ہجوم کی تنہائی

✍: جلیل القاسمی
نائب قاضی و استاذ مدرسہ
بدرالاسلام، بیگوسرائے، بہار

یہ کیسا عہد ہم پر آ پڑا ہے
ہجومِ شہر میں تنہا ہوئے ہم

انسانی معاشرہ رشتوں کی نازک مگر مضبوط ڈور سے بندھا ہوا ہے۔ جب یہ ڈور سلامت رہے تو زندگی میں توازن، سکون اور معنویت باقی رہتی ہے؛ لیکن جب یہی رشتہ مفاد کی تیز دھار پر کٹنے لگے تو انسان ہجوم میں رہ کر بھی تنہائی کا ذائقہ چکھنے لگتا ہے۔ آج کا انسان اسی ذائقے سے آشنا ہو چکا ہے—ایک ایسی تنہائی جو شور میں بھی خاموش رہتی ہے۔
ہم ایک ایسے عہد میں سانس لے رہے ہیں جہاں ملاقاتیں تو بہت ہیں، مگر اپنائیت نایاب ہوتی جا رہی ہے۔ گفتگو جاری ہے، مگر دل شریک نہیں۔ تعلقات موجود ہیں، مگر ان میں خلوص کی حرارت مدھم پڑتی جا رہی ہے۔ اب اکثر رشتے دل کے نہیں، ذہن کے فیصلے بن چکے ہیں۔ قدم اٹھانے سے پہلے فائدہ سوچا جاتا ہے، اور فائدہ نظر نہ آئے تو راستہ بدل لیا جاتا ہے۔ یہ طرزِ فکر بظاہر سہولت فراہم کرتا ہے، مگر باطن میں روح کو بنجر کر دیتا ہے۔
کبھی رشتے خوشبو کی طرح بے ساختہ بکھر جایا کرتے تھے۔ کسی کو یاد کرنے کے لیے وجہ درکار نہ تھی، حال پوچھنا رسم نہیں بلکہ دل کی صدا ہوا کرتا تھا۔ دروازے کھٹکھٹانے سے پہلے یہ نہیں سوچا جاتا تھا کہ کیا ملے گا، بس اتنا کافی ہوتا تھا کہ سامنے والا اپنا ہے۔ مگر وقت کی تیز رفتار گردش، معاشی دباؤ اور مسلسل مقابلہ آرائی نے انسان کو اپنے ہی حصار میں قید کر دیا۔ اس نے خود کو بچانے کے نام پر جذبات پر پہرے بٹھا دیے اور تعلقات کو حساب کی میز پر رکھ دیا۔
اس تبدیلی کی سب سے گہری ضرب خاندانی اور سماجی رشتوں پر پڑی۔ دوستیاں رسمی ہو گئیں، گفتگو سطحی رہ گئی، اور گھر—جو کبھی دلوں کا مرکز ہوا کرتا تھا—اسکرینوں میں بٹ کر رہ گیا۔ ایک ہی چھت کے نیچے رہتے ہوئے بھی دل ایک دوسرے سے اوجھل ہونے لگے۔ بزرگوں کی باتیں وقت کا ضیاع سمجھی جانے لگیں، اور نئی نسل اپنے الجھے ہوئے سوالات کے ساتھ تنہا کھڑی رہ گئی۔
یہ کہنا درست نہیں کہ انسان کے دل سے محبت ختم ہو گئی ہے؛ اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ محبت کے اظہار سے خوف زدہ ہو گیا ہے۔ خلوص کو کمزوری، اپنائیت کو خطرہ اور قربانی کو خسارہ سمجھ لیا گیا ہے۔ یہی خوف آہستہ آہستہ فاصلے پیدا کرتا ہے، اور فاصلے رفتہ رفتہ بے حسی میں بدل جاتے ہیں۔ بے حسی وہ خاموش زہر ہے جو پورے معاشرے کی رگوں میں سرایت کر جاتا ہے۔
حالانکہ دینِ اسلام اور آفاقی انسانی اخلاقیات ہمیں اس کے برعکس راستہ دکھاتی ہیں۔ صلہ رحمی، حسنِ سلوک، ایثار اور خیر خواہی—یہ محض اخلاقی نصیحتیں نہیں بلکہ معاشرتی بقا کے ستون ہیں۔ سلام میں پہل کرنا، بیمار کی عیادت، غم زدہ کے ساتھ کھڑا ہونا اور بلا کسی غرض کے آسانی پیدا کرنا—یہ وہ اعمال ہیں جو دلوں کو جوڑتے اور معاشرے میں زندگی کی حرارت برقرار رکھتے ہیں۔ جب یہ اقدار کمزور پڑ جائیں تو عبادتیں بھی رسمی اور اخلاق محض کتابی عنوان بن کر رہ جاتے ہیں۔
ڈیجیٹل دور نے رابطوں کو بے حد آسان بنا دیا، مگر تعلقات کو گہرا نہ کر سکا۔ پیغامات بڑھ گئے، احساس کم ہو گئے۔ ہم وقت تو بانٹتے ہیں، مگر توجہ نہیں دیتے۔ ہم بات تو کرتے ہیں، مگر سننے کی زحمت نہیں کرتے۔ یہی عدم توجہی انسان کو ایک نادیدہ تنہائی کے اندھیرے میں دھکیل دیتی ہے، جہاں روشنی موجود ہوتی ہے مگر اجالا محسوس نہیں ہوتا۔
اصلاح کا راستہ نہ بہت طویل ہے اور نہ ہی دشوار—بس نیت کی درستی چاہتا ہے۔ بڑے نعروں اور انقلابی دعوؤں کی ضرورت نہیں؛ اتنا ہی کافی ہے کہ ہم اپنے دائرے میں خلوص کو زندہ رکھیں۔ بلا وجہ کسی کو یاد کر لینا، بغیر کسی خاص موقع کے مل لینا، اور کسی کے درد کو اپنا درد سمجھ لینا—یہی وہ چھوٹے چراغ ہیں جو اجتماعی اندھیروں کو شکست دے سکتے ہیں۔
یہ تحریر شکایت نہیں، دعوت ہے؛ مایوسی نہیں، امید کی ایک کرن ہے۔ اگر ہم نے وقت رہتے رشتوں کی اصل پہچان کو پا لیا تو بہت سی الجھنیں خود بخود سلجھ جائیں گی۔ تب تعلقات بوجھ نہیں رہیں گے بلکہ سہارا بنیں گے، اور معاشرہ مفاد سے نہیں بلکہ انسانیت سے پہچانا جائے گا۔

لوٹ آؤ خلوص کی گلی میں
اب بھی  چراغِ دل  جلتا ہے

اور شاید اسی دن ہم پورے یقین سے کہہ سکیں گے کہ
اب بھی اس دنیا میں
کچھ رشتے ایسے ہیں
جو صرف دل سے جڑتے ہیں۔ 30/01/2026