(12) مضمون
بسم اللہ الرحمن الرحیم
(بقلم محمودالباری mahmoodulbari342@gmail.com 8292552391)
_________________
“شرک و بدعت کے ظہور پر امت کو خبردار کرنے علمائے بریلوی سے اصلاح کی اپیل”
-----------------------
محترم علماء، مشائخ، ذاکرین، تبلیغی بھائیوں، اہلِ علم و دین!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاته
یہ عرضِ مؤدبانہ آپ کے قدموں میں ایک بےبس بندہِ حقیر کی طرف سے پیش ہے جو آپ کی علمیت، قربانی اور دین کی خدمت کو سراہتا ہے، اور اس اُمید کے ساتھ قلم اٹھا رہا ہے کہ آپ اس عاجز کی بات کو بغور سنیں گے اور امت کے مفاد میں اس پر غور فرمائیں گے۔
حالیہ دنوں میں ایک تلخ حقیقت بار بار سامنے آ رہی ہے جس کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے، تاکہ ہم اس پر غور کر کے اپنی صفوف کو درست کریں۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بعض جگہوں پر بدعت، شرک، رواجی حرکات اور عوام کی بے خبری نے دین کا چہرہ مسخ کرنا شروع کر دیا ہے۔ یہ حرکات صرف عوام میں نہیں بلکہ بعض اوقات ان کے رہنما اور دعویدار بھی اس میں مبتلا دکھائی دیتے ہیں، جو کہ ہمارے عقیدے، ایمان اور شریعت کے لیے شدید خطرہ ہے۔
بعض بدعات و شرکیہ حرکات جو
حالیہ دنوں میں عوام میں کچھ ایسے مظاہر عام ہو رہے ہیں جو دین کے خالص چہرے کو مسخ کر رہے ہیں۔ جیسے:
1. میلاد النبی کی نماز کے نام پر دین میں بدعت شامل کرنے کی مذموم کوشش”
اگرچہ موصوف کی جانب سے رجوع آچکا ہے. مگر عوام کے سامنے شریعت کی وضاحت تو ضروری ہے.
2. عروس، صندل، اور دیگر ظاہری تقاریب – دین کے نام پر عوام کو ایسی چیزوں میں الجھایا جا رہا ہے جو نہ عقیدے سے متعلق ہیں، نہ شریعت سے۔
3. جلوسوں میں غیر شرعی مظاہر – بارہ ربیع الاول کے موقع پر کچھ جگہوں پر احرام جیسا لباس پہن کر سڑکوں پر جانا، مخصوص جھنڈوں کے ذریعے توہین آمیز حرکات کرنا، بے معنی نعرے لگانا – یہ سب عوام کو دین سے دور کرنے والا عمل ہے۔
نیز اسی بارہ ربیع الاول کے جلوس میں ایک ایسا منظر بھی سامنے آیا جس نے دل کو بے حد مغموم کر دیا۔ ایک بڑا ہجوم تھا، نغموں اور نعروں سے سڑکیں گونج رہی تھیں، اور سب کی توجہ جلوس کی طرف تھی۔ اس کے درمیان ایک لڑکی کھلی آنکھوں کے سامنے، تمام لوگوں کے بالکل سامنے مخصوص جھنڈا اپنے قدموں کے چاروں طرف نرمی انداز میں اوجھل اوجھل حرکت دیتی ہوئی لہرا رہی تھی۔ نہ شرم، نہ خوفِ خدا، نہ ادبِ دین کا خُطرہ—بلکہ ایک نمائش، ایک ایسا عمل جو دین کو مذاق بناتا ہوا عوام کے دلوں میں غلط فہمیاں پیدا کر رہا تھا۔
۔ یہ نمائش عوام کو دین کی سچائی سے دور لے جا کر شرک و بدعت کی جانب کھینچتی ہے، اور دین کا چہرہ مسخ کر دیتی ہے۔ جب لوگ اس منظر کو دیکھتے ہیں تو دین کے بارے میں ان کی سمجھ کمزور ہوتی ہے، اور بدعت کو معمولی عمل سمجھ لیا جاتا ہے۔
علماء کی ذمہ داری ہے کہ ایسے شرکیہ مظاہر کی سختی سے نفی کریں، عوام کو قرآن و حدیث کی روشنی میں آگاہ کریں، اور امت کو بتائیں کہ دین کا راستہ توحید، عبادت میں خشوع، اور سنت کے مطابق عمل کا ہے، نہ کہ نمائش، تقلید اور بدعت کا۔
4. مزاروں اور دیگر اجتماعات میں مبالغہ آرائی – اللہ، نبی و صحابہ اور اولیاء کرام کے ساتھ غیر مناسب تعلقات جوڑ کر لوگوں کو شرک کی طرف دھکیلنا۔
یہ صرف چند مثالیں ہیں، ورنہ سوشل میڈیا پر آپ خود دیکھ سکتے ہیں کہ کس حد تک امت کو گمراہ کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
مقصد شرک کی حمایت نہیں بلکہ امت کو گمراہی سے بچانا ہے
میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اس تحریر کا مقصد کسی مسلک کی برائی کرنا یا علماء کا مذاق اُڑانا نہیں ہے۔ مجھے علم ہے کہ آپ میں سے اکثر علماء اس کی سخت مخالفت کرتے ہیں، اور بہت سے علما نے سمجھایا بھی ہے۔ آپ کی محنت، تبلیغ اور اصلاح کی کوششیں قابلِ تحسین ہیں، لیکن افسوس یہ ہے کہ بعض اوقات ان کی آواز تنقید کا نشانہ بن جاتی ہے یا مقامی حلقوں تک محدود رہ جاتی ہے۔
