یاایھا الذین آمنوا اتقوا اللہ وقولوا قولا سدیدا ، یصلح لکم اعمالکم و یغفرلکم ذنوبکم ومن یطع اللہ ورسولہ فقدفاز فوزا عظیما (سورۃ الاحزاب:70,71)
یہ سورہ احزاب کی آخری دو آیتیں ہیں ، قرآن کریم کی مخصوص سورتوں میں سے ایک ہے ، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حقوق و آداب قدرے تفصیل سے بیان ہوۓ ہیں ، اس کی ابتدائی اور پہلی آیت ؛یاایھا النبی اتق اللہ و لاتطع الکافرین و المنافقین ،، سے کیا گیا ہے ، یعنی اے نبی جی (صلی اللہ علیہ وسلم) آپ اللہ سے ڈریے ، اور کافروں اور منافقین کی بات نہ مانیے ، گویا سورۃ کی ابتدا اور انتہا کی آیتوں میں جس بات کی طرف اشارہ ہے ، وہ ؛؛تقوی ؛؛ ہے جو درحقیقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے سے امت مسلمہ کو پیغام دینا ہے ، ابتدا میں تو نبی کو خود تقویٰ پر تعمیل( ارشاد خداوندی) کا حکم ہے ، اور اخری آیت میں براہ راست امت مسلمہ کو تقوی کا حکم ہے ، معلوم ہوا کہ تقویٰ کے حکم پر عمل کرنا جب نبی کو ہے تو امتی کے ہر ہرفرد پر بدرجہ اولی عمل ضروری ہے،

حدیث شریف میں ہے،، 
اتقوا اللہ فأن التقوی ملاک الحسنات ،،
اللہ سے ڈرو کیونکہ تقوی ہر نیکی کا خلاصۃ اور منبع و سرچشمہ ہے ، 
تقویٰ کی فضیلت پر قرآن و حدیث میں بڑی اہمیت اور تاکید آئی ہے ، لہذا تقویٰ کو ہمہ وقت پیش نظر رکھنا چاہیے ، 
تقویٰ اختیار کرنے پر دنیا و آخرت کی بھلائی کا وعدہ ہے ، خداوند تعالیٰ کا ارشاد ہے!
٫٫ومن یتق اللہ یجعل لہ مخرجا و یرزقہ من حیث لا یحتسب ،،(سورۃ الطلاق:2.3) اور جو شخص اللہ تعالیٰ سے تقوی اختیار کرتاہے ، اللہ اس کے لئے کوئی سبیل اور سہولت کا راستہ نکال دیتے ہیں ، اور اسے ایسی جگہ رزق عطا فرماتے ہیں ، جہاں سے اسے وہم و گمان بھی نہیں پہنچتا ، یہ دنیا کی بات ہوئی ، اور آخرت کا وعدہ ملاحظہ ہو ، حکم ہوتا ہے ٫٫وسارعوا  الی مغفرۃ من ربکم و جنۃ عرضہا السموات والارض اعد للمتقین ،،(آل عمران:133)
اور تیزی سے اپنے پروردگار کی مغفرت کی جانب دوڑو ، جس کا عرض آسمانوں اور زمینوں کے برابر ہے ، جو تیار کی گئی ہے تقویٰ اختیار کرنے والوں کے لیے، 
ان دونوں آیتوں سے پتہ چلتا ہے کہ دنیاوی زندگی کی سہولت ، بےوہم وگمان رزق کا حاصل ہونا ، اور آخرت میں قبولیت کا دارومدار تقویٰ اختیار کرنے پر ہے ، اس لئے قرآن وحدیث میں تقویٰ کی تاکید و اہمیت کس انداز اور اہمیت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے ، اگر پورے قرآن کریم پر طائرانہ نظر ڈالی جائے تو یہ نتیجہ اخذ ہوگا کہ جس بات کا سب سے زیادہ حکم ہےوہ ؛؛تقوی،، ہے ،ہر نیکی سے پہلے اور ہر تعمیل ارشاد کے بعد تقویٰ کا حکم ہے،
مثلا سورہ احزاب کے ابتدائی آیت میں تقویٰ کا حکم ہے ، اور آخری آیت میں بھی تقوی کا حکم ہے ،
؛

 یاایھا الذین آمنوا اتقوا اللّٰہ وقولوا قولا سدیدا ،،
اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور قول سدید یعنی راست بات کہو ،
دوسری آیت ؛؛یاایھا الذین آمنوا اتقوا اللّٰہ ولتنظر نفس ما قدمت لغد ،، اے ایمان والو اللہ سے ڈرو ، اور ہر آدمی غور
کرے کہ کل کیا بھیجا ہے ، 


غرض یہ کہ بیشتر مقامات پر جہاں کہیں کوئی خاص حکم ہوا ، وہاں ابتدا تقویٰ کے حکم سے آغاز کیا گیا ہے ، یہ حکم ہر زمانہ ، اور ہر امت کو عام تھا ،

ایک مرتبہ امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے مشہور قاری حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ ماالتقوی ؟تقوی کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ:ما سلکت طریقا ذاشوک یا امیر المومنین ؟کیا آپ کانٹوں بھرے جھاڑی میں نہیں چلے ؟فرمایا  بلی!کیوں نہیں ، ایسی راہ پر چلنے کا اتفاق کئ بار ہوا ہے!عرض کیا ، فماذا فعلت ؟تو آپ نے کیا کیا ؟ فرمایا شمرت واجتہدت! میں نے آستین سمیٹی اور محنت و کوشش کرکے نکل گیا! حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا بس یہی تقویٰ ہے ، دنیا گناہوں کے کانٹے سے بھری پڑی ہے ، اسی طرح سے بچ کر نکل جانا ہے،
ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! التقوی ھہھنا تقویٰ یہاں ہے ، یعنی اپنے دل میں ہے ، آدمی کے دل کی درستگی کا دارومدار تقویٰ ہے،
خلاصۃ کلام یہ ہے کہ اول دل درست ہو ، ثانیاً زبان کی اصلاح ہو ، جس کے بارے میں ارشاد ہے؛؛ قولوا قولا سدیدا ،، راست اور سچی بات کہو ، اور سب سے سچی بات زبان سے کلمہ طیبہ کا کہنا ہے، کلمہ طیبہ سے افضل کوئی قول سدید نہیں ہے ، پس دل اور زبان کے مابین ایک مستحکم اور مضبوط ربط ہے ، دل کے تقویٰ اور زبان کی صداقت کے بنیاد پر اجر عظیم کے دووعدے ہیں ، 
اول؛؛ یصلح لکم اعمالکم ،،اللہ تبارک وتعالیٰ تمہارے اعمال کو درست فرما دیگا اور دنیاوی زندگی میں خوشحالی ، سہولیات ، آسانیاں ، فکر و خوف اور مالی و اقتصادی و معاشی تنگی کو دور کرکے برکتوں اور نعمتوں سے مالا مال کردیں گے ،یہ تو دنیا کا حال ہوا ،
اور ثانوی درجے کا وعدہ یہ کہ ؛؛یغفرلکم ذنوبکم ،،اللہ رب العزت تمہارے خطاؤں کو درگذر فرما کر دنیا و مافیہا سے بہتر بیش بہا نعمتوں سے کئی گنا بڑی جنت و بہشت عطاء فرمائے گیں ،