شعبان المعظم کی پندرہویں تاریخ کی رات کو ٫٫شب برات،، کہتے ہیں ، جس کا مطلب ہے ، گناہوں کے مٹانے کی رات ،
شب برات کی فضیلت کے ثبوت سے متعلق علماء کے مابین اختلاف پہلے سے چلا آ رہا ہے ، دراصل شب برات کے متعلق جتنی احادیث منقول ہیں اس میں ضعف اور کلام ہے ، جس سے اختلاف کی بناپڑ گئی ، جن علماء کے نزدیک حدیثیں صحت کے درجے پر پہنچتی ہیں ، انہوں نے شب برات کی فضیلت کے قائل ہیں اور جن کے نزدیک صحت کے درجے کو نہیں پہنچتی ہے ، ان نزدیک شب برات کی فضیلت ثبوت مسلم نہیں ہے ،
جن علماء کے نزدیک شب برات کی فضیلت کا ثبوت ملتا ہے اور اس کے قائل ہیں ، ان کے نزدیک دس احادیث مبارکہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے منقول ہیں ، جن میں سب سے پہلے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی روایت کو بنیادبنایاہے ،
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ: شعبان کی پندرہویں شب کو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی آرام گاہ پر موجود نہیں پایا تو تلاش و جستجو میں نکلی ، دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جنت البقیع یعنی قبرستان میں ہیں ، آپ نے مجھے دیکھ کر فرمایا کہ اے عائشہ! شعبان کی پندرہویں شب میں اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر تشریف لاتے ہیں ،اورقبیلہ بنی کلب کی بکریوں کے تعداد سے زیادہ گناہ گاروں کے گناہوں کو بخش دیتے ہیں ،
دوسری روایت ہے ، اس رات اللہ تعالیٰ تمام مخلوق کے گناہوں کو معاف فرما تے ہیں ، سواے سات لوگوں کے ، وہ یہ ہیں ، مشرک ،والدین کا نافرمان ،کینہ پرور ، شرابی ، قاتل ، ٹخنے سے نیچے پائجامہ لٹکا نے والا اور چغل خور ،ان سات افراد کی اس عظیم رات میں بخشش سے محروم کر دیے جاتے ہیں ،
تیسری روایت حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے منقول ہے ،کہ اس رات اللہ تعالیٰ کی عبادت کیا کرو ، اور دن میں روزے رکھا کرو ، اس رات اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر تشریف لاتے ہیں اور اعلان کرتے ہیں کہ: ہے کوئی مغفرت چاہنے والا ، ہے کوئی رزق کی کشادگی طلب کرنے والا ، ہے کوئی مصیبت زدہ ، اپنی مصیبت سے چھٹکارا حاصل کرنے والا ،
مذکورہ بالاروایتوں سے تین باتیں واضح طور پر سمجھ میں آتی ہیں ،
ایک عبادت کرنا ، چونکہ عبادت کا محل خلوت ہے ،اور روایتوں میں تنہا عبادت کرنے کا ثبوت ملتا ہے ، اس لئے شب برات میں عبادت تنہا طور پر کرنی چاہیے ، اجتماعی طریقہ منقول نہیں ہے ، پس رات میں اپنی بشاشت سے حسب استطاعت عبادت کرے،
حدیث میں ہے کہ جو شخص عشاء کی نماز با جماعت ادا کرکے سوۓ، اور فجر کی نماز با جماعت ادا کریں تو اسے پوری رات عبادت کا ثواب ملے گا ،
دوسری بات دن میں روزے رکھنا ،
تیسری بات :اس رات قبرستان میں جاکر ایصال ثواب اور مغفرت کی دعا کرنا ،
یہ بات ذہن نشین رہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ساری حیات مبارکہ میں اس سال کے علاوہ کسی سال جنت البقیع میں جانا ثابت نہیں ہے ، اس لئے زندگی میں ایک مرتبہ کوئی شخص اس سنت پر عمل کرلیا تو اجر و ثواب کا باعث بن جائے گا ،