(26)مضمون
بسمِ اللّٰہِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیم
مدارسِ اسلامیہ — ایمان کے قلعے، فتنوں کے مقابلے کی آخری دیوار
-----------------------
الحمد للّٰہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علی سید المرسلین، وعلی آلہ و صحبہ أجمعین۔
قرآن نے امتِ مسلمہ کو واضح خطاب فرمایا کہ وہ “اُمَّۃً خَیْرًا” وہ قوم ہے جو نیکی کا حکم دیتی اور برائی سے روکتی ہے۔ اس آیت کا مفہوم یہی ہے کہ سماجی ادارے، تعلیمی مراکز اور دینی ادارے جب مضبوط ہوں گے تو معاشرہ فاسد قوتوں کے مقابلے میں کھڑا رہ سکے گا۔
یہی تعلیم ہمیں ظالمانہ روئیوں، بے حسی اور بے ترتیبی کے خلاف اجتماعی شعور پیدا کرنے کا تقاضا کرتی ہے: مدرسے، مدارس، مساجد، اور دینی ادارے صرف عبادت کے مراکز نہیں — یہ تہذیبی، اخلاقی اور علمی مرکز ہیں جنہیں خارجہ حملوں، اندرونی کمزوریوں اور بدانتظامی سے بچانا لازم ہے۔
آج امتِ مسلمہ کے وہ قلعے جن سے علم، ایمان، اور کردار کی روشنی پھیلتی تھی — انہی مدارس پر حملے ہو رہے ہیں۔ کبھی قانون کے نام پر، کبھی دہشت گردی کے بہانے، کبھی نصاب کے بہروپ میں، اور کبھی اپنے ہی لوگوں کی بے حسی سے۔
یہ حقیقت ناقابلِ انکار ہے کہ مدرسہ دشمنی دراصل ایمان دشمنی ہے، کیونکہ مدرسے ہی وہ چراغ ہیں جو غلامی کے اندھیروں میں بھی علم و دین کی روشنی پھیلاتے ہیں۔
قرآن کہتا ہے:
> "يَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ"
(سورۃ المجادلہ: 11)
یعنی اللہ اہلِ ایمان اور اہلِ علم کو بلند درجے عطا فرماتا ہے۔
یہی بلند درجات مدارسِ اسلامیہ کا جوہر ہیں۔
مدارس وہ بزم ہیں جہاں:
قرآن کے الفاظ روحوں میں اترتے ہیں،
نبی ﷺ کی سیرت کردار میں ڈھلتی ہے،
اور تقویٰ انسان کے دل میں ایمان کی چنگاری بھڑکاتا ہے۔
اگر یہ ادارے نہ ہوتے تو آج ہمارا ایمان، ہماری اذان، اور ہمارا قرآن محفوظ نہ رہتا۔
یہ وہی مدارس ہیں جنہوں نے برصغیر میں انگریزوں کی غلامی کے خلاف علم بلند کیا،
یہی وہ دارالعلوم دیوبند ہے جہاں سے آزادی کا نعرہ اٹھا،
یہی وہ ندوۃ العلماء ہے جہاں امت کے فکری بیدار دل تیار ہوئے،
اور یہی وہ ہزاروں چھوٹے بڑے مدارس ہیں جنہوں نے ایمان کو مٹنے نہیں دیا۔
آج حکومتوں کی نگاہ میں مدارس مشکوک ہیں،
ان کے طلبہ پر نظر، اساتذہ پر نظر،
کبھی مالی معاملات کو بہانہ بنایا جاتا ہے،
کبھی سیکیورٹی کے نام پر نگرانی،
اور کبھی نصاب کو بدلنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
یہ سب دراصل ایک ہی مقصد کے تحت ہے —
اسلامی شناخت کو کمزور کرنا،
ایمان کے سرچشموں کو خشک کرنا،
اور نئی نسل کو دین سے کاٹ دینا۔
قرآن نے ایسے فتنوں کے بارے میں پہلے ہی آگاہ کر دیا تھا:
> "وَلَا يَزَالُونَ يُقَاتِلُونَكُمْ حَتّٰى يَرُدُّوكُمْ عَنْ دِينِكُمْ إِنِ اسْتَطَاعُوا"
(البقرہ: 217)
یعنی یہ لوگ تم سے لڑتے رہیں گے یہاں تک کہ تمہیں تمہارے دین سے پھیر دیں اگر وہ استطاعت رکھتے ہوں۔
اور یہی ہو رہا ہے —
مدارس کے نصاب میں مداخلت،
ان کے فارغین کو دہشت گرد کہنا،
اور ان کے مالی ذرائع پر پابندی لگانا —
یہ سب دین سے پھیرنے کی چالیں ہیں۔
افسوسناک حقیقت یہ بھی ہے کہ کچھ ظلم باہر سے نہیں، اندر سے ہو رہا ہے۔
کچھ اربابِ اقتدار دین کے خادم نہیں،
بلکہ دینی نظام کے مفاد پرست بن گئے ہیں۔
کچھ مدارس اقرباء پروری، مالی بدعنوانی، اور مسلکی تنگ نظری میں الجھ گئے ہیں۔
یوں لگتا ہے جیسے ہم خود اپنے چراغ کو بجھا رہے ہوں۔
رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا:
> "إذا ضُيِّعَتِ الأمانةُ فانتظر الساعةَ"
(بخاری)
یعنی جب امانت ضائع کر دی جائے تو قیامت کا انتظار کرو۔
مدارس کی امانت علم ہے، کردار ہے، اور امت کی امید ہے —
اگر ہم نے اسے ذاتی مفاد کے لیے قربان کیا،
تو آنے والی نسلیں علم نہیں، صرف اندھیرا وراثت میں پائیں گی۔
آج میڈیا کا فتنہ، دولت کا فتنہ، فتنۂ شہرت،
اور لبرل فتنہ — ہر طرف پھیلا ہوا ہے۔
سوشل میڈیا کے شور میں علم کی صدا دب رہی ہے،
اور عوام علماء سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔
یہ وہ خطرناک موڑ ہے جہاں اگر مدارس بیدار نہ ہوئے تو فکری غلامی ہماری نئی زنجیر بن جائے گی۔
قرآن نے فرمایا:
> "فَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ" (ھود: 112)
یعنی ثابت قدم رہو جیسے تمہیں حکم دیا گیا ہے۔
یہی پیغام ہے —
ثابت قدمی، نظم، اصلاح، اور اجتماعی بیداری۔
آج ہر مدرسہ صرف تعلیم نہ دے،
بلکہ تربیت بھی کرے،
ہر استاد صرف درس نہ دے، بلکہ کردار بنائے،
اور ہر طالبِ علم صرف عالم نہ بنے بلکہ امت کا رہبر بنے۔
یہ وقت عملی اصلاح کا ہے:
نصاب کی تجدید،
میڈیا کے میدان میں قیادت،
اور ظلم کے خلاف آئینی جدوجہد۔
مدارس ہماری بقاء کا استعارہ ہیں۔
ان پر حملہ دراصل امت پر حملہ ہے۔
لہٰذا:
ہم ان کی حفاظت کریں،
اصلاح کریں،
اور ان کے خلاف ہر فریب کو بے نقاب کریں۔
قرآن کا فرمان ہے:
> "إِنَّ اللّٰهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنفُسِهِمْ"
(الرعد: 11)
یعنی اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدل دے۔
لہٰذا خود کو بدلنا، اپنے نظام کو درست کرنا،
اور ظلم کے خلاف کھڑا ہونا ہی عین دین ہے۔
“مدرسہ اگر زندہ ہے، تو امت زندہ ہے —
اور جب مدرسہ مر جائے، تو ایمان کی سانسیں بھی ٹوٹ جاتی ہیں۔”
اے اللّٰہ! ہمارے مدارس کو دین و ایمان کا قلعہ بنا دے،
اے رب! ہمارے اساتذہ کو علم و تقویٰ سے مزین کر،
اے اللّٰہ! ہمارے طلبہ کو امت کا سرمایہ اور باکردار رہنما بنا دے،
اے رب! ہمیں اپنوں کی غفلت اور دشمنوں کی سازشوں سے محفوظ فرما،
اور ہمیں وہ جرات عطا فرما کہ ہم حق کے علم کو جھکنے نہ دیں۔
آمین یا رب العالمین۔
بقلم محمودالباری
mahmoodulbari342@gmail.com