*کوئی بھی عورت کمزور محسوس نہیں کر سکتی اپنے آپکو جب اسکا ہاتھ پکڑا ہو شخص مرد ہی ہو*


چاہیں وہ مرد باپ کی شکل میں ہو بھائی کی یا پھر شوہر کی شکل میں.


ذی شعور لوگ میری ہیڈ لائن سے ہی سب کچھ سمجھ گئے ہونگے کہ میں سخت شکایت کے موڈ میں ہوں.

 

موضوع کی طرف چلتے ہیں


*اولا ایـــــک واقـــعـــہ ســنــــیــــں*

پاکستان کا لڑکا جو ایک ڈاکٹر تھا وہ ہوسپیٹل میں کام کرتا تھا اچانک ایک لڑکی کی طبیعت خراب ہوئی اور ہوسپیٹل میں ایڈمٹ ہوئی کمال کی حسین و جمیل اور اپنے حسن کردار سے اپنی طرف مائل(Attractive) کرنے والی لڑکی تھی بس ڈاکٹر صاحب بھی عاشقی کرنے والوں کے پیروکار ہو گئے اور اسرار محبت کر بیٹھے اور اب انتظار کرنے لگے اس لڑکی کے اظہار محبت کا اس نے ہاں کہا بات آگے بڑھی اور بات اس حد کو پہنچی کہ ڈاکٹر صاحب کی بات فون سے ہونے لگی اور تمام راتیں فون پر ہاں ہوں میں گزرنے لگیں کچھ دن بعد شادی کا مطالبہ کیا جوکہ جائز بھی ہے شریعت میں، اب کیا تھا لڑکی کنارہ کشی اختیار کرنے لگی کیونکہ وہ اپنے آپکو ڈاکٹر کے قابل نہیں سمجھتی تھی اور ڈاکٹر کو معلوم نہیں تھا کہ لڑکی ناچنے والی ہے عجیب و غریب قسم کے کارنامے ہیں اور وہ مضبوط گھر سے نہیں ہے میرے مقابلے، لڑکی منع کرتی رہی نہیں ایسا نہیں ہو سکتا میں شادی نہیں کر سکتی، کچھ لوگ بلند قسم کے ہوتے ہیں جو کچھ بھی ہوں پر اپنے کو ظاہر نہیں کرتے ایک مرتبہ لڑکی سے بات ہوئی اور اس سے کہا کہ میں رشتہ لے کے آتا ہوں آپ گھر بتائیں لڑکی نے نہیں بتایا کہ وہ چھپڑ میں رہنے والی لڑکی ہے اب ڈاکٹر کا ٹمپریچر ہائی رہنے لگا.


اتفاقاً انکے ایک دوست کی شادی ہوئی اور اس میں ناچنے گانے والی لڑکیوں کا انتظام و انشرام کیا گیا جب ڈاکٹر صاحب جاکر کرسی پر بیٹھے تو پہلے کچھ ادنی ٹائپ کی لڑکیاں جو کم پیسوں میں آتی ہیں وہ تھی اور ڈانس کر رہی تھیں پر ڈاکٹر کا دماغ فقط اس لڑکی پر انحصار کئے ہوئے تھا تھوڑی دیر کے بعد کچھ فاحشہ ناچنے والی لڑکیوں کی آمد ہوئی سب سے لاسٹ میں ڈاکٹر کی محبوبہ کا دیدار ہوا پھر کیا تھا ڈاکٹر صاحب کے پیر و تلے سے زمین نکل گئی اور غصے سے چور چور ہو گئے اب لڑکی نے جب ڈاکٹر کو دیکھا تو وہ کچھ ڈاکٹر سے کہنا چاہتی تھی اس ڈرامے کا اختتام ہوا اور لڑکی ڈاکٹر صاحب کے پاس آئی ملنے کو، ڈاکٹر صاحب نے بغیر کچھ سوچے سمجھے بھری مجلس میں دو تین تھپڑ رسید کر دئيے کسی کو پتا نہیں کے ہوا کیا کیسے ہوا کیوں ہوا اور تمام لوگ پوچھتے رہ گئے ڈاکٹر صاحب اپنی فیملی کو چھوڑ کر گھر چلے گئے سب لوگ حیرت سے ڈاکٹر صاحب کو دیکھتے رہے اور وہ لڑکی بھی چلی گئی.

