حمل اور ولادت - حضرت عبد اللہ نے حضرت آمنہ بنت وہب سے شادی کی جو قریش کے معزز ترین گھروں میں سے تھیں۔ حضرت عبد اللہ کے والد عبد المطلب نے ان کی شادی اس وقت کی جب حضرت عبد اللہ ذبح ہونے سے نجات پا چکے تھے (نذر پوری ہونے کے بعد)۔ حضرت عبد اللہ نے حضرت آمنہ سے نکاح کے بعد ان کے ساتھ رخصتی کی اور وہ ان کے پیارے بیٹے محمد ﷺ کے ساتھ حاملہ ہو گئیں۔

لیکن شادی کو زیادہ وقت نہ گزرا تھا کہ حضرت عبد اللہ تجارت کے لیے شام روانہ ہوئے۔ واپسی پر بیمار پڑ گئے اور یثرب (مدینہ منورہ) لے جائے گئے وہاں اپنے ننھیال (بنو نجار) کے یہاں انتقال فرما گئے۔ اس وقت حضرت آمنہ کو حمل ٹھہرے ہوئے زیادہ سے زیادہ دو مہینے ہوئے تھے۔ گویا اللہ تعالیٰ نے حضرت عبد اللہ کو ذبح سے بچایا تھا تاکہ وہ یہ خاص ذمہ داری پوری کریں اور پھر جب یہ فریضہ ادا ہو گیا تو ان کی روح قبض کر لی گئی۔

حضرت آمنہ مکہ مکرمہ میں ہی رہیں، اپنے سسر عبد المطلب کی کفالت میں۔ حضرت عبد اللہ نے جو وراثت چھوڑی تھی اس میں پانچ اونٹنیاں، بکریوں کا ایک ریوڑ اور ایک باندی شامل تھی جو ام ایمن رضی اللہ عنہا تھیں۔

جب حضرت آمنہ کا حمل اپنی مدت کو پہنچا تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو جنم دیا۔ حمل اور ولادت بالکل معمول کے مطابق تھے، مگر حضرت آمنہ نے دیکھا کہ جب آپ پیدا ہوئے تو ان سے ایک نور نکلا جس نے شام کے محلات کو روشن کر دیا۔

عن العرباض بن سارية رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم :

" إنِّي عندَ اللهِ مكتوبٌ خاتمُ النَّبييِّنَ ، وإنَّ آدمَ لمنجَدلٌ في طينتِه ، وسأخبرُكم بأوَّلِ أمري : دَعوةُ إبراهيمَ ، وبِشارةُ عيسَى ، ورؤيا أمِّي الَّتي رأَت - حين وضعَتني - وقد خرج لها نورٌ أضاءَت لها منه قصورُ الشَّامِ .

عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

میں اللہ تعالیٰ کے یہاں اس وقت بھی لکھا ہوا تھا کہ میں خاتم النبیین ہوں جب کہ آدم ابھی مٹی میں اپنی ساخت مکمل کر رہے تھے، اور میں تمہیں اپنی ابتدا کے بارے میں بتاتا ہوں: میں (حضرت) ابراہیم کی دعا ہوں، (حضرت) عیسیٰ کی بشارت ہوں، اور وہ خواب ہوں جو میری والدہ نے دیکھا تھا کہ جب میں پیدا ہوا تو ان سے ایسا نور نکلا جس نے شام کے محلات کو روشن کر دیا۔

(صحیح الالبانی)

رسول اللہ ﷺ کی ولادت بروز پیر، بارہ ربیع الاول، عام الفیل کی صبح ہوئی۔ آپ کے پیدا ہونے کے ساتویں دن آپ کے دادا عبد المطلب نے آپ کا ختنہ کیا اور آپ کا نام محمد رکھا۔ ان روایات کی کوئی صحت نہیں جو یہ کہتی ہیں کہ آپ ﷺ مختون پیدا ہوئے تھے، زیادہ صحیح قول یہی ہے کہ آپ کا ختنہ آپ کے دادا نے کیا۔

علامہ شامی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : نبی کریم ﷺ کے مختون پیدا ہونے کے سلسلے میں روایات مختلف ہیں، ان میں سے کوئی روایت صحیح نہیں ہے، حاکم کے اس قول (نبی کریم ﷺ کے مختون پیدا ہونے کے بارے میں روایات متواتر ہیں)کو رد کرنے میں علامہ ذہبی رحمہ اللہ نے تفصیلی کلام کیا ہے، محدثین کے نزدیک اس قسم کی روایات ضعیف ہونا ثابت ہوچکا ہے، بعض محققین حفاظ فرماتے ہیں : درست بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ نبی کریم ﷺ مختون پیدا نہیں ہوئے تھے۔

وقد اختلف الرواة والحفاظ في ولادة نبينا صلى الله عليه وسلم مختوناً، ولم يصح فيه شيء، وأطال الذهبي في رد قول الحاكم: إنه تواترت به الرواية، وقد ثبت عندهم ضعف الحديث به، وقال بعض المحققين من الحفاظ: الأشبه بالصواب أنه لم يولد مختوناً

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) - (6 / 752)

حضرت آمنہ نے اپنے بیٹے محمد ﷺ کو تین دن دودھ پلایا لیکن ان کا دودھ کم تھا۔ تو پھر ثویبہ (ابو لہب کی باندی) نے آپ ﷺ کو اپنے بیٹے مسروح کے دودھ کے ساتھ دودھ پلایا۔

ثویبہ نے رسول اللہ ﷺ سے پہلے حمزہ بن عبد المطلب اور ابو سلمہ بن عبد الاسد رضی اللہ عنہما کو بھی دودھ پلایا تھا، اس طرح یہ دونوں آپ ﷺ کے رضاعی بھائی بنے۔


جاری۔۔۔۔۔۔۔


✍🏻: محمدریحان ضیاءالحق عفي عنہ

خادمِ تدریس، مدرسہ ریاض الجنۃ، دھولیہ (مہاراشٹر)

وخادم القرآن، مجمع عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ، لحلقات القرآن الکریم عن بُعد، بالمدینۃ المنورۃ۔