بیت المقدس کو بیت المقدس اس لئے کہا جاتا ہے ،کہ وہ شرک کی نجاست سے پاک سرزمین ہے۔
 زمین فلسطین کے اس تقدس کا سبب مسجد اقصیٰ اور ایک مبارک چٹان ہے ، اور یہ دونوں چیزیں وہاں حضرت موسیٰ اور حضرت عیسٰی علیہ السّلام کی بعثت سے پہلے سے موجود ہیں ۔
 حرم قدسی مبارک دو مسجدوں پر مشتمل ہے۔1مسجد صخرہ 2 مسجد اقصیٰ ان دونوں کے درمیاں اور ان کے گردو پیش کا پورا علاقہ فصیل تک اس میں شامل ہے ۔ 
معلوم یہ ہوا کہ مسجدِ اقصیٰ اس پورے علاقہ کا نام ہے جو فصل بند شہر قدس کے بالکل جنوب مشرق میں فصیل کے اندار ہے۔ اور جس کا نام اب قدیم شہر ہے اور یہ ایک مور یا نام کے پہاڑ پر واقع ہے یہ پہاڑ ان چار پہاڑوں میں سے ایک ہے جن پر شہر قدس (یروشلم ) آباد ہے۔
بیت المقدس اور اس کے مضافات کا پورا علاقہ مبارک ہے اس کو اللہ نے اپنے خاص فضل سے نوازا ہے مادی اعتبار سے یہ علاقہ جنت نظیر ہے اور یہ انبیاء و صالحین کا علاقہ ہے اور نہ جانے ان میں سے کتنے یہاں مدفون ہے۔
 اور اس کی اسلامیت کا آغاز اس وقت سے ہو گیا تھا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو روحانی و جسمانی طور پر یہاں لایاگیا تھا۔
پھر (١٦ھجری۔ 636 عیسوی )میں خلیفہ راشد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اس کو فتح کیا تھا اسی وقت سے یہ علاقہ اسلامی ہو کر دار الاسلام کا ایسا جز بن گیا جو قیامت تک دار الاسلام ہی رہے گا اور اس کی یہ اسلامیت غیروں کے کسی قبضہ کی وجہ سے ختم نہ ہوگی۔
 مسجد اقصی کا رقبہ تقریبا ایک لاکھ چوالیس ہزار اسکوائر میٹر ہے۔ یہ رقبہ فصیل بند شہر کا چھٹا حصہ ہے اور یہ POLYGONAL کی شکل میں ہے ۔
اس کی مغربی جانب کی لمبانی 491 میٹر ہے اور مشرق کی جانب کی 462 میٹر اور شمال جانب کی لمبائی 310میٹر ہے اور جنوبی جانب کی لمبائی 281 میٹر ہے۔
 جو شخص اس پورے علاقہ میں کہیں بھی نماز پڑھے چاہے کسی درخت کے نیچے یا کسی قبہ کے نیچے یہ کسی چبوترے پر یہ برآمدہ میں یا قبتہ الصخرہ کے اندر یا جامع قبلی یا مصلیٰ مروانی میں تو ایسے شخص کی نمار پر سے مسجد اقصیٰ میں نماز پڑھنے کا ثواب ملے گا۔ یعنی اس کی نمار دیگر مقامات کی نمازوں سے پانچ سو گناہ زائد ثواب والی ہوگی ۔
1 جامع قبلی مسجد اقصی کا جنوب اور قبلہ کی جانب کا ایک حصہ ہے اسی لیے اس کا نام جامع قبلی ہے یہ کالا قبہ والی عمارت ہے لوگ اس کو مسجد اقصیٰ کہہ دے تے ہیں حالانکہ یہ صرف اس کا جنوب اور قبلہ کی جانب کاحصہ ہے، 
یہ مسجد اس جگہ پر قائم ہے جہاں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے قدس کی اسلامی فتح کے وقت(14ھجری636عسوی) میں نماز ادا کی تھی اس کی تعمیر کا آغاز خلفیہ عبد المالک بن مروان نے کیا تھا اور اس کی تکمیل ان کے بیٹے ولید نے (86-92ھجری) میں کی تھی۔ اندر سے اس کی لمبائی 80میٹراور چوڑائی 55 میٹر ہے اس کا کالا قبہ ہے اور اس میں 5500 نمازیوں کی گنجائش ہے ۔
 قبہ الصخرہ مسجد اقصیٰ کے اندر شمال کی جانب واقع ہے اور وہ معراج کی چٹان کے اوپر ہے اس کی تعمیر کا حکم خلیفہ عبد الملک بن مروان 688عیسوی میں دیا تھا اور آج تک یہ شہر مبارک کی خوبصورت نشانی ہے اور تا قیامت رہے گی انشاء اللہ تعالیٰ۔

 آج کوئی صلاح الدین ایوبی نہیں جو تاریخ کا رخ موڑ سکے لیکن اس کی وجہ یہ نہیں کہ مسلم اُمہ بانجھ ہو چکی ہے ۔
 آج بھی سلطان صلاح الدین ایوبی کے جانشین پیدا ہو سکتے ہیں لیکن اس کے لیئے ضروری ہے کہ مسلم نو جوانوں میں لہو و لعب کو رواج دینے کی بجائے مقاصد عالیہ کے حصول کی فکر پیدا کی جائےانہیں انہیں فسق و فجور و کے رجحانات سے بچا کر جہاد کے ذوق اور شہادت کے شوق سے آشنا کیا جائے۔
بخدا آج ایونی کے کتنے فرزند ہیں جو اس کے جانشین بن سکتے ہیں اور کتنے ہی مسلم نوجوان ایسے ہیں 
 جو اپنے وقت اور صلاحیتوں کو صحیح مصرف میں استعمال کریں تو مسجد اقصیٰ کی جنت گم گشتہ مسلمانوں کو واپس دلا سکتے ہیں۔ 

لیکن انہیں عزت و شہرت کے راستے سے ہٹا کر بے مقصد کھیل تفریح اور فضول مشغولیات میں لگا دیا گیا ہے ۔ 

اے ایوبی کے فرزندوں اپنے مقام اور اپنی ذمہ داریوں کو پہنچانے کے لئے کمر بستہ ہو جاؤ
ورنہ جسے یہ دنیا ہم پر تنگ کر دی گئی ہے ۔۔
کل قبر بھی ایسے ہی تنگ نہ ہو جائے کہ زمیں ہماری لاشوں کو قبول کرنے سے انکار کر دے ۔ 
اے مسجد اقصیٰ تجھے عزت بخشنے والے کی قسم یہ تیرے بیٹے اگر تجھ تک نہ پہنچ سکے تو تیرے گرد اپنے خون اور جسموں سے ایسی باڑ ضرور تعمیر کر دیں گے جو تیرے دشمن کو تجھ تک نہ پہنچنے دے گی۔۔۔۔۔ انشا اللہ تعالیٰ⁦🇵🇸⁩


محمد ابرار رشید
متعلم جامعہ معدن العلوم 
جھمراوٹ