*اللہ رب العزت نے اقرأ سے کس چیز کو پڑھنے کا حکم دیا*

نبی کریم ﷺ جب چالیس برس کی عمر شریف کو پہنچے تو یہ محض عمر کا ایک عددی مرحلہ نہیں تھا، بلکہ فطرت، زمانہ اور حالات سب اپنے کمال کی طرف بڑھ رہے تھے، گویا خود کائنات ایک بڑے واقعے کی تیاری میں تھی، پھل پکنے اور پھول کھلنے کے آثار نمایاں تھے، فضا میں ایک خاص اعتدال اور سکون موجود تھا، اور آپ ﷺ کے اردگرد کی ہر چیز اطمینان و وقار کی دعوت دے رہی تھی، معاشرتی اعتبار سے بھی آپ ﷺ ایک کامل مقام پر فائز تھے، اپنی قوم میں محبوب تھے، دیانت و امانت کی وجہ سے سب کے دلوں میں احترام رکھتے تھے، گھریلو زندگی خوش حال تھی، اور مال و اسباب کی بھی کمی نہ تھی، لیکن یہی وہ مقام ہوتا ہے جہاں عام انسان رک جاتا ہے، جبکہ نفوسِ قدسیہ کی جستجو یہاں سے شروع ہوتی ہے، ان پاکیزہ روحوں کے لیے دنیا کی آسائشیں آخری منزل نہیں ہوتیں، چنانچہ بظاہر مکمل زندگی کے باوجود آپ ﷺ کے دل میں ایک عجیب سی بے چینی پیدا ہونے لگی، یہ بے چینی کسی ذاتی محرومی کی نہیں تھی، بلکہ پوری انسانیت کے حال پر ایک گہری فکر کا نتیجہ تھی، عقل حیران تھی کہ اگر سب کچھ درست ہے تو دل مطمئن کیوں نہیں؟ اور اگر دل مطمئن نہیں تو ضرور کہیں نہ کہیں کوئی بنیادی خرابی موجود ہے۔
اسی فکری کیفیت میں آپ ﷺ نے اپنے گردوپیش پر غور فرمایا، جب معاشرے کو قریب سے دیکھا تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آ گئی کہ لوگ جس حالت میں مبتلا ہیں وہ سراسر باطل ہے، عقیدہ بگڑا ہوا ہے، عبادت بے سمت ہے، اخلاق زوال پذیر ہیں، اور معاشرت ظلم اور ناانصافی کا شکار ہے، دیہات ہوں یا شہر، امیر ہوں یا غریب سب گمراہی کی ایک ہی زنجیر میں جکڑے ہوئے ہیں، یہاں سے ایک نہایت بنیادی سوال پیدا ہوا *اگر یہ سب باطل ہے تو پھر حق کہاں ہے؟ اگر سب راستے غلط ہیں تو سیدھا راستہ کون سا ہے؟* لوگ لات اور عُزّی جیسے بتوں کے سامنے سر جھکائے ہوئے تھے، حالانکہ یہ بت نہ کسی کو فائدہ پہنچا سکتے تھے اور نہ نقصان *تو پھر نفع و نقصان کا حقیقی مالک کون ہے؟ کون ہے جو زندگی دیتا ہے، موت دیتا ہے، عزت دیتا ہے اور ذلت؟* یہی وہ سوالات تھے جنہوں نے آپ ﷺ کے قلبِ مبارک کو مسلسل غور و فکر میں مشغول رکھا، ان کے علاوہ بھی بے شمار خیالات تھے، جن کی گہرائی اور وسعت کو لفظوں میں پوری طرح بیان کرنا ممکن نہیں، مگر یہی خیالات ایک عظیم فکری انقلاب کی بنیاد بن رہے تھے۔
اسی مسلسل فکری اضطراب کے نتیجے میں آپ ﷺ کو خلوت محبوب ہو گئی، یہ خلوت فرار نہیں تھی، بلکہ حقیقت کی تلاش کا راستہ تھی، آپ ﷺ آہستہ آہستہ لوگوں کی محفلوں سے الگ ہو گئے، خود سے مانوس ہوئے، اور ایسی تنہائی اختیار کی جس میں دل دنیا کے شور سے آزاد ہو کر سچ کی آواز سن سکے، ابتدا میں یہ خلوت چند گھنٹوں تک محدود رہی، پھر دنوں تک پھیل گئی، اور پھر مہینوں تک جاری رہی، اس پورے عرصے میں آپ ﷺ اپنے تامل میں مشغول، اپنی فکر میں غرق، اور حقیقت کی جستجو میں یکسو رہے،یہی وہ مرحلہ تھا جہاں ظاہری دنیا کی سطحی حقیقتیں پیچھے ہٹنے لگیں اور باطنی بصیرت کے دروازے کھلنے لگے، آہستہ آہستہ دل اس نور کے لیے تیار ہو رہا تھا جو انسانیت کی تقدیر بدلنے والا تھا، یہاں تک کہ وہ لمحہ آیا *جب وحیِ الٰہی کا نزول ہوا اس لمحے آپ ﷺ کا دل نور سے بھر گیا اور آپ ﷺ کے اردگرد کی دنیا محض نظر آنے والی چیز نہ رہی بلکہ معنی اور مقصد سے روشن ہو گئی*
وحی کا پہلا لفظ *اقرأ* تھا، بظاہر یہ ایک سادہ سا حکم معلوم ہوتا ہے، مگر حقیقت میں یہ ایک عظیم فکری انقلاب کا اعلان تھا، یہاں فوراً یہ سوال پیدا ہوتا ہے *کہ آپ ﷺ کیسے پڑھتے، جبکہ آپ ﷺ نے نہ کسی استاد سے پڑھا تھا، نہ کسی کتاب سے سیکھا تھا، اور نہ قلم کے ذریعے کچھ لکھا تھا؟ پھر کیا پڑھنے کا حکم اللہ تعالٰی نے عطا فرمایا؟* اب سمجھیے گا یہاں *اقرأ* سے مراد حروف اور کلمات کی ظاہری قرأت نہیں تھی، اگر ایسا ہوتا تو یہ قرأت فکر کو محدود اور نگاہ کو چند سطروں تک قید کر دیتی،جبکہ نبی کریم ﷺ کی بنا پر یہ تمام وجود میں آئیں ہیں۔
درحقیقت آپ ﷺ کو ایک ایسی قرأت کا حکم دیا گیا جو اس سے کہیں زیادہ بلند اور وسیع تھی، یہ کائنات کی قرأت تھی ایسی قرأت جس میں ہر شے ایک نشانی بن جاتی ہے اور ہر نشانی خالق کی طرف رہنمائی کرتی ہے، آپ ﷺ کو سکھایا گیا کہ آسمان کی وسعت میں دیکھو، ستاروں کی چمک میں دیکھو، زمین کے پھیلاؤ میں دیکھو، پہاڑوں کی مضبوطی میں اور وادیوں کی گہرائی میں اللہ تعالیٰ کو پڑھو، پرندے کی پرواز، مچھلی کی زندگی، رات اور دن کا آنا جانا، رنگوں اور زبانوں کا اختلاف، یہ سب محض مظاہر نہیں بلکہ رب کی پہچان کے متن ہیں۔
اسی طرح دل کی دھڑکنیں، حواس کی حرکات، اور نفس کے جذبات و خیالات بھی اسی قرأت کا حصہ ہیں، گویا حکم یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کو صرف کتاب میں نہیں بلکہ ہر چیز میں تلاش کرو، کیونکہ جو نظر آئے، جو محسوس ہو، اور جو سوچ میں آئے، سب اسی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
یہ قرأت کوئی معمولی علم نہیں تھی بلکہ ایک ایسا راز تھی جس نے دنیا کا مفہوم بدل دیا، اس قرأت کے بعد کائنات بے جان نہیں رہی، بلکہ بولنے لگی،جو چیزیں پہلے خاموش اور بے معنی محسوس ہوتی تھیں، اب وہ زندگی پیدا کرنے والے رب کی روشن دلیل بن گئیں، آپ ﷺ نے دنیا کو از سرِ نو پڑھا، اور اسی نئی قرأت نے انسانیت کو سوچنے، سمجھنے اور پہچاننے کا ایک نیا زاویہ عطا کیا۔

                   *✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*