ہیں ؟ ڈوٹرکس کیس (Dutroux Affair) کو ؟

1990 کی دہائی میں بیلجیئم میں ایک شخص مارک ڈوٹرکس پکڑا گیا جس نے بچیوں کو اغوا کر کے تہ خانوں میں رکھا ہوا تھا۔

 جب تحقیقات ہوئیں تو معلوم ہوا کہ پولیس اور عدلیہ کے اعلیٰ افسران اس نیٹ ورک کو بچا رہے تھے۔ پورے بیلجیئم میں لاکھوں لوگ سڑکوں پر نکل آئے کیونکہ انہیں یقین تھا کہ اس درندگی کے پیچھے ملک کی اعلیٰ ترین سیاسی قیادت ملوث ہے، جس نے تفتیش کو آگے نہیں بڑھنے دیا۔

کیا آپ نے سنی ہیں ؟ چرچ کے تہ خانے اور معصوموں کی چیخیں ؟ (Catholic Church Crisis)

آہ ، کہ مغرب میں مذہب کا سب سے بڑا مرکز "چرچ" بھی اسی غلاظت سے پاک نہ رہ سکا۔
 پچھلی کئی دہائیوں میں امریکہ، آئرلینڈ، فرانس اور جرمنی کے چرچوں میں ہزاروں پادریوں (Priests) کے ہاتھوں بچّوں کے جنسی استحصال کے کیسز سامنے آئے۔
 صرف فرانس میں ایک آزادانہ تحقیقات (Sauvé Report) نے انکشاف کیا کہ 1950 سے اب تک پادریوں نے 3 لاکھ سے زائد بچوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنایا۔

اس کیس میں بھی وہی "ایبسٹین مائنڈ سیٹ" تھا یعنی اوپر کے لوگوں کو سب معلوم تھا مگر وہ مجرم پادریوں کو سزا دینے کے بجائے ایک شہر سے دوسرے شہر منتقل کر دیتے تھے تاکہ "ادارے کی بدنامی" نہ ہو۔

کیا آپ جانتے ہیں ؟ ہالی وڈ کا "ہاروی وائنسٹین" (Harvey Weinstein) اور کاسٹنگ کاؤچ کو ؟

جس ہالی وڈ کی فلموں کو دیکھ کر ہماری نسل "مغربی لائف اسٹائل" کی دیوانی ہوئی اس کا اصل چہرہ 2017 میں بے نقاب ہوا۔ ہاروی وائنسٹین ہالی وڈ کا طاقتور ترین پروڈیوسر تھا (ایبسٹین کی طرح بااثر)۔

 اس نے دہائیوں تک سینکڑوں اداکاراؤں کا استحصال کیا۔
 اس کا طریقہ واردات بھی ایبسٹین جیسا تھا وہ ہوٹل کے کمروں میں میٹنگ کے بہانے بلاتا اور طاقت کے زور پر اپنی ہوس پوری کرتا۔

اس کیس نے یہ بھیی ثابت کیا کہ مغرب میں عورت کی "آزادی" محض ایک نعرہ ہے؛ وہاں آج بھی عورت کو کامیابی کے لیے ان درندوں کے سامنے سے گزرنا پڑتا ہے۔

کیا آپ کے علم میں ہے ؟ آسٹریلوی اسکولوں اور فلاحی اداروں کا گند (Royal Commission Report) 

آسٹریلیا کی حکومت نے ایک رائل کمیشن بنایا جس کی 2017 کی رپورٹ نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔
ا اس رپورٹ کے مطابق آسٹریلیا کے اسکولوں، کلبوں اور یتیم خانوں میں دہائیوں تک بچوں کا منظم استحصال ہوتا رہا۔ ہزاروں متاثرین نے گواہی دی کہ جن اداروں کو ان کی حفاظت کرنی تھی، وہی ان کے شکاری بن گئے۔


مغرب کی یہ درندگی صرف ایبسٹین کے جزیرے تک تھوڑی نا محدود ہے ، بلکہ یہ ان کے کلیساؤں کے تقدس سے لے کر ہالی وڈ کے ایوانوں اور بی بی سی کے اسٹوڈیوز تک ایک سرطان کی طرح پھیلی ہوئی ہے۔

 یہ وہ قوم ہے جس نے آزادیِ نسواں کا ڈھول بجا کر عورت کو ہوس کا مال بنایا اور بچوں کے حقوق کی آڑ میں ان کی معصومیت کا بیوپار کیا۔

 ان کی پوری تاریخ ادارہ جاتی منافقت کی وہ داستان ہے جہاں درندوں کو قانون کا تحفظ حاصل ہے اور مظلوموں کو خاموشی کا کفن پہنا دیا جاتا ہے۔

آج ایبسٹین کی فائلوں سے اٹھنے والی تعفن نے دنیا کے نتھنوں کو جھنجھوڑ دیا ہے ، لیکن کیا یہ کوئی نیا حادثہ ہے؟ کیا یہ غلاظت یکایک آسمان سے ٹپکی ہے؟ نہیں! یہ تو اس زہریلے درخت کا پھل ہے جس کی جڑوں کو مغرب نے صدیوں سے انسانیت کے لہو، عصمتوں کے سودے اور اخلاقیات کے قتلِ عام سے سینچا ہے۔

 جسے ہم "مہذب دنیا" کہتے ہیں، وہ دراصل ایک ایسا قدیم بت خانہ ہے جس کے در و دیوار پر شروع دن سے معصوموں کی چیخیں لکھی ہوئی ہیں۔

وہ ایک ایسا "مقتلِ انسانیت" نکلی جس کے در و دیوار معصوموں کے لہو سے رنگین اور عصمتوں کی چیخوں سے لرزاں ہیں

مغرب کی یہ "مہذب جاہلیت" کوئی اتفاقی حادثہ نہیں نہ ہی یہ ایبسٹین جیسے ناموں کی انفرادی وحشت ہے۔

یہ تو اس زہریلے نظام کا منطقی انجام ہے جس نے "آزادی" کے نام پر ابلیسیت کی چادر اوڑھی اور "عقل" کے نام پر ضمیر کو ذبح کر دیا۔

 جس قوم کی تاریخ استعمار کی خون آشامی سے شروع ہوئی ہو ، جس کے تہذیبی سفر کا پہلا ورق ہی "مارکوئس ڈی ساڈ" جیسے درندوں کے لہو سے رنگا ہو اس کے بطن سے ایبسٹین اور جمی ساویل جیسے ناسوروں کا برآمد ہونا کوئی تعجب کی بات نہیں۔

کیا یہ حیران کن بات نہیں کہ وہ دماغ جو کائنات کے اسرار و رموز حل کرنے کے دعویدار تھے (اسٹیفن ہاکنگ)، وہ شہزادے جو خون کی طہارت کے علمبردار تھے اور وہ صدور جو اقوامِ عالم کے مقدر کے مالک بنے بیٹھے تھے آج وہ سب ایک ہی "گٹر" میں غوطہ زن پائے گئے۔ 

افسوس تو ان فریب خوردہ مصلحین اور دیسی روشن خیالوں پر ہے جو ابھی کل تک ہمیں اس "مہذب فاتح" کے قصیدے سنا رہے تھے۔ وہ جو اسلام کے نظامِ عفت و حیا کو "تاریک خیالی" کہتے تھے آج ان کی زبانیں کیوں گنگ ہیں؟ جب ان کے سائنسی بتوں اور سیاسی خداؤں کے کرتوت ایبسٹین کے جزیرے پر برہنہ ہوئے تو ان کا "انسانی وقار" کہاں روپوش ہو گیا؟

یہ تہذیب جس نے عورت کو "آزادی" کا جھانسہ دے کر اسے بازار کی زینت بنایا ، آج اسی کے سامنے غیسلین میکسویل جیسے کردار کھڑے ہیں۔

 یہ وہ عورت ہے جس نے ثابت کر دیا کہ جب حیا کا رشتہ ٹوٹتا ہے تو عورت ہی عورت کی سب سے بڑی دشمن بن جاتی ہے۔ یہ درندگی ، یہ ہوس ، اور یہ معصوم کلیوں کا استحصال یہ سب اس مغرب کا اصل چہرہ ہے جو اپنی کراہت کو "میڈم ٹوساڈ" کے موم کے پُتلوں کی طرح چمکا کر پیش کرتا رہا ہے۔

 مغرب کی تاریخ تو دراصل ایسی ہزاروں "ایبسٹین فائلوں" سے بھری پڑی ہے۔

جو در اصل اسی "سلسلہِ ابلیسیت" کا وہ ورق ہیں جو آج ہم دیکھ رہے ہیں ۔

مغرب کا سورج غروب ہو رہا ہے اور اس کی آخری شعاعیں اس کی اپنی غلاظت کو بے نقاب کر رہی ہیں اور یہ تہذیب بھی بالآخر اپنے انجام کو پہنچ رہی ہے۔

بقلم: مدثر فاروقی 

ہم اس پر پہر کبھی لکھیں گے انشاء اللہ