آج مجھے اپنے اشرف المخلوقات ہونے پر شرمندگی محسوس ہوئی جب میں نے ابنِ خلدون کی یہ بات پڑھی کہ
"پرندے کا دماغ صرف 2 گرام ہے اور وہ آزادی کی تلاش میں ہے۔ کچھ لوگوں کے سر کا وزن 5 کلو ہے اور وہ ذلت اور غلامی کی تلاش میں ہیں..!! "
ابنِ خلدون تاریخ کے بڑے دماغوں میں سے ایک دماغ تھا اس نے ایک اور عجیب بات بھی کہی کہ
"اگر مجھے ظالم حکمرانوں اور غلاموں میں سے کسی ایک کو مٹانے کا اختیار ملے تو میں غلاموں کو مٹا دوں گا کیونکہ یہ غلام ہی ہیں جنہوں نے ظالم حکمران پیدا کیئے ہیں.
کیونکہ ان غلاموں کی وجہ سے آج غزہ لہو لہان ہے ٫مزید اس پر یہ کہ ہم اس ظلم کو روکتے افسوس صد افسوس کہ کچھ مسلمان آج غزہ کو ڈھانے کے درپے ہیں ٫وہ آزادی کیے جنگجووں کو غیر مسلح کرنے کے درپے ہیں ٫مجھے اپنے انسان ہونے پر شرمندگی ہوئی کہ المسلم اخواالمسم پر تو عمل نہ کیا تھا ٫مگر یہودو نصاری کی دعوت پر لبیک کہتے ہوئے ان سے جا ملے٫
کاش کہ ہم غلامی سے نکل آئیں:
کاش اے کاش