*سالانہ چھٹی: وقتی جدائی، دائمی رشتے*


آج قاسم العلوم پیپاڑ میں سالانہ چھٹی کا آغاز ہوا ہے۔ بظاہر یہ ایک اعلان ہے، مگر حقیقت میں یہ دلوں کے امتحان کا وقت ہے۔ زبان کہتی ہے: ہم پھر ملیں گے، لیکن دل ماننے سے انکار کر دیتا ہے۔ کیونکہ جہاں محبتیں جڑ جائیں، وہاں جدائی ہمیشہ بوجھل ہوتی ہے—چاہے وہ عارضی ہی کیوں نہ ہو۔
بقر عید کے بعد جب میرا تقرر یہاں ہوا، میں ایک مقصد لے کر آیا تھا، مگر اللہ نے مجھے ایک ایسا ماحول عطا فرمایا جو مقصد سے بڑھ کر رشتہ بن گیا۔ یہاں کا اسٹاف میرے لیے محض ساتھی نہ رہا بلکہ سچے بھائیوں کی طرح بن گیا۔ ایک صف میں کھڑے ہو کر کام کرنے کا سلیقہ، ایک دوسرے کا بوجھ اٹھانے کا جذبہ، اور دل سے دل جڑنے والی محبت—یہ سب قاسم العلوم کی پہچان بن گئی۔
خصوصی طور پر مولانا دل شاد صاحب، قاری عبدالحفیظ صاحب، حافظ احسان صاحب، مولانا عمران صاحب، مولانا رفیق صاحب،مولانا اسجد صاحب اور دیگر تمام معزز اساتذہ و اسٹاف کا میں دل کی گہرائیوں سے شکر گزار ہوں۔ ان حضرات نے جس اخلاص، خلوص اور محبت کے ساتھ میرا ساتھ دیا، وہ میرے لیے باعثِ افتخار بھی ہے اور سرمایۂ حیات بھی۔ ہر مشکل میں تعاون، ہر لمحے میں خیرخواہی، اور ہر بات میں اپنائیت—یہ سب کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔
طلبہ کا تذکرہ نہ ہو تو یہ تحریر ادھوری رہ جائے گی۔ چھوٹے ہوں یا بڑے، سب نے احترام، محبت اور شفقت کا ایسا مظاہرہ کیا کہ دل جھک کر دعا کرنے لگا۔ ان معصوم چہروں، سیکھنے کی لگن، اور خلوص بھری نگاہوں نے اس ایک سال کو یادگار بنا دیا۔
آج جب ہم چھٹی کے لیے رخصت ہو رہے ہیں، تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے جسم جا رہا ہے اور دل یہیں رہ گیا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ ان شاء اللہ پھر ملاقات ہوگی، مگر اس لمحے کی اداسی اس حقیقت کو ماننے سے انکار کر رہی ہے۔ یہ جدائی کمزوری نہیں، بلکہ اس بات کی گواہی ہے کہ یہاں محبت سچی تھی اور تعلق گہرا۔
اللہ تعالیٰ قاسم العلوم پیپاڑ کو ہمیشہ آباد رکھے، اس کے اساتذہ اور طلبہ کو علم و عمل کی دولت سے مالا مال فرمائے، اور ہمیں پھر اسی محبت، اخوت اور مقصد کے ساتھ جمع فرمائے۔ آمین۔

از قلم :✍🏻✍🏻 *برکت اللہ قاسمی عفی عنہ*