جواب دہندہ کے لیے سوال اب بھی قائم ہے
بسم اللہ الرحمن الرحیم.-مضمون (80)
امتِ مسلمہ اس وقت سب سے بڑے فکری اور اخلاقی بحران سے گزر رہی ہے، جو صرف سیاسی یا معاشی نہیں بلکہ دینی انتشار کا بحران ہے۔ اس بحران کی سب سے خطرناک صورت یہ ہے کہ ہم نے دین کی خدمت کو ایک دوسرے کو کافر ثابت کرنے سے جوڑ دیا ہے۔ اختلاف کو برداشت کرنے کے بجائے ہم نے تکفیر کو ہتھیار بنا لیا ہے، اور یہی وہ زہر ہے جو خاموشی کے ساتھ ہماری مساجد، منابر اور دلوں میں سرایت کر چکا ہے۔
یہ تحریر کسی مسلک پر حملہ نہیں، بلکہ ایک ایسے شخص کی فریاد ہے جو اپنے ذاتی مشاہدات اور تجربات کی بنیاد پر خاص طور پر علمائے بریلوی سے یہ سوال کر رہا ہے کہ:
کیا واقعی دین کی خدمت کا یہی واحد طریقہ رہ گیا ہے کہ ہر مختلف سوچ رکھنے والے کو وہابی، گمراہ اور کافر کہا جائے؟
میں خود کئی بار اس تلخ تجربے سے گزرا ہوں کہ مجھے صرف نظریاتی اختلاف کی بنیاد پر وہابی کافر کہا گیا، مجھ پر لعن طعن کیا گیا۔ اپنی مصروفیات کے سبب میں آپ کی تحریر کے تسلسل اور ربط و ضبط کے ساتھ ہم آہنگ نہ ہو سکا، مگر یہ حقیقت بہرحال میرے سامنے بار بار آتی رہی ہے۔
میں بات کو طوالت دینا نہیں چاہتا، مگر ایک بات واضح کرنا ضروری ہے:
جو حضرات میرے سوال کے درد کو محسوس کیے بغیر، وضاحت کے باوجود، گفتگو کا رخ محض اختلافی مناظرے کی طرف موڑ دیتے ہیں، اور کسی مؤثر لائحۂ عمل کے بجائے ہمیں "اپنے گھر کی خبر لینے" کا مشورہ دیتے ہیں، ان سے مودبانہ عرض ہے کہ شاید وہ علمی فہم سے زیادہ جذباتی دفاع میں مبتلا ہیں۔
میری یہ تحریر بغرضِ اصلاح عام ہے - باہر والوں کے لیے بھی اور اپنے مسلک والوں کے لیے بھی۔ مگر میں نے خاص طور پر اہلِ بریلوییت کو مخاطب اس لیے کیا ہے کہ عملی سطح پر سب سے زیادہ شور، سب سے زیادہ وایلا، اور سب سے زیادہ تکفیر کا رجحان آج اہلِ بریلوی حلقوں میں نظر آ رہا ہے:
؛؛ ہم ہی اہلِ حق ہیں، ہم ہی اہلِ سنت والجماعت ہیں، باقی سب گمراہ بلکہ کافر ہیں۔؛؛
یہ جملہ اگر منبر سے مسلسل دہرایا جائے تو یہ دعوت نہیں، بلکہ امت کو توڑنے کا اعلان ہے۔
اختلاف نہیں، سماجی ہم آہنگی درکار ہے
میرے مخلص بھائیو!
میں آپ سے اختلافی جواب نہیں چاہتا۔ میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ کوئی ایسا لائحۂ عمل بتایا جائے جس سے امت کا شیرازہ بکھرنے سے بچ جائے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ:
جن مسائل اور عقائد پر اتفاق ہے، انہیں موضوعِ بحث بنایا جائے۔
عوام کے درمیان اپنے نظریات ضرور پیش کریں، مگر سماجی ہم آہنگی کو فراموش نہ کریں۔
یہ بات عام کی جائے کہ مسجد کسی کی جاگیر نہیں ہوتی۔
مسجد اللہ کا گھر ہے، کسی مسلک یا جماعت کی ذاتی ملکیت نہیں۔
اگر کوئی شخص کلمہ پڑھتا ہے، نماز پڑھتا ہے، قرآن کو مانتا ہے، رسول ﷺ کو نبی مانتا ہے، تو محض فقہی یا اعتقادی اختلاف کی بنیاد پر - جیسا کہ بعض جگہوں پر دیکھا گیا ہے اور خود بندہ کو اس تلخ حقیقت کا سامنا ہوا ہے کہ مسجد سے نکال دیا جاتا ہے. - یہ نہ شرعاً درست ہے اور نہ اخلاقاً۔
رہی بات جواب دہندہ حضرات کی، تو میرے عزیزو! اگر واقعی اکابر کے فتاویٰ کو میزان بنایا جائے تو خود آپ کے جید اور ممتاز علماء، بلکہ بریلوی مکتبِ فکر کے بانی حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کے فتاویٰ اس بات پر شاہد ہیں کہ اہلِ دیوبند اور اہلِ حدیث کو تکفیر سے مستثنیٰ رکھنے کے لیے جو شرائط قائم کی گئی ہیں، وہ محض رسمی نہیں بلکہ نہایت سخت اور فیصلہ کن ہیں۔ مزید یہ کہ انہی شرائط کی جو توضیح و تشریح مولانا شمشاد احمد مصباحی صاحب جیسے اہلِ علم نے کی ہے، وہ اس قدر صریح ہے کہ نتیجہ دو اور دو کی طرح واضح ہو جاتا ہے کہ عملی طور پر کوئی وہابی یا دیوبندی تکفیر سے محفوظ نہیں رہتا۔
اور جن عام افراد کو اس تکفیری حکم سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے، وہ بھی الا ما شاء اللہ اس قدر نادر ہیں کہ حقیقتاً ان کا مل جانا ہی شاذ ہے۔ یوں سادہ اور سیدھی بات کو چھوڑ کر گھما پھرا کر نتیجہ یہی نکالا جاتا ہے کہ اہلِ دیوبند کو بہرحال کافر ثابت کرنا مقصود ہے۔ اس کی وجہ بھی صاف ہے کہ اکثر لوگ کسی نہ کسی درجے میں اپنے اکابر سے قلبی نسبت رکھتے ہیں یا دیوبندی کہلانے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے بلکہ بعض اوقات اسے فخر ہی سمجھتے ہیں۔
اس منطق کے مطابق تو تقریباً پوری عوام - خواہ وہ دیوبندی ہوں، اہلِ حدیث ہوں، جماعتِ اسلامی سے وابستہ ہوں یا کسی اور اصلاحی تحریک سے - سب اس اصولی دائرے سے باہر اور عملاً کفر کے خانے میں ڈال دیے جاتے ہیں۔ اب یہاں یہ سوال لازماً پیدا ہوتا ہے کہ:
کیا یہ واقعی اصلاح ہے، یا پھر ایک خاص فکری نتیجے کو برقرار رکھنے کے لیے علمی تعبیرات کے پردے میں تقیہ اختیار کیا جا رہا ہے؟
اسی لیے تو بار بار سوال اٹھتا ہے:
یہ اصلاح ہے یا تقیہ؟
آج اگر اہلِ بریلوی کے مشہور، با اثر، القاب یافتہ خطیبوں کے بیانات سامنے رکھے جائیں - مثلاً ہاشمی میاں جیسے حضرات کے خطابات - تو منبر و محراب خود شرمندہ ہو جائیں۔ اس طرح کے بیانات کو نظر انداز کرنا علمی دیانت نہیں بلکہ مذہبی سیاست ہے۔ حوالہ کے لیے قاری خود تلاش کر سکتا ہے یا فراہم کردہ روابطی لنک کا.یا یہ لکھ کر بھی وہابی کا ذبیحہ حرام و مردار ہے کلک رضا ڈاٹ کوم پر پوری تحریر پڑھیں https://www.kilkeraza.com/wahabi-ka-zabiha/اور یہ https://youtu.be/kMwGhUQu_FE?si=DONjC5tIrFv93o4Q/
https://youtu.be/kMwGhUQu_FE?si=W80G9vCqAc1GGcVi
یہ حوالہ بطورِ نمونہ ہے ۔اور خطابات کے جملوں میں تشبیہی جملوں پر دھیان رکھیں. میرا موضوع دلائل نہیں.
دیوبندی فتاویٰ اور عملی فرق
رہی بات دیوبندی فتاویٰ اور عملی فرق کی، تو ذرا انصاف سے دیکھیے:
کیا اہلِ دیوبند کے کسی معتبر عالم نے کبھی اجتماعی طور پر صراحتاً اہلِ بریلوی کو کافر یا مرتد کہا ہے، یا عام افراد کے لیے ایسی کوئی شرائط قائم کی ہیں؟
نہیں، بلکہ حد درجہ احتیاط برتی گئی ہے۔
البتہ بدعتی کہا گیا، بعض اعمال کو شرک کے قریب کہا گیا، مگر مجموعی طور پر تکفیر کا اجتماعی مزاج نہیں بنایا گیا۔ یہی اصل فرق ہے۔
میں پھر دو ٹوک بات کہتا ہوں:
جو شخص بدعت کے راستے پر چلتے چلتے کھلے شرک اور قطعی کفر تک پہنچ جائے - چاہے وہ کسی بھی مسلک کا پیر یا خطیب ہو - وہ واقعی کافر ہے، اور اس میں کوئی تخصیص نہیں۔
مگر اس اصول کو ہر اختلافی مسئلے پر لاگو کرنا سراسر ظلم ہے۔
لہٰذا میرا یہ سوال کسی مسلک کے خلاف نہیں بلکہ پوری امت کے حق میں ہے۔
اگر ہم نے تکفیر کے اس مزاج کو نہ روکا تو نتیجہ یہ ہوگا کہ:
مسجدیں تقسیم ہوں گی،
دل دور ہوں گے،
اور دشمن خوش ہوں گے۔
دین کی خدمت یہ نہیں کہ ہم ایک دوسرے کو کافر ثابت کرنے میں عمر ضائع کر دیں۔
دین کی اصل خدمت یہ ہے کہ ہم لوگوں کو اللہ سے جوڑیں، نہ کہ ایک دوسرے سے کاٹ دیں۔
آج سب سے بڑا جہاد یہ ہے کہ:
ہم اپنے ہی ہاتھوں امت کو توڑنے کے بجائے جوڑنے کا ہنر سیکھیں۔
ورنہ تاریخ ہمیں عالم کہہ کر نہیں، بلکہ فتنہ پرور کہہ کر یاد رکھے گی۔
بقلم محمودالباری
mahmoodulbari342@gmail.com