عوام کی بے خبری، میڈیا کی ترویج، اور بعض افراد کی خود سرانہ حرکتوں کی وجہ سے شرک و بدعت عام ہو رہی ہے، اور اس کا جواب دینا ایک فرد یا ایک ادارے کے بس کا کام نہیں رہا۔ اس وقت ایک مضبوط، مدلل، متفقہ اور واضح آواز کی ضرورت ہے، جو امت کو صحیح تعلیم دے اور بدعت کو بے نقاب کرے۔
علامہ شیخ احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب فتاوی رضویہ میں بدعت کو دین کا ضلالہ قرار دیا اور فرمایا:
"بدعت دین میں داخل کرنے سے بچو، ہر نیا کام جو شریعت کے خلاف ہو مردود اور گمراہی کا باعث ہے۔"
ہمارے اور آپ کے اسلاف نے تاکید کی ہے کہ عوام میں شرک و بدعت سے بچاؤ ضروری ہے، چاہے وہ میلاد کی نفع بخش تعلیم ہو یا سیرت کی تبلیغ، لیکن دین میں شامل نہ ہونے والے کاموں سے دور رہنا لازم ہے۔
کئی بزرگ علماء نے واضح فرمایا:
"عوام میں نرمی کے ساتھ سمجھاؤ، لیکن بدعت کو صحیح نہ قرار دو، اور جب ضرورت ہو تو علم و دلیل کے ساتھ اس کی نفی کرو۔"
،علماء سے مودبانہ درخواست،
1. مضبوط موقف اختیار کریں
آپ کا مقام امت میں رہنمائی کا ہے۔ آپ اگر کھل کر شرک اور بدعت کی مخالفت کریں گے تو عوام آپ کی بات کو سنیں گے اور آپ کی عزت میں اضافہ ہوگا۔
2. واضح فتوے اور بیان جاری کریں
اس وقت ضرورت ہے کہ آپ مل کر ایک باقاعدہ فتویٰ یا بیان جاری کریں جس میں ان حرکات کو صریح شرک، بدعت اور گمراہی قرار دیا جائے تاکہ عوام میں شریعت کی صحیح تعلیم پہنچے۔
3.آج کے بڑھتے شرک و بدعات کے مخالفت میں صرف اسی مقصد کے تحت بغرضِ اصلاح.. :مضامین، ویڈیوز، پروگرام اور اجتماعات کا انعقاد کریں
4. سوشل میڈیا پر فعال رہیں
آج کا میدان میڈیا کا ہے۔ اگر علماء اس میدان میں نہیں آئیں گے تو جاہل لوگ اس کا فائدہ اٹھائیں گے اور دین کا مذاق بنائیں گے۔
5. اکٹھے ہو کر اصلاح کا پیغام دیں
کوئی بھی فرد تنہا اس جنگ کو نہیں جیت سکتا، اس لیے آپ سب کی یکجہتی ضروری ہے۔
ممکن ہے کچھ حلقے یہ کہیں کہ ہم اپنی جگہ اصلاح کر رہے ہیں، ہم نکیر کرتے ہیں، یا ہمارے علماء بات کرتے ہیں۔، پہلے آپ اپنے مسلک کے عوام کو سمجھائیں، تو میں مؤدبانہ عرض کرنا چاہوں گا کہ شرک اور گھٹیا حرکات کسی ایک فرقے یا مسلک تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک ایسا فتنہ ہے جو امت مسلمہ کے ایمان کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ قرآن و سنت میں واضح ہے کہ ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ شرک، بدعت اور گمراہی کو ہر جگہ سے روکیں، چاہے وہ اپنے قریبی حلقے میں ہو یا دور کہیں۔
ہم سب کا فرض ہے کہ دین کو خالص رکھیں، اور جب کہیں بھی دین کا چہرہ مسخ ہوتا دکھائی دے تو اس کی نفی کریں، نہ کہ صرف اپنے حلقے تک محدود رہیں۔ اس میں نرمی یا خاموشی امت کو مزید خطرے میں ڈال سکتی ہے، اس لیے سب کو مل کر اس فتنہ کے خلاف کھڑا ہونا چاہیے۔”
ہاں، آپ اپنی جگہ اصلاح کرتے ہیں اور یہ آپ کا حق ہے
لیکن جب امت کا بڑا حصہ گمراہی کی طرف بڑھ رہا ہو تو صرف انفرادی کوشش کافی نہیں
اس وقت چپ رہنا یا عدم دلچسپی اختیار کرنا امت کی قیامت کی نشانیاں بن سکتی ہے
یہ ایک امتحانی وقت ہے۔ اگر آپ چپ رہیں گے تو بدعت کو فروغ ملے گا، عوام کا ایمان کمزور ہوگا، اور دین کا چہرہ مسخ ہوگا۔ اگر آپ مضبوطی سے اصلاح کا علم بلند کریں گے تو نہ صرف امت محفوظ ہوگی بلکہ آپ کا مقام بھی بلند ہوگا۔
آپ کے علم، قربانی اور خدمت کا امت کو بھرپور فائدہ ہوگا ۔ عوام کو دین کا صحیح چہرہ دکھانا آپ کی ذمہ داری ہے اور یہ وقت اسی کے لیے مناسب ہے۔
. الغرض مختصراً.
میں ایک عاجز بندہ ہوں جو آپ کی خدمت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور آپ سے مؤدبانہ درخواست کرتا ہے کہ امت کی بھلائی کے لیے متحد ہو کر اصلاح کا علم بلند کریں، شرک و بدعت کی جڑیں کاٹیں اور دین کے حقیقی چہرے کو عوام تک پہنچائیں۔
اللہ آپ کو علم، حکمت، ثابت قدمی اور امت کی خدمت کا جذبہ عطا فرمائے۔
آمین ثم آمین۔
والسلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ .