محمد ابرار رشید 🖊️🖊️🖊️
آج سے تقریبا دو سال پہلے 7 اکتوبر 2023 کو حماس کی جانب سے اسرائیل پر ایک تاریخی حملہ کیا گیا تھا جس میں اسرائیل کے تقریبا 1200 لوگ مارے گئے تھے اور یہ دن یہودیوں کا عید کا دن تھا جس دن فلسطین پر قابض یہودی اپنا مذہبی تہوار منا رہے تھے اسی دن فلسطین کے مجاہدین نے ایک ایسا حملہ کیا تھا کہ اس دن آسمان اور زمین سمندر غرض ہر طرح سے اسرائیل پر مجاہدین نے 30 40 کلومیٹر تک آگ برسا دی گویا کہ اسرائیل کے آئرن ڈون اور فوج کو مجاہدین نے اپنے جوتے کی نوک پر رکھ کر پھینک دیا اور قابض یہودیوں میں سے تقریبا 1500 یہودی مجاہدین نے یرغمالی بنا لئے گئے ۔آپ ساتھ اکتوبر کے حملے کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ اسرائیل نے اس کے جواب کے نام پر جو گنڈا گردی کی ہے ۔کہ غزہ کو دو سال کے اندر ملبے کا ڈھیر بنا دیا اور تقریبا ایک لاکھ سے زائد بچے بوڑھے مرد اور عورتوں کو شہید کر دیا ۔ لیکن اسرائیل سات اکتوبر کو نہیں بھولا اور دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے دو سال کے اندر تمام عرب ممالک صرف زبانی مذمت کرتے رہے، اور اسرائیل کے ساتھ ان کے تعلقات ویسے ہی رہے جیسے پہلے تھے، عرب ممالک سے بہتر تو یورپ کے کچھ ملک ہیں جنہوں نے کھل کر فلسطینیوں کا ساتھ دیا جن میں سب سے زیادہ نام فرانس اسپین اٹلی اور کناڑا جیسے ملک شامل ہیں ۔لیکن مسلم 57ممالک ہیں ان میں سے ایک بھی فلسطین کے ساتھ کھڑا نہیں ہوا ۔ لیکن مسلم ممالک اسرائیل کے ساتھ تو اپنے تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ اور دبئی کے شیخ نے تو اپنی منافقت سے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ غزہ اور اسرائیل کی جنگ نہیں بلکہ حماس اور اسرائیل دنیا کو بے وقوف بنا رہے ہیں۔ اس کو پتہ نہیں کہ فلسطینیوں نے اپنے بچے بوڑھے جوان مرد اور عورتوں کو قربان کر دیا، اور وہ کہہ رہا ہے کہ یہ تماشہ کر رہے ہیں آج اللہ تعالی نے یورپ کے غیر مسلموں سے کام لیا ،اور وہ اپنے اپنے ملکوں میں فلسطین کے لیے اواز اٹھا رہے ہیں اور فلسطین کو الگ ریاست ماننے کے لیے یورپ کے ہی ملک اگیے آے ہیں ۔