میری بہن ،،،،! حصہ اول
31 جنوری، 2026
اے ظلم کی چکی میں پستی عافیہ؛ آپ محمد بن قاسم جیسے سلار کا انتظار مت کر، اے میری عراقی مظلوم بہن تو اپنی عزت کی فکر خود کر۔ اے عالم اسلام کی پاک دامن بہن آج امت قومیت لسانیت وطنیت میں بٹ گئی ہے ۔اسے غزہ میں سسکتی بہن کی پکار نے نہیں جھنجھوڑا ۔وہ اور لوگ تھے جو ایک بہن کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے سلطنت الٹ دیتے۔وہ اور تھے جو چنگیز خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھڑے ہوتے۔ کہ چنگیز خان بھی بول اٹھتا کہ خوش نصیب ہیں وہ ماں باپ جس کی ایسی بہادر اولاد ہو ۔جی ہمارا ماضی ایسا تھا کہ ایک جنگ میں ہمارے ایک شیر نے نو تلواریں توڑ دیں۔اور ہماری سادگی ایسی تھی کہ ہمارے خلیفہ قدس فتح کرنے گئے تو غلام سواری پر سوار ہے ۔اور آقانے سواری کی لگام پکڑی ہے ۔دشمن نے اسی چیز کو دیکھ کر ہی قدس کی چابی حوالے کر دی بغیر جنگ کے ہی فتح حاصل کی ۔ہم دشمنی بھی خداتعالیٰ کی رضا کے لئے کرتے تھے ۔اگر دشمن ہمارے منہ پر تھوک دیتا تو فوراً ہٹ جاتے کہ اب اس لڑائی میں ہماری ذات بھی شامل ہوجاےگئی۔آج عرب کہتے ہیں کہ عجم کی بیٹی ہے عجمی جانیں ۔عجمی کہتے ہیں کہ یہ تو پاکستانی ہے۔اور پاکستانی کہتے ہیں کہ وہ تو امریکہ کی شہریت رکھتی تھی ۔اے امت مسلمہ کیا تونے محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کو بھول گئے (المسلم اخواالمسم)کب تک آخر مسلم بیٹی پستی رہے گئی۔ کب تک، آخر ،کب تک؟