ارتداد کی ہوائیں روز بروز بڑھتی نظر آرہی ہے ، یہ ارتداد نہیں بلکہ کفر و شرک کی ہواؤں کے جھونکے ہم مسلمانوں کے گھروں پر ظالم و جابر حاکم کے روپ  میں دستک دے رہے ہیں ، صرف ہمارے بالغ بچوں اور بچیوں کے ساتھ پیار و محبت کا جھانسہ دینے تک محدود نہیں ہے بلکہ ہمارے آنگنوں میں کھلتے حسین و جمیل اور خوبصورت گلاب 🌹 معصوم کلیاں ؛؛ تین سال سے چودہ سال تک کے ننھے منے بچے اور بچیاں ،مسلم ماؤں کے کوکھ سے جنم لینے والے ، کلمہ گو مسلمان ماں باپ کی معصوم کلیاں ، جن کے کانوں میں اللہ اکبر کی صدا ئیں روز اول سے پڑی ہوئی ہے ، اور جو فطرت اسلام کے دامن میں پناہ لیے ہوئے ہے ، جن کے ایک ایک رگوں میں اللہ کی بڑائی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے ، جنکی خمیر میں اسلام پیوست ہے ، ان بچوں اور بچیوں کے معلم و معلمات اور تربیت دہندہ دنیا بھر کے بداخلاق، ناشائستہ لبادہ اوڑھے ہوئے ،غیر شرعی شکل و شباہت کے مالک ،غیر مہذب ،غیر تربیت یافتہ ، مفسد نظریات کے حامی ،اسلامی تعلیم و تربیت سے بالکل نابلد ، باطل افکار و نظریات اور مغربی تہذیب وتمدن کی غلامی کرنے والے ،پراگندہ طبعیت و ذہنیت کی سوچ رکھنے والے معلم و معلمات شعوری طور پر آج ہمارے بچوں کے مستقبل اور  ایمان کے ساتھ مذاق اور کھلواڑ کررہے ہیں ، 

 آج جب مسلم بچے اور بچیوں کو عصری تعلیم کے حصول کے لیے ماں باپ اسکولوں اور انگلش میڈیم میں داخل کراتے ہیں ، تو انہیں عصری تعلیم کے حصول کے نام سے انہیں پس پردہ اس تعلیم سے آگاہ کیا جاتا ہے جسے نا تو اسلام نے کبھی اس کی اجازت دی ہے اور نہ ہی والدین کو اپنے ننھے منے معصوم بچوں کے دین و ایمان کی زرہ برابر فکر دامن گیر ہوتی ہے، کہ اسکول میں میرے بچے کے دین و ایمان کی کچھ رمق باقی ہے بھی یا نہیں ،

 آج اسکولوں میں جو تعلیم دی جارہی ہے، جس سے سن کر ، دیکھ کر ایک غیرت مند مومن کی روح کانپ جاتی ہے ، کلیجہ منہ کو آجاتا ہے ، دل پھٹ جاتا ہے ، پوری قوم و ملت ، دانشوروں اور اہل ثروت کو ڈوب مرنے کا مقام ہے ، کیا ہم صرف نماز و روزے رکھ لینے سے مزید ذمہ داریوں سے سبکدوش ہو جائیں گے ،کیا اللہ کے یہاں اس سے زیادہ اب سوال و جواب نہیں دیا جائے گا ، کیا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف بڑی عمر والوں کے لیے نبی بنا کر بھیجے گئے تھے ، کیا صرف جوانوں اور عمر رسیدہ لوگوں پر ایمان سنوارنے اور درست کرنے کی ذمہ داری عائد تھی ، کیا قرآن نے صرف اپنے ایمان کے بچاؤ کا حکم بتا تاہے ، کیا قرآن نے فقط قوواانفسکم کا ہی حکم دیا ہے ، اہلیکم کا
حکم نہیں دیا ہے 
 
ذرا سوچیں ،،،،،؟

آج ہمارے بچوں کو اسکولوں میں تعلیم کے نام پر کفر و شرک اور باطل عقیدے کی تعلیم دی جارہی ہے ، کبھی ہولی کی پرکٹل کراکر، کبھی رکھشا بندھن (ہندوؤں)کے طریقہ کی تعلیم دےکر ، کبھی کسی باطل رسومات کی ذہنیت کی تربیت کرکے ،  اب تو حد ہوگئی ہے ،
L.K.G, 
U.KG,
Class 1
Class 2
 وغیرھم کے معصوم بچوں کے ساتھ" یوگا" جیسا کفریہ اور ہندوانہ رسم و رواج، ورزش اور تعلیم، کے نام پر فروغ دیا جارہا، یہ درحقیقت ہم مسلمانوں کے بچوں کے ایمان و یقین کے ساتھ کھلواڑ کیا جارہا ہے ،گویا کہ ہم نے خود اپنے بچوں کو اپنے ہاتھوں سے
جہنم کی آگ میں ڈالنے کے مترادف ہیں ، 

خدا را،،،،،،،،،، اپنے بچوں کے ایمان کی فکر کریں ، فکر کریں ، فکر کریں ، 
کیا کوئی والدین اپنے بچے کو آگ میں گرتا ہوا دیکھ سکتا ہے ، نہیں ہرگز نہیں!

میرے عزیزو ،
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تو ہم سب کے نبی رحمت، مشفق و مہربان ، روحانی والد ہیں جنہوں نے کفر و شرک اور جہنم میں لیجانے والے راستے اور طریق سے آج سے چودہ سو سینتالیس سال قبل ہی زمانے کے فتنے اور کافرانہ طور طریقوں سے آگاہ کردیا تھا ، کیاہم مومنوں سے یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان ہم سے بآسانی فراموش ہو جائے، کیا ہمیں اپنے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں کا یقین نہیں ہے ، کیا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تربیت مشکواۃ نبوت کے سایہ میں نہیں ہوئی ہے ، کیا صحابہ کرام کی تربیت پر وثوق و اعتماد نہیں ہے ،
پھر ہمیں کیوں دوسروں کی تعلیم و تربیت ،اور ان کا مذموم و منحوس کلچر اتنا عزیز ہوگیا ہے ؟ غور کریں کہ یہ کمزوری کہاں سے جنم لے رہی ہیں ، درحقیقت وہ کمزوری ہم میں موجود ہے ، جس کا ہمیں بالکل بھی احساس نہیں ہے ، اپنے اندر سے کم ہمتی کو نکالیں اور اپنی ذمہ داری سمجھ کر اپنے اسلامی تعلیمات کا جال بچھا کر عام کرنے کی کوشش کریں، قدم کو آگے بڑھائیں ،تاکہ کل قیامت کے دن رسوائی کا سامنا نہ کرنا پڑے ،
حد تو یہ ہے کہ باطل طاقتیں سماج و ملت میں کیا کم پلیدی مچارکھی تھی ، غضب بالائے غضب یہ کہ نام نہاد مسلمان بھی اپنی دریدہ دہنی ، اور اپنے اندر چھپے ہوئے نفاق کو ظاہر کرکے یہ ثابت کردیا کہ ہم تو دراصل محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کے حامی وناصر نہیں ہے بلکہ کفار و مشرکین کے مشن کو فروغ دینے کا کا انجام دونگا  اور وہ اپنے نفاق میں سچ ثابت بھی ہیں، 
قرآن مجید نے ایسے منافقین کا تذکرہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
واذا لقوا اللذین أمنوا قالوا أمنا ، واذا خلوا الی شیطینھم ، قالوا انامعکم ، انما نحن مستہزؤون، سورۃ بقرہ آیت 14

منافقین جب ایمان والوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں ، اور جب اپنے شیطان سرداروں(آقاؤں)کے پاس تنہائی میں ہوتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم تمہارے ہی کے ساتھ ہیں ، ان کا تو مذاق اڑا رہے تھے 
یہ منافقین نام نہاد مسلمان ، آستین کے سانپ 🐍 بن کر مسلم معاشرے کے مابین رہکر ایمان کی راہزنی کے مشن میں سرگرم ہیں ، ہم مسلمانوں کو ہوش کے ناخن لینے چاہیئے ، ورنہ ہماری نئ نسل کو دوزخ کے دہانے پر پہنچنے میں دیر نہیں لگے گی ابھی بھی وقت ہے دیر نہیں ہؤئی ہے ، سنبھل جانے موقع ہے ، 
کل جب ہم ذمہ داروں کی آنکھیں بند اور سانسیں رک جائیں گی تو کھویا وقت ہاتھ نا آئیگا 
حدیث شریف میں آتا ہے کہ! کلکم راع وکلکم مسئول عن رعیتہ ،
تم میں کا ہر شخص نگہبان اور سرپرست ہے اپنے ماتحتوں پر اور کل (قیامت کے دن)تم میں سے ہرشخص سے اپنے ماتحتوں کے بارے میں پوچھ گچھ ہوگی اور اس کا حساب دینا ضروری ہوگا ،

دوسری روایت میں ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم کوئی غیر شرعی امور ہوتے ہوئے دیکھو تو اسے روکنے کی کوشش کرو اور اگر بازو سے روکنے کی طاقت ہو تو بازو سے روکو ، نہیں تو پھر زبان سے روکنے کی کوشش کرو ، اور اگر زبان سے روکنے کی طاