یوں تو اللہ کی رحمت ، ہر آن بندوں پر متوجہ رہتا ہے،
ہر لمحہ خیر و برکت کا نزول ہوتا ہے،
اور اللہ کی فیاضی و کرم گستري کا دروازہ، کھلا رہتا ہے، 
لیکن رمضان میں خیر و برکت کی بہار آجاتی ہے،
رحمت و مغفرت کی ہوائیں چلنے لگتی ہے، اور  خدا کی دادودہش کا دریا پوری آب و تاب کے ساتھ رواں ہو جاتا ہے۔
اس مہینے میں شب قدر اور نزول قرآن کے وقوع سے ، ایک خاص کہ نکھار پیدا ہو گیا ہے۔
اس لیے ہم مسلمانوں کو رمضان کے استقبال  میں تیار رہنا چاہئے اور پورے سال کی غفلت و لاپرواہی کو پسِ پشت ڈال کر ، عبادت و ریاضت کے لیے کمر بستہ ہو جانا چاہیئے ۔



مسلمانوں اٹھو رمضان کی تیاریاں کرلو،
عبادت سے، ریاضت سے، تلاوت سے، اطاعت سے



بندہ عاجز : اعظمی