شیخ قائد ابو معاذ سعد نے جنگ کے مہینوں کے دوران قرآنِ مجید حفظ کرنے میں مشغول رہے اور معرکے کے وسط کے بعد انھوں نے حفظ مکمل کیا۔ وہ ہر ہفتے پورا قرآن زبانی ختم کرتے اور روانی سے پڑھتے تھے۔ ان کی شہادت کے وقت ان کی جیب سے یہ پرچی ملی، جس پر انہوں نے لکھا تھا:
"یہ اللہ کی مضبوط رسی ہے، روشن نور ہے، فائدہ مند شفا ہے جو اس سے مضبوطی سے وابستہ ہو اس کے لیے حفاظت ہے، اور جو اس کی پیروی کرے اس کے لیے نجات ہے۔ اس میں کوئی ٹیڑھ نہیں کہ سیدھا نہ کرے، نہ کوئی کجی کہ پلٹنے کی حاجت پڑے کثرتِ تکرار سے پرانا نہیں ہوتا اور اس کے عجائب کبھی ختم نہیں ہوتے۔پس اسے پڑھو، کیونکہ اللہ ہر حرف کے بدلے تمہیں دس نیکیاں عطا فرماتا ہے۔"
پھر انہوں نے یہ دعا لکھی:
"اے اللہ! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما، مجھے ہدایت دے، مجھے عافیت دے، مجھے رزق عطا فرما، میری مدد فرما اور مجھے سنبھال لے۔"
اللہ آپ پر رحم فرمائے اے روزہ دار، قیام کرنے والے، حافظِ قرآن۔ ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ آپ کو فردوسِ اعلیٰ عطا فرمائے، آپ کو انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کے ساتھ جمع کرے، اور ہمیں بھی اپنی رحمت کے ٹھکانے میں آپ کے ساتھ اکٹھا کرے۔ بے شک وہی اس کا ولی اور اس پر قادر ہے۔