(27)مضمون
بسم اللہ الرحمن الرحیم
"جو قوم مرنے سے ڈرتی ہے، وہ کبھی آزاد نہیں ہوتی!"
____
دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ آزادی اور عزت صرف انہیں قوموں کو ملی ہے جو مرنے سے نہیں ڈرتیں، بلکہ حق کے لیے مر مٹنے کو زندگی کی سب سے بڑی سعادت سمجھتی ہیں۔
جو قومیں اپنی جان کی سلامتی کو ایمان اور عزت پر ترجیح دیتی ہیں، وہ ہمیشہ غلامی کی زنجیروں میں جکڑی رہتی ہیں۔
تاریخ کے اوراق اٹھا کر دیکھ لیجیے — جب بھی کسی قوم نے اپنی غیرت کو زندہ رکھا، اس کے جوانوں نے اپنے سینوں پر گولیاں کھائیں، اپنی ماں بہنوں کی عصمت کے محافظ بنے، اور اپنے خون سے آزادی کے چراغ جلائے۔ یہی وہ قومیں ہیں جن کے نام وقت کے صفحات پر سنہری حروف سے لکھے گئے۔
لیکن جب قوموں کے دلوں سے غیرت رخصت ہو جائے، جب وہ دنیاوی آسائشوں اور عیش و عشرت میں ڈوب جائیں، جب ان کے رہنما ذاتی مفاد کے غلام بن جائیں اور عوام اپنے ایمان کی قیمت چند سکوں میں لگانے لگیں — تو ایسی قومیں مٹ جاتی ہیں، ان کا وجود باقی رہتا ہے مگر روح مر جاتی ہے۔
قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
> "وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ"
(آلِ عمران: 139)
یعنی "کمزور نہ پڑو، غمگین نہ ہو، اگر تم ایمان والے ہو تو تم ہی بلند ہو۔"
یہ آیت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ایمان کے ساتھ جینے والی قوم کبھی مغلوب نہیں ہو سکتی، چاہے دنیا کی ساری طاقتیں اس کے خلاف کیوں نہ ہوں۔ ایمان ایک ایسی قوت ہے جو کمزور کو بھی طاقتور بنا دیتی ہے، غلام کو بھی آزاد کر دیتی ہے، اور بے سروسامان امت کو بھی فاتح بنا دیتی ہے۔
آج ہمیں ضرورت ہے کہ ہم اپنے اندر وہی جذبہ زندہ کریں جو بدر، احد اور کربلا کے میدانوں میں اہلِ ایمان کے سینوں میں دھڑکتا تھا۔
زندگی اس وقت قیمتی ہے جب وہ حق کے لیے وقف ہو، اور موت اس وقت حسین ہے جب وہ ظلم کے خلاف گواہی بن جائے۔
ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ جو مرنے سے ڈرتا ہے، وہ جینے کے قابل نہیں رہتا —
اور جو ایمان کے ساتھ جیتا ہے، وہ مر کر بھی امر ہو جاتا ہے۔
قرآنِ کریم نے صاف اعلان کیا:
> "قُلْ هَلْ تَرَبَّصُوْنَ بِنَاۤ اِلَّاۤ اِحْدَى الْحُسْنَيَيْنِ" (سورہ التوبہ: 52) "کہہ دو! کیا تم ہمارے لیے دو بھلائیوں میں سے ایک ہی کا انتظار کرتے ہو؟ یا تو ہم غالب آئیں گے یا شہادت پائیں گے۔"
یہ ہے مومن کا نظریۂ حیات۔ اس کے نزدیک موت انجام نہیں، بلکہ آغازِ ابدی زندگی ہے۔ وہ موت سے نہیں ڈرتا، بلکہ اسے اپنے رب سے ملاقات کا وسیلہ سمجھتا ہے۔
زندہ قومیں خون دیتی ہیں، ایمان نہیں چھوڑتیں
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
> "وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللّٰهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ" (آلِ عمران: 169) "جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے گئے انہیں مردہ نہ سمجھو، وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں، رزق پاتے ہیں۔"
یہ آیت ایمان والوں کے لیے حیاتِ جاوداں کا اعلان ہے۔ جو قومیں شہید پیدا کرتی ہیں، ان کی جڑیں کبھی نہیں سوکھتیں。 مگر جو قومیں آرام و آسائش کی عادی ہو جائیں، جنہیں دنیا کی رنگینیوں سے زیادہ اپنی خودی عزیز نہ رہے، وہ مٹ جاتی ہیں، ان کی تاریخ صرف عبرت کے لیے باقی رہتی ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
> "افضل الجهاد كلمة عدل عند سلطان جائر" (سنن النسائی: 4209) "سب سے افضل جہاد ظالم حکمران کے سامنے حق بات کہنا ہے۔"
یہی وہ جذبہ ہے جو ایک غلام قوم کو غیور امت میں بدل دیتا ہے۔ یہی وہ روح ہے جو بدر، اُحد، کربلا، حطین اور بالاکوٹ جیسے کارنامے تاریخ میں رقم کرتی ہے۔
حضرت علیؓ فرمایا کرتے تھے:
> “جو شخص موت سے ڈرتا ہے، وہ زندگی کی ذلت قبول کر لیتا ہے، اور جو موت سے نہیں ڈرتا، اسے دنیا بھی جھک کر سلام کرتی ہے۔”
قربانی ہی بقا ہے
قرآن کہتا ہے:
> "اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰى مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ اَنْفُسَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ بِاَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ" (التوبہ: 111) "بیشک اللہ نے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال جنت کے بدلے خرید لیے ہیں۔"
یہ آیت مومن کی تجارتِ ابدی کا اعلان ہے — جان دی، مگر ایمان نہ بیچا! یہی جذبہ اسلامی بیداری کی بنیاد ہے۔
قوموں کی تقدیر تلوار سے نہیں، عزم سے بدلتی ہے
قرآن کا فیصلہ ہے:
> "اِنَّ اللّٰهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى يُغَيِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ" (الرعد: 11) "اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا، جب تک وہ خود اپنے اندر تبدیلی نہ لائے۔"
یعنی تقدیر لکھی نہیں جاتی، بنائی جاتی ہے۔ قومیں جب ظلم کے خلاف کھڑی ہوتی ہیں، اپنے ایمان، اپنی غیرت اور اپنی شناخت کے دفاع میں قربانیاں دیتی ہیں — تب اللہ ان کے حق میں تاریخ کا رخ موڑ دیتا ہے۔
شہادت: امن کی ضمانت، غلامی کا خاتمہ ہے
شہادت صرف موت نہیں، یہ زندگی کا تسلسل ہے。 یہی وہ قربانی ہے جو ایک قوم کی بنیادوں کو مضبوط کرتی ہے۔ قرآن شہید کے خون کو امن کا ضامن قرار دیتا ہے، کیونکہ جو قوم اپنی جان دینا جانتی ہے، اسے غلام بنانا ناممکن ہو جاتا ہے۔
اے اللہ! ہمیں وہ ایمان عطا فرما جو تلوار کے سامنے بھی نہ جھکے، وہ حوصلہ دے جو فرعون کے ظلم کے باوجود موسوی غیرت بن جائے، ہمیں اس امت کے زندہ کردار عطا کر جو مرنا جانتی ہے مگر جھکنا نہیں!
قوموں کی زندگی میں وہی لمحے فیصلہ کن ثابت ہوتے ہیں جب انہیں ایمان اور خوف، غیرت اور غلامی، عزت اور ذلت کے درمیان انتخاب کرنا پڑتا ہے۔ جو قوم ایمان کے ساتھ جینا اور حق کے لیے مرنا سیکھ لیتی ہے، وہ کبھی فنا نہیں ہوتی۔ مگر جو قومیں راحت، مفاد اور دنیاوی لذتوں کی غلام بن جائیں، ان کی قسمت میں زوال لکھ دیا جاتا ہے۔
آج امتِ مسلمہ کو پھر سے اپنی تاریخ، اپنی شناخت اور اپنے ایمان کی طرف پلٹنا ہوگا۔ ہمیں اپنے اندر وہی ولولہ پیدا کرنا ہوگا جو صحابۂ کرامؓ کے دلوں میں تھا، وہی یقین جو حسینؓ کے قافلے کے لہو میں دوڑتا تھا، اور وہی عزم جو صلاح الدین ایوبیؒ کے تیغ بردار بازوؤں میں تھا۔
ہمیں اپنے بچوں کو یہ سکھانا ہوگا کہ زندگی کا اصل مقصد صرف جینا نہیں بلکہ حق کے ساتھ جینا ہے، اور موت کا خوف اُس وقت بیکار ہے جب ایمان کی شمع بجھنے لگے۔
آؤ! ہم یہ عہد کریں کہ
ہم ظلم کے سامنے کبھی سر نہیں جھکائیں گے،
ہم باطل کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر حق کی صدا بلند کریں گے،
اور اپنی قوم کو عزت و غیرت کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے ہر قربانی دیں گے۔
کیونکہ جو مرنے سے نہیں ڈرتا، وہی دراصل ہمیشہ کے لیے زندہ رہتا ہے۔
اے ربِ کائنات! ہمیں شہادت کی تمنا، اور اپنے دین کے غلبے کی تڑپ دے دے۔ آمین، یا رب العالمین۔
بقلم: محمودالباری
mahmoodulbari342@gmail.com