بسم اللہ الرحمن الرحیم
نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم 
اعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم 
بسم اللہ الرحمن الرحیم 
ان اللہ لا یغیر ما بقوم حتی یغیر ما بأنفسھم 

میری عزیز بہنوں!
میں اور آپ امت محمدیہ کے افراد میں سے ہیں میں آج آپ کو مختصر اہم باتوں پر التفات دلاؤں گی آپ اس پر اپنے آپ سے ضرور سوال کرنا اللہ تعالی نے اشرف المخلوقات بنا کر وجود بخشا پھر مسلمان کو۔۔۔۔۔سے دنیا میں لایا پھر مسلم گھرانے سے درسگاہ تعلیمات نبوی میں پناہ نصیب فرمائی ان سارے مراحل میں ہم نے کبھی مسلمان کے معنی پر غور کیا؟
 مسلمان کی ذمہ داری پر غور کیا؟
 مسلمان ہونے والے اوصاف پر غور کیا؟
 کیا واقعی ہم اللہ کی یکتائی کو قبول کر رہے ہیں؟
 یا رسم و رواج کی طرح مسلمان پن جتا رہے ہیں؟
 اسلام کا تعلق اللہ سے اللہ کے دربار میں ثابت ہونے ثابت رہنے کے لیے مسلمان ہونے کے احساس کے بقا کے ساتھ ذخیرہ اعمال کرتے رہنا ہے ایک دن پورے نمازاں ادا کر کے کمال تصور کرتے ہوئے ایک ہفتے کی نماز چھوڑ دینا یہ محض بے وقوفی اور گمراہی ہے

 اللہ کی پیاری!
بندیوں اللہ پاک سے رشتہ جوڑے بغیر عبادت،ریاضت،تلاوت،اطاعت نہیں کر سکتیں اگر یہ سب نہیں کر سکتی تو مسلمان پن کیسے باقی رہ پائے گی قرآن و سنت مسلمانوں کا سب سے بڑا شیوہ ہے دل کے ارادے اور ظاہری اعمال اس کے مطابق ہوں تو ہی مسلمان باقی ہے آج میں اور آپ تہذیب و تعلیم سے دور دنیا میں جی رہے ہیں اور ہم علم و ادب سے خالی ہو رہے ہیں پہلے کچے مکان میں بیٹھ کر کچے کان پر ہلکی سی نصیحت دیتے تھے تو وہ دل کے تاروں سے باندھ لیا کرتی تھی، آج اپنے دامن سے بھی نہیں باندھی جا رہی ہے یاد رکھیے سماج اور معاشرے کی اصلاح کے لیے جب بھی قدم اٹھانے کی فکر اور کوشش ہوئی ہو تو اپنے قدم صاف ستھرے انداز میں اٹھانا میلے قدم راستے خراب کر دیتے ہیں
 عمل کی ضو اور علم کی لو لے کر دعا کا جھنڈا پکڑ کر امت کی اصلاح کے طالب بنے قرآن مجید میں اللہ پاک کہتا ہے اہل علم سے مسائل دریافت کرو اہل زبان اہل حق اپنا مزاج بیان کرو تاکہ وہ تزکیہ تصوف و سکوت سے کام کریں ہمارا معاشرہ اخلاق حسنہ کا پیاسا ہے!
ہمارا معاشرہ مخلص عالمات کی تلاش میں ہیں!
ہمارا معاشرہ نرمی و محبت کی تلاش میں ہیں!
ہمارا معاشرہ علم کے طبقے میں سب سے پیچھے ہے!
ہمارا معاشرہ اتحاد سے خالی ہے!
ہمارا معاشرہ اختلافات کی چادر میں پناہ لیے ہیں!
ہمارا معاشرہ اَنا کی تاروں میں جکڑا ہوا ہے!
ہم جب معاشرے میں اصلاح کا کام شروع کریں تو باوضو ہو کر عمل کا جامہ پہن کر محبت کی پلیٹ میں نرمی کا نوالہ لے کر امن کا درس ان کے دل میں ڈالنا ہے! 
معاشرے کی اصلاح سے زیادہ ذاتی اصلاح کی فکر کرنا چاہیے،کلمہ طیبہ کا ورد کرنا چاہیے، درود شریف کا اہتمام کرنا چاہیے، نماز کی پابندی کرنا،روزے رکھ کر اللہ سے تنہائی میں خوب گڑگڑا کر توفیق مانگنا! سیرت صحابہ کو دیکھ کر حضرت عشرۂ مبشرہ کی زندگی پڑھ کر نبی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے تعلیم و تعلم کے میدان میں داخل ہونا ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کی زندگی پڑھ کر جذبات کو سنوارنا چاہیے حضرت حفصہ کا علمی شوق حضرت ام سلمہ کا حدیث کے حاصل کرنے کی حرص صحابیات وہ ہستی ہیں جن کے ذریعے اللہ نے اسلام کی بقا والی خدمت لی 
میری بہنوں! 
عورت کا علم حاصل کرنا ایسے ہی ضروری ہے جس طرح دن میں سورج کا نکلنا ضروری ہے جس طرح بنجر زمین پر بارش کا تقاضہ ہے اسی طرح عورت کا تعلیم حاصل کرنا ضروری ہے!
حضرت عائشہ کا عورتوں کو علم کی دعوت دیتا ہے!
حضرت حفصہ کا علم عورتوں کو علم کی دعوت دیتا ہے!
حضرت خولہ کی بہادری عورتوں کی شجاعت کو پیدا کرتی ہے!
حضرت خنساء کا صبر عورتوں کو صبر کا درس دیتا ہے!
حضرت اسماء کی قربانی عورتوں کو قربانی کا مزاج سکھاتی ہے!
حضرت فاطمہ کی اطاعت عورتوں کو اطاعت کا پلّو پہناتی ہے!
صحابیات اسلام کی اولین شہزادیاں ہیں انہوں نے اسلام کی ولادت سے اسلام کی قیادت تک کا زمانہ دیکھا اور قیامت تک کی حفاظت کے کارنامے انجام دیے ہم عورتوں کو اپنی ذات صفات،صحت،عزت کا خود مضبوط محافظ بننا ہوگا پھر علم کی تحقیق کا جذبہ اور اس کے حصول کی جدوجہد کرنا ہوگا علمی عملی پہلو کو وسیع کرنا ہوگا معاشرہ۔۔۔۔۔۔۔بگاڑنے سے عروج پر نہیں آتا بیٹیاں سدھارنے سے عروج زندگی نہیں گزارتی عورت جو۔ٹھانتی ہے کر دکھاتی ہے
 اللہ پاک ہم سب کو صحابیات کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرما آمین 

وآخر دعوانا ان الحمدللہ رب العالمین