علم کی اہمیت اور انسان کی ترقی
علم انسان کو عطا کی گئی سب سے بڑی نعمتء ہے۔ یہی وہ چراغ ہے جو اندھیروں میں روشنی دکھاتا ہے اور انسان کو جہالت کی تاریکی سے نکال کر شعور کے اجالے میں لے آتا ہے۔ تاریخِ انسانی گواہ ہے کہ جس قوم نے علم کو اپنایا، وہ ترقی کی منازل طے کرتی گئی، اور جس نے علم سے منہ موڑا، وہ پسماندگی کا شکار ہو گئی۔
انسان کی زندگی کا اصل مقصد صرف کھانا پینا اور دنیاوی آسائشات حاصل کرنا نہیں بلکہ اپنے وجود کو بامقصد بنانا ہے، اور یہ مقصد علم کے بغیر پورا نہیں ہو سکتا۔ علم انسان کو سوچنے، سمجھنے اور صحیح فیصلہ کرنے کی صلاحیت عطا کرتا ہے۔ ایک جاہل شخص وقتی فائدہ تو حاصل کر سکتا ہے مگر مستقل کامیابی علم ہی کے ذریعے ممکن ہے۔
اسلام میں علم کو غیر معمولی اہمیت دی گئی ہے۔ قرآن مجید کی پہلی وحی ہی لفظ “اقرأ” یعنی “پڑھو” سے شروع ہوتی ہے، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اسلام کی بنیاد ہی علم پر رکھی گئی ہے۔ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا:
“علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے۔”
یہ حدیث اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ علم صرف چند لوگوں تک محدود نہیں بلکہ پوری انسانیت کی ضرورت ہے۔
علم صرف کتابوں تک محدود نہیں ہوتا بلکہ تجربہ، مشاہدہ اور تحقیق بھی علم کا حصہ ہیں۔ ایک طالب علم جب سوال کرتا ہے تو وہ سیکھنے کے سفر پر قدم رکھتا ہے۔ یہی سوالات آگے چل کر ایجادات اور دریافتوں کی بنیاد بنتے ہیں۔ آج کی جدید دنیا سائنس اور ٹیکنالوجی میں جس مقام پر پہنچی ہے، وہ سب علم ہی کا نتیجہ ہے۔
علم انسان کے اخلاق کو بھی سنوارتا ہے۔ ایک باعلم انسان برداشت، صبر اور حکمت سے کام لیتا ہے، جبکہ جاہل انسان اکثر جذبات میں بہہ کر غلط فیصلے کر لیتا ہے۔ علم ہمیں دوسروں کے حقوق پہچاننے کی تربیت دیتا ہے اور معاشرے میں امن و سکون قائم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں تعلیم کو اکثر صرف نوکری حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے، حالانکہ تعلیم کا اصل مقصد شخصیت کی تعمیر اور سوچ کی تربیت ہے۔ اگر تعلیم کو محض ڈگری تک محدود کر دیا جائے تو اس کا حقیقی فائدہ حاصل نہیں ہو سکتا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم علم کو زندگی کا حصہ بنائیں، کتاب دوستی کو فروغ دیں اور نئی نسل میں تحقیق کا جذبہ پیدا کریں۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ علم کے بغیر ترقی کا تصور ناممکن ہے۔ قومیں ہتھیاروں سے نہیں بلکہ تعلیم سے مضبوط بنتی ہیں۔ اگر ہمیں ایک روشن مستقبل چاہیے تو ہمیں علم کو اپنی اولین ترجیح بنانا ہوگا۔