گھر پہنچ کر گھر والوں نے ڈاکٹر صاحب سے پورا معاملہ پوچھا ڈاکٹر صاحب نے سب بیان کیا پھر کیا تھا سب لوگوں کے ہوش اڑ گئے.

کچھ دن بعد اس ناچنے والی لڑکی نے اپنی قاصدہ کو بھیجا جو ڈاکٹر صاحب کے پاس آئی اور پورا نقاب پوش کئے ہوئے تھی اس نے ہوسپیٹل میں کہا کہ مجھے فلاں ڈاکٹر صاحب سے ملنا ہے ڈاکٹر صاحب آئے اس نے کہا مجھے جانتے ہو ڈاکٹر صاحب نے منع کیا پھر اس نے اپنا تعارف کرایا اور بتایا کہ میں آپکی محبوبہ کی قاصدہ ہوں ڈاکٹر نے غصے سے کہا اس کمینی اور فاحشہ بد کردار کا ذکر میرے سامنے مت کرو اس نے کہا ڈاکٹر ایک بار اس سے ملاقات تو کرلیں اسکے گھر جاکر دیکھیں تو ڈاکٹر منع کرتا رہا بہت دیر بعد اس نے کہا ڈاکٹر آپکو کرنا تو وہی ہے جو آپکی مرضی ہے پر ایک بار دیکھ لیں بہت زیادہ اسرار پر ڈاکٹر جانے کے لئے رضا مند ہو گیا.


وہ اپنی امی ابو کو ساتھ لے کر گیا اس لڑکی کے گھر ،جب دروازے پر دستک دی تو ایک چھوٹی بچی نے دروازہ کھولا جب اندر داخل ہوئے تو کیا دیکھا ایک بوڑھی عورت ہے اور وہی ناچنے والی خاتون گھر کے کاموں میں مشغول ہے بوڑھی اپنے بڑھاپے اور کچھ غم و آلام کی وجہ سے دیکھ بھی نہیں پا رہی ہے جب ان سے ملاقات کی تو اس بوڑھی نے بتایا میرے شوہر کا اب سے سات سال پہلے انتقال ہو گیا تین بیٹیاں ہیں ایک پڑھتی ہے ایک چھوٹی ہے جو گھر رہتی پھر اس ناچنے والی خاتون کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ گھر کا خرچ چلاتی ہے اور سب سے بڑی بیٹی ہے اگر یہ کام نہ کرے تو ہمیں کھانا بھی میسر نا ہو ناچنے والی نے جب دیکھا تو وہ حیرت میں پڑ گئی اور وہی سوچ جو ہماری ہوتی ہے کے کہاں بیٹھاووں، کہاں کیا کروں، پر ایک چھوٹے سے گھر میں اپنی بہنوں اور امی کے ساتھ گذر بسر کرنے والی لڑکی کیا کر سکتی تھی اور اس مضبوط کام کو انجام دے رہی تھی جس کی وجہ سے آج بھائی اپنی بہنوں کو بوجھ سمجھتے ہیں ڈاکٹر کے پاس آئی قدموں میں اپنا سر رکھا اور بولی ڈاکٹر صاحب میں اگر یہ سب نہ کروں تو مجھے کھانا بھی نہ ملے میں اپنی مرضی سے نہیں بلکے تین پیٹوں کو پالنے کے لئے یہ سب کرتی ہوں اور میں کوئی فاحشہ نہیں بس میں نے یہ سوچ کر یہ پیشہ اپنایا کہ مجھے کوئی بھی ٹچ نہ کر سکے اور میری کفالت بھی ہو جائے کیونکہ اگر میں ایسے ہی رہتی تو لوگ میری عزت کا جنازہ نکال دیتے، ڈاکٹر صاحب پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے اور وہیں نکاح کیا اور ایک ناچنے والی لڑکی کو ایک ڈاکٹرنی کا خطاب ملا

جب ایسے لوگ عورتوں کے ہاتھ کو پکڑے ہونگے تو ہر عورت کامیابی کو حاصل کرتی ہوئی نظر آئے گی.


*اتنا طویل قصہ فقط اپنی ہیڈ لائن کی وجہ سے کرنا پڑا اور یہ سمجھانا مقصد تھا کہ اگر عورت کا ہاتھ پکڑنے والا انسان مضبوط ہو تو وہ ایک ناچنے والی کو بھی اعلٰی منصب پر پہچا سکتا ہے اور یہی مرد کی علامت ہے کہ جب وہ کسی کا ہاتھ پکڑ لے تو اسے بلندی پر پہنچا دے*

یہی مضبوط لوگ جب کسی عورت کا ہاتھ تھامتے ہیں تو پھر وہ انکو اس منزل پر پہنچا دیتے ہیں جس کوکبھی یہ سوچ بھی نہیں سکتی تصور بھی نہیں کر سکتی اور پھر یہ لڑکیاں زمانے کو اپنے کارناموں سے ہلا کر رکھ دیتی ہیں.


*کس ظالم نے کہا لڑکیاں بوجھ ہیں*

 لڑکیاں بوجھ نہیں بلکے ان کے راہی وہ لوگ ہیں جو خود زمیں پر بوجھ ہیں تھو انکی مردانگی پر جن کا کام اب یہ ہے کہ چوڑی پہنیں اور گھر میں چولہے پر بیٹھ کر روٹیاں پکایا کریں کس چیز کے مرد اگر تمہارے گھر میں رہنے والی وہ بچی جس کے اندر تم جیسا ہی خون ہے وہ اپنے آپکو بوجھ کہتی ہے، اور تمہارے سامنے بیٹھنے سے ڈرتی ہے، مر جاؤ کہیں اور اگر کفالت نہیں کر سکتے تو ظالموں دو کسی ایسے مرد کو جو مرد ہی ہو پھر دیکھنا اسے جسے تم نے بوجھ سمجھ رکھا ہے کس مرتبے پر فائز ہوتی ہے، مگر شرط یہی ہے کہ ہاتھ تھامہ ہوا انسان مرد ہی ہو مرد کا لبادہ اوڑے ہوئے عورت نہیں، کہ اسکی ایک غلطی کی وجہ سے اسے نحوست سے تعبیر کرنے لگے اور معاشرے میں گندہ ثابت کر دے بھائی معاف کریں اسے بتائیں آپ کس قابلیت کی مالک ہو.


*لیکن موجودہ معاشرہ*


آج معاشرے کے حالات بد سے بدتر ہوتے چلے جا رہے ہیں اور ہماری بہنیں اپنے آپکو احساس کمتری کا شکار کرتی ہوئی نظر آتی ہیں اور وہ بڑے آسان لفظوں میں ایک اتنا بڑا جملہ کہ دیتی ہیں جو تمام مردوں کے منہ پر زبردست تھپڑ ہے.


 وہ جملہ یہ ہے.

*میں بوجھ ہوں گھر والوں پر*


اللہ اکبر اللہ اکبر: ان قوم مسلم کے مرد حضرات کو شرم سے مر جانا چاہیے جنکے درمیان میں یہ جملہ کہنے والی بچیاں موجود ہوں ان حضرات کو اپنے آپ کو چوڑی پہنا کر گھر میں عورتوں والے کام پر لگا لینا چاہیے کیونکہ وہ مرد کہلانے کے قابل نہیں آخر کیا وجہ ہے جو اس چار دیورای میں رہنے والی لڑکی کے منہ پر یہ بات عیاں ہوئی.


آو سنو وجہ یہ ہے،

 جب اس کم سن لڑکی سے کوئی غلطی ہو جائے تو پوری کائنات اس پر تھو تھو کرنا شروع کر دیتی ہے اور طرح طرح کے مصائب و آلام کا مقابلہ کرکے جب یہ تھک جاتی ہے اور گھر کا ہر انسان جب اسے فقط شک کی نگاہوں سے دیکھنا شروع کر دیتا ہے اور ہر لمحہ اس معصوم سی بچی کو ڈسکریج کرنے لگتا ہے اور اس بچی کو اندرونی اعتبار سے اتنا کمزور کر دیا جاتا ہے کہ یہ ہر حق بات عیاں کرنے سے ڈر محسوس کرنے لگتی ہے حتی کہ یہ اپنی بیماری کو عیاں کرنے سے گریز کرتی ہے کیونکہ اسے ڈر ہوتا ہے کہ اگر میں نے کہا اور اس پر عمل نہیں کیا گیا تو میرا وجود چکنا چور تو ہے ہی اور اس پر نمک چھڑکنے لگے گا.

بھائی آپنے سنا ہوگا بڑا مشہور مقولہ ہے کہ انسان غلطیوں کا پتلا ہے اگر اس سے کوئی غلطی ہو جائے تو خدارا معاف کردیں اسے سمجھائیں اسے تنگ کرنے کے بجائے حوصلہ دیں،

میں پوچھنا چاہتا ہوں بھائی اس آپکی بیٹی آپکی بہن آپکی بھتیجی نے آخر یہ قدم کیوں اٹھایا تو بات صاف نظر آتی ہے کہ ہماری محبتیں ہماری رفاقتیں اسے اچھی نہ لگیں کیونکہ ہم نے وہ محبت کری ہی نہیں جسکی اسکو ضرورت تھی ہم نے کبھی نہیں پوچھا بیٹی آپکو کیا اچھا لگتا ہے بہن آپکو کیا اچھا لگتا ہے پھر شکایت زمانے سے، کاش آپنے اسے حوصلہ دیا ہوتا کاش آپنے اس کے ساتھ ٹائم بتایا ہوتا کاش آپنے اسکے جزبات کو سمجھنے کی کوشش کی ہوتی تو اسکی زباں پر یہ جملہ رواں نہ ہوتا جسکی وہ اس وقت مصداق بنی ہوئی ہے.


چلیے اسکو چھوڑیے یہ میرا نظریہ ہے *لیکن آو قرآن تو سنو قرآن کیا کہتا ہے* 


اللہ کریم قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے(الرجال قوامون علي النساء ) معنى. ہم نے مرد کو حکمراں بنایا ہے عورتوں پر.

کیا حکمرانی کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اسے بےیارو مددگار چھوڑ دیا جائے؟کیا حکمرانی کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اسے کہا جائے ہم کھلاتے ہیں تمہیں؟

کیا حکمرانی کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اسے طعنہ و تشنیع کی جائے؟

کیا حکمرانی کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اسے مارا جائے؟

کیا حکمرانی کا مطلب یہ ہوتا کہ اسے بات بات پر تنگ کیا جائے؟

کیا حکمرانی کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اسے جہیز کے طعنے دئے جائیں؟

کیا حکمرانی کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس سے کہا جائے اپنی کفالت خود سے کر؟

کیا حکمرانی کا مطلب یہ ہوتا کہ پورے گھر کے سامنے اس پر ہاتھ اٹھاکر اسکی عزت کو پامال کر دیا جائے؟

کیا حکمرانی کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اسے ہر کام سے روک کر یہ جتلایا جائے کہ اوقات میں رہو تم لڑکی ہو؟

کیا حکمرانی کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اپنی زندگی کا ڈسیزن ہمارے کہنے پر لینا ہوگا؟

بھائی مجھے بتائیں کیا مطلب ہوتا ہے حکمرانی کا؟

 کیا یہی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سمجھایا ہوا دین ہے ؟

کیا یہی ہے امت کو دی ہوئی تعلیم کے ان کے درمیان میں پیدا ہونے والی بچی کو اس موڑ پر کھڑا کر دینا کہ وہ اپنے آپکو بوجھ بتانے لگے اور اپنے لڑکی پیدا ہونے کا سوگ منائے، پھر کبھی کمپرومائز کر کے دیکھنا یہودی و نصارٰی سے اور دیکھنا ہم کس حد تک گرے ہوئے لوگ ہیں کہ انکے یہاں نحوست سمجھا جاتا ہے لڑکیوں کو ہمارے یہاں نہیں یقینا دو بوند پانی میں ڈوبنے کا مقام ہے.


او میرے بھائی کبھی پڑھ تو پیغمبر اسلام کو میرے نبی نے فرمایا کہ جسکی تین بیٹیاں ہوں انکی اچھے سے کفالت کرکے شادی کر دے تو میں محمد ابن عبد اللہ محمد رسول اللہ اسکی جنت کی ضمانت لیتا ہوں پھر ایک صحابی رسول کھڑے ہوئے کہا یا رسول اللہ اگر دو ہوں ؟نبی اکرم نے فرمایا تب بھی.


کیا تم بھول گئے نبی اکرم کی اس حدیث کو فرمایا کہ بیٹی گھر والوں کے لئے رحمت ہے جب شوہر کے گھر جائے تو شوہر کے لئے رحمت ہے اور پھر جب ماں بن جائے تو اس قدموں کے نیچے جنت, (او کما قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم).


آو میں بتاؤں کیا مطلب ہے حکمرانی کا.

يقول تعالى( الرجال قوامون على النساء ) أي الرجل قيم على المرأة ، أي هو رئيسها وكبيرها والحاكم عليها ومؤدبها إذا اعوجت.

یعنی مرد عورت کا نگہبان، محافظ، رہنما اور سرپرست ہے, اس کا یہ مطلب نہیں کہ مرد عورت پر ظلم کرے یا اسے کمزور سمجھے, بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ مرد کو عورت کی بہتری اور خوشحالی کے لیے کوشش کرنی چاہیے,حوالہ تفسیر ابن کثیر 


جس قوم کے مردوں کو حوصلہ دینا تھا وہی آج درندے بنے بیٹھیں ہیں اور انکے گھر میں پلنے والی وہ بچی گھٹ گھٹ کر اپنی زندگی کے سانسوں کو گن رہی ہیں, خدا کی قسم اگر ہم نے انہیں عزتیں دینا شروع کردی تو پھر وہ دن دور نہیں کہ پھر ہمارے بچے مجاہد, مفسر, محدث, مبلغ, بنتے ہوئے نظر آئیں گے.


بھائی آپ حوصلہ دو آپ کہیں میں آپکے ساتھ ہوں آپ جو کرنا چاہتی ہو کرو جو سیکھنا چاہتی ہو سیکھو ہم ہیں آپکے ساتھ اسے محبت دیں اپنے گھر سے اور ایک مضبوط آدمی کی طرح ہاتھ تھامیں اور ہر موڑ پر راہنمائی کریں اسی لئے آپکو حکمراں بنایا گیا ہے اسی لئے آپکو فوقیت دی گئی ہے نہ کہ اس لئے کہ آپ اسے ڈسکریج کرکے اتنا توڑ دیں کہ وہ حق بات بولنے پر بھی پابندی محسوس کرنے لگے جب یہ چیز ہمارے گھر سے سیکھ کر جائے گی تو کہیں بھی حق کہنے سے پہلے دس بار سوچے گی کیونکہ ہم نے ذھن ایسا بنا دیا ہے اتنا توڑ کر رکھ دیا ہے کہ وہ پوری زندگی شرابی جواری بد بخت ذلیل انسان کے ساتھ گذار کر اللہ کو پیاری ہو جاتی ہے خدارا رحم کھائیں ان بچیوں پر.


اور میں پوچھنا چاہتا ہوں تعلیم یافتہ لوگوں سے کیا جتنا مرتبہ اسلام نے عورت کو دیا ہے پوری دنیا کے پاس اسکی کوئی مثال ہے؟

نہیں خدارا کبھی نہیں یہ صرف اسلام کی خصوصیت ہے، اور کس نے کہا اسلام کی شہزادیاں کمزور ہوتی ہیں بلکہ اگر تاریخ کا مطالعہ کیا جائے، تو یہ پوری دنیا کی عورتوں میں سب سے زیادہ بہادر ہوتی ہیں اسلیے کے اسلام نے جھکنا نہیں سکھایا، جھکے جن کا مذہب پاورفل نا ہو الحمدللہ ہمارا مذہب، مذہب اسلام ہے جو کل بھی پاور فل تھا اور آج بھی ہے اور ہمیشہ رہے، گا انشاءاللہ.


اللہ کریم ہمیں سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے..


آج کی تحریر تھوڑی سخت ہے اگر کسی کو بری لگے میں معذرت خواہ ہوں؟


        ✍️ متعلم الجامعۃ الاشرفیہ ✍️