ہر دن ایک قیامت برپا ہوا کرتی تھی ۔طرح طرح کے ظلم سہتے ہوئے اسے ایک سال ہوگیا تھا ۔وہ روز ہی رب تعالیٰ سے اپنے لیے دعائیں کرتی  ۔امت کی بے حسی نوجوانوں کا مصلحت پسندی کا لیبل لگا کر اپنی بہنوں کی عزتیں پامال ہوتی دیکھ کر بھی سکون سے بیٹھے رہنا ۔
ارے بزدل جوان یاد کر کچھ عرصہ قبل میری ایک بہن نے صرف تکبیر بلند کی تھی ۔ اور بدلے میں ہندؤں کی پتلونیں بھیگ گئیں تھیں۔،آہ، میرے جوان ،آہ٫ 
دعا مانگتے ہوئے اسکی آنکھ لگ گئی ۔افسرکی بکواسات سے اور شور سے اس کی آنکھ کھلی تو دیکھا کہ اس کے بستر پر ایک اور لڑکی سہمی ہوئی بیٹھی ہے ۔اس بد قماش نے پسٹل نکالا اور اور گولیاں اس کے جسم کو چیرتے ہوئے نکل گئیں ۔
ایک اور معصوم جنت کی راہ سدھار گیا ۔کاش علماء کرام قلم کے ساتھ تلوار کا بھی ذکر کریں۔
بغداد کی لائبریری میں علماء کرام مسواک کی لمبائی پر بحث کر رہے تھے ۔جب کے تاتاری بغداد کو تاراج کر رہے تھے ۔اے علماء امت  نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت۔ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کانام رحمہ اللعالمین کے ساتھ نبی الملاحم نہیں تھا؟ اگر ہاں تو نبی کی کامل وراثت کو سنبھالو٫ کیا معصوم بچوں کی چیخیں تمھیں  سنائ نہیں دیتیں ۔کیا غزہ میں بلکتا بچہ رات کو تمہاری آنکھوں کے سامنے نہیں گھومتا۔ اب نہیں تو کب اٹھو گے؟
 ۔شاید کہ اقصٰی کھونے کے بعد ۔


ختم شد٫٫٫٫٫