*جواب بر سبیلِ الزام و محاسبہ*
(عوامی تکفیر کے بیانیے پر اعتراض کے جواب میں)
آپ کی تحریر بظاہر درد، خیر خواہی اور فکری ذمہ داری کے خوبصورت الفاظ میں لپٹی ہوئی ہے، مگر اگر اس کو جذبات سے ہٹا کر علمی انصاف کے ساتھ پڑھا جائے تو چند بنیادی الزامات اور فکری مغالطے پوری شدت کے ساتھ سامنے آتے ہیں،اور ہر تحریر میں یہ دعوی کیا جاتا ہے،کہ کسی مسلک کے خلاف نہیں اور نام بھی ذکر کیا جاتا ہے،اور میں اپنی ہر جوابی مضمون میں اسکو کہتا رہا ہوں، اس کا جواب نہ دے کر ہر بار ایک نئی فکر کو جنم دیا جاتا ہے،خیر کوئی بات نہیں،اب یاد رکھیں کہ یہ تحریر کسی شخصی نیت پر حملہ نہیں، بلکہ آپ کے قائم کردہ بیانیے کا خلاصہ ہے۔
*پہلا الزام* آپ نے فقہ اور منبر کے درمیان مصنوعی تضاد کھڑا کیا ہےآپ بار بار یہ تاثر دیتے ہیں کہ *فقہ کچھ کہتی ہے، منبر کچھ کہتا ہے*یہ بات اپنی اصل میں ثابت شدہ نہیں بلکہ مفروضہ ہے،فقہ بھی یہ کہتی ہے، اور منبر بھی یہی کہتا ہے کہ:ہر اختلاف کفر نہیں، ہر بدعت مکفِّر نہیں، ہر غلطی خروج عن الاسلام نہیں،لیکن آپ نے چند غیر ذمہ دار، غیر نمائندہ اور غیر مستند بیانات کو اٹھا کر پورے اہلِ سنت کے منبر و محراب کا تعارف بنا دیا،
یہ علمی نقد نہیں، بلکہ عمومی الزام (Generalization) ہے۔
*سوال یہ ہے*کیا فقہ کی کتابیں منبر کے خلاف ہیں؟یا منبر فقہ کے خلاف؟یا آپ نے خود ایک جذباتی بیانیہ تراش کر دونوں کو آمنے سامنے لا کھڑا کیا ہے؟
*دوسرا الزام* آپ نے عوامی لغزش کو مسلکی منہج بنا کر پیش کیا۔یہ کہنا کہ:یہ سب افراد کرتے ہیں، مسلک نہیں،اور پھر اسی جملے کو ناکافی قرار دینا، خود ایک فکری تضاد ہے،کیونکہ اگر غلطی فرد کی ہے تو اصلاح فرد کی ہوگی،اگر غلطی منہج کی ہے تو اس کے اصولی نصوص دکھائے جائیں گے،آپ نے:کسی مسلک کی اصولی کتاب کسی مستند فتوے،کسی متفقہ منہج سے یہ ثابت نہیں کیا کہ:اہلِ سنت کا عوامی بیانیہ عمومی طور پر تکفیر پر قائم ہے،اور اگر آپ کہیں کہ خطباء کی تقاریر تو پھر یہ تو آپ کے یہاں بھی ہے، وہ کیوں آپکو تسلیم نہیں، یہاں الزام ہے دلیل نہیں،اور یہ خود کو بچاکر دوسرے کو آگ میں ڈھالنے کے مانند ہے۔
*تیسرا الزام* آپ نے تکفیر اور تضلیل کو عمداً خلط ملط کیا، آپ کی تحریر میں بار بار یہ جملے آتے ہیں: گمراہ، بدعتی، منکرِ شانِ رسالت، اور پھر اچانک نتیجہ نکالا جاتا ہے،یہ دائرۂ اسلام سے خارج کرنے کے مترادف ہے،بھائی یہ نتیجہ کس اصول کے تحت وجود میں آیا؟ یہ الزام ہے، یہ علمی خیانت ہے،میں ہر تحریر میں عرض کر چکا ہوں کہ:ہر گمراہی کفر نہیں، ہر بدعت شرک نہیں،ہر منکر کافر نہیں،آپ نے خود بھی تسلیم کیا ہے کہ *دوسرے مسالک آپ کو عموماً بدعتی کہتے ہیں، مگر کافر نہیں*
تو پھر یہی اصول ادھر کیوں جرم اور ادھر کیوں خیر خواہی بن جاتا ہے؟
*چوتھا الزام* آپ نے اخوت کو عقیدے کے مقابل لا کھڑا کیاآپ قرآن کی آیت *﴿إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ﴾* پیش کرتے ہیں، مگر اس کے ساتھ یہ بھول جاتے ہیں کہ قرآن نے اخوت ایمان کے بعد قائم کی ہے،نہ کہ عقیدے سے بے نیاز ہو کر،اہلِ سنت کا منہج یہ نہیں کہ باطل کو خاطر میں لا کر اخوت بچائی جائے،بلکہ یہ ہے کہ باطل کو باطل کہا جائے،مگر تکفیر میں احتیاط رکھی جائے، آپ کے بیانیے میں خطرہ یہ ہے کہ باطل کو باطل کہنا بھی نفرت قرار پا رہا ہے،یہ اخوت نہیں، فکری مداہنت ہے۔
*پانچواں الزام* آپ نے تقیہ کی اصطلاح کو غیر منصفانہ طور پر استعمال کیا، آپ کہتے ہیں: یہ الزام نہیں، تشخیصی اصطلاح ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ تقیہ ایک مخصوص اعتقادی مفہوم رکھتا ہے،اسے اس طرح استعمال کرنا خود ایک الزامی فریم ہے،عقیدہ، فقہ، منبر اور عمل میں فرق ہر معاشرے میں ہوتا ہے،ہر مسلک میں ہوتا ہے،ہر دور میں ہوتا ہے،اس فرق کو تقیہ کہنا اصلاح نہیں، بداعتمادی کی بنیاد ہے۔
*اصل مسئلہ کیا ہے؟*اصل مسئلہ یہ نہیں کہ اہلِ سنت تکفیر کرتے ہیں اصل مسئلہ یہ ہے کہ: اختلاف برداشت نہیں کیا جا رہا، تنقید کو تکفیر بنا کر پیش کیا جا رہا ہے،اور فکری حدود کو شعوری طور پر دھندلایا جا رہا ہے، آپ کا قلم کہتا ہے،میں فقہ کو نہیں، بیانیے کو کٹہرے میں کھڑا کرتا ہوں، مگر حقیقت یہ ہے کہ آپ نے بیانیے کے نام پر پورے منہج کو ملزم بنا دیا۔
*آخری سوال* کیا حل یہ ہے کہ:
باطل پر خاموشی اختیار کی جائے؟
عقیدے کو نرم زبان پر قربان کیا جائے؟ اور ہر ردّ کو نفرت کہا جائے؟
اگر نہیں، تو پھر حل الزام تراشی نہیں،حل اصلاحِ منبر ہے، حل علمی تربیت ہے،حل فرق ہے تکفیر اور تنقید کے درمیان،لیکن اس فرق کو مٹانا
امت کو جوڑنے نہیں،بلکہ مزید الجھانے کا راستہ ہے،فلہٰذایہ تحریر اصولی سوال کم اور بیانیاتی الزام زیادہ ہے،جس میں درد ضرور ہے،مگر توازن نہیں،اور بغیر توازن کے نہ فقہ محفوظ رہتی ہے نہ اخوت، نہ امت،پھر جوڑنے کی بات لغو ہوئی،اس طرح فقط دعوی ہی کرتے رہنا،اور کسی ایک مسلک کا نام لیکر پھر رخ منبر و محراب سے جوڑ دینا،دو تضاد چیزوں کو ایک جگہ قائم کرنا قرار پاتا ہے،اور اصول ہے متضاد چیزیں یک جہ نہیں ہو سکتی،پھر سب کچھ مفروصہ قرار پاتا ہے۔
جوابات میں تاخیر کے لیے معذرت خواہ ہوں میں ایک طالب علم ہوں،اور لکھنے میں ٹائم لگتا ہے،اور میرے جامعہ میں ایکزام چل رہے ہیں،دعا کریں اللہ کریم مجھے کامیابی عطا فرمائے،حق لکھنے اور حق پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرمائے، ایمان پر خاتمہ فرمائے،علمائے حقہ کے ساتھ میرا حشر فرمائے آمیـــــــــــــــــن یــــا رب الــــــــعـــــــالــــــمـــــیــن بجاہ النبی الکریم ﷺ
*✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*