رحمتِ الٰہی کا دروازہ ہمیشہ کھلا ہے - مایوسی سے توبہ تک
بسم اللہ الرحمن الرحیم - مضمون (81)
عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُلُّ بَنِي آدَمَ خَطَّاءٌ , وَخَيْرُ الْخَطَّائِينَ التَّوَّابُونَ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: سارے بنی آدم (انسان) گناہ گار ہیں اور بہترین گناہ گار وہ ہیں جو توبہ کرنے والے ہیں. (سنن ابن ماجہ 4251) 
میرے بھائی! ذرا ٹھہر کر اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر سوچو…
ہم میں سے کون ہے جو گناہوں سے پاک ہو؟ کون ہے جس نے اپنے رب کی نافرمانی نہ کی ہو؟ ہم سب کسی نہ کسی درجے میں خطاکار ہیں، کوتاہ ہیں، غافل ہیں۔ ہم نے اُس رب کو ناراض کیا جو ہمیں ماں سے بڑھ کر چاہتا ہے، جس نے بغیر مانگے ہمیں دیا، جس نے اندھیرے میں بھی ہماری سانسوں کو قائم رکھا، اور جس کی نعمتوں کا شمار ممکن ہی نہیں۔
مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ اتنی نافرمانیوں کے باوجود بھی وہ رب ہمیں دھتکار نہیں دیتا، ہمیں چھوڑ نہیں دیتا، بلکہ اپنے محبوب نبی ﷺ کی زبان سے ہمیں پکار کر کہتا ہے:
قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلٰى أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا
(الزمر: 53)
ذرا غور کرو!
اللہ یہ نہیں کہتا: اے گناہ گارو!
اللہ یہ نہیں کہتا: اے نافرمانو!
بلکہ کہتا ہے: “اے میرے بندو!”
اپنائیت، محبت، شفقت اور رحمت سے بھرا ہوا خطاب…!
یہی تو اللہ کی شان ہے کہ بندہ جتنا بھی گرا ہوا ہو، رب اسے اٹھانے کے بہانے ڈھونڈتا ہے۔ بندہ جتنا بھی دور ہو جائے، رب اسے واپس بلانے کے لئے خود آواز دیتا ہے۔
ہم گناہ کرتے ہیں تو شیطان ہمیں یہ وسوسہ دیتا ہے:
اب تم بہت خراب ہو چکے ہو، اب اللہ تمہیں معاف نہیں کرے گا، اب کیا فائدہ توبہ کا؟
یہی سب سے بڑا فریب ہے!
یہی سب سے خطرناک دھوکہ ہے!
کیونکہ قرآن کہتا ہے:
وَمَن يَقْنَطُ مِن رَّحْمَةِ رَبِّهِ إِلَّا الضَّالُّونَ
(الحجر: 56)
اپنے رب کی رحمت سے صرف گمراہ لوگ ہی ناامید ہوتے ہیں۔
یعنی مایوسی خود ایک گناہ ہے…
رحمت سے بدگمانی خود ایک جرم ہے…
اللہ تو فرماتا ہے:
إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا
اللہ تمام گناہوں کو معاف کر دیتا ہے۔
تمام…!
چھوٹے بھی، بڑے بھی، چھپے بھی، کھلے بھی، پرانے بھی، نئے بھی…
بس شرط ایک ہے:
سچی توبہ، دل سے پلٹنا۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
التائب من الذنب كمن لا ذنب له (سنن ابن ماجہ 4250) 
جو گناہ سے توبہ کر لے، وہ ایسا ہے جیسے اس نے گناہ کیا ہی نہ ہو۔
سوچو!
جیسے سارا ماضی مٹ گیا…
جیسے نئی زندگی مل گئی…
جیسے روح دوبارہ زندہ ہو گئی…
یہ کوئی سرکاری دفتر نہیں جہاں وقت ختم ہو جائے۔
یہ کوئی دنیاوی دروازہ نہیں جو شام کو بند ہو جائے۔
یہ اللہ کا در ہے…
جو تب بھی کھلا ہے جب سب در بند ہو جائیں۔
حدیث میں آتا ہے:
إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَبْسُطُ يَدَهُ بِاللَّيْلِ لِيَتُوبَ مُسِيءُ النَّهَارِ، وَيَبْسُطُ يَدَهُ بِالنَّهَارِ لِيَتُوبَ مُسِيءُ اللَّيْلِ، حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا "،
اللہ رات کو اپنا ہاتھ پھیلاتا ہے تاکہ دن کا گناہگار توبہ کرے،
اور دن کو ہاتھ پھیلاتا ہے تاکہ رات کا گناہگار توبہ کرے،
یہ سلسلہ اس وقت تک رہے گا جب تک سورج مغرب سے طلوع نہ ہو جائے۔(صحیح مسلم 
ترقیم عبدالباقی: 2759) 
یعنی جب تک جان حلق تک نہیں آئی…
جب تک موت سامنے کھڑی نہیں ہو گئی…
تب تک توبہ کا دروازہ کھلا ہے۔
درد بھرا پیغام
میرے بھائی!
کون ضمانت دے سکتا ہے کہ کل کا سورج ہم دیکھ پائیں گے؟
کون کہہ سکتا ہے کہ اگلی سانس ہماری ہو گی؟
کون جانتا ہے کہ آج کی رات ہماری آخری نہ ہو؟
ہم گناہوں پر شرمندہ نہیں،
مگر قبر کے عذاب سے ڈرتے ہیں۔
ہم توبہ میں تاخیر کرتے ہیں،
مگر موت کی جلدی نہیں روک سکتے۔
یہ کیسا دھوکہ ہے اپنے آپ سے؟
اللہ ہمیں بلاتا ہے:
“آ جاؤ… ابھی آ جاؤ… دیر نہ کرو…
میں تمہیں معاف کرنا چاہتا ہوں،
میں تمہیں اپنا بنانا چاہتا ہوں،
میں تمہاری زندگی بدل دینا چاہتا ہوں۔”
مگر ہم کہتے ہیں:
“تھوڑا اور وقت… بس یہ گناہ چھوڑنے کے بعد…
بس حالات ٹھیک ہو جائیں تو…
بس دل بن جائے تو…”
حالانکہ دل توبہ سے بنتا ہے،
توبہ دل بننے کے بعد نہیں آتی۔
آخر میں بس ایک سوال اپنے دل سے کرو:
اگر آج رات موت آ گئی…
تو کیا ہم اللہ سے ملنے کے لئے تیار ہیں؟
اللہ ہمیں دھتکار نہیں رہا،
ہم خود اللہ سے بھاگ رہے ہیں۔
اللہ ہمیں رسوا نہیں کرنا چاہتا،
ہم خود اپنی روح کو زخمی کر رہے ہیں۔
پس میرے بھائی!
ابھی لوٹ آؤ…
ابھی سجدے میں گر جاؤ…
ابھی آنسو بہا دو…
ابھی کہہ دو:
“اے اللہ! میں ہار گیا، میں تھک گیا،
میں نے بہت ظلم کیا،
مگر اب تیرے در کے سوا کہیں نہیں جانا۔”
یقین رکھو…
یہ رب تمہیں خالی نہیں لوٹائے گا۔
یہ رب تمہیں گلے لگا لے گا۔
یہ رب تمہیں اپنا محبوب بنا لے گا۔
کیونکہ وہ خود کہہ چکا ہے:
إِنَّ رَحْمَةً اللَّهِ قَرِيبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِينَ
(الاعراف: 56)
“بے شک اللہ کی رحمت نیک نیت لوگوں کے بہت قریب ہے۔”
اور سب سے بڑی نیکی…
سچی توبہ ہے۔
مگر افسوس!
ہم وہ لوگ ہیں جو مرنے والوں کو دیکھ کر بھی زندہ رہنے کا یقین رکھتے ہیں،
قبرستان سے لوٹ کر بھی دنیا کو آخری سمجھتے ہیں،
کفن کو دیکھ کر بھی لباس کی فکر کرتے ہیں،
اور جنازے پڑھ کر بھی توبہ کو کل پر ٹالتے ہیں۔
ہم آنسو بہاتے ہیں…
مگر گناہ نہیں چھوڑتے۔
ہم ڈرتے ہیں…
مگر بدلتے نہیں۔
ہم اللہ کو مانتے ہیں…
مگر اللہ کے لئے نہیں جیتے۔
کیا پتا جس قبر کے پاس آج ہم خاموش کھڑے ہیں،
کل اسی قبر میں ہماری خاموشی لکھی ہو؟
کیا خبر جس میت پر ہم افسوس کر رہے ہیں،
کل ہمارا نام بھی اسی افسوس کی فہرست میں ہو؟
بس ایک لمحہ…
ایک سجدہ…
ایک ٹوٹا ہوا دل…
اور ایک سچی آہ…
یہی وہ سرمایہ ہے
جو قبر کے اندھیرے میں چراغ بن جائے گا،
اور پل صراط پر سہارا۔
ورنہ ڈر یہ نہیں کہ ہم مر جائیں گے…
اصل ڈر یہ ہے
کہ کہیں ہم توبہ کے بغیر نہ مر جائیں۔
اور ہائے افسوس! وہاں ہمارے پلے
نہ سجدہ ہو، نہ آنسو،
نہ ندامت کی کوئی لرزش،
نہ اللہ کے نام پر جلا ہوا کوئی دل۔
صرف حسرت ہو…
صرف کاش ہو…
صرف وہ وقت یاد آئے
جب دروازہ کھلا تھا
اور ہم نے دستک ہی نہیں دی۔
پھر نہ زبان میں طاقت ہوگی فریاد کی،
نہ آنکھ میں ہمت ہوگی رونے کی،
بس روح چیخے گی:
“کاش! ایک سجدہ اور مل جاتا،
کاش! ایک توبہ اور نصیب ہو جاتی…”
مگر اس دن
کاش کی کوئی قیمت نہیں ہوگی،
کیونکہ وہ دن
عمل کا نہیں…
صرف حساب کا دن ہوگا۔
بقلم محمودالباری
mahmoodulbari342@gmail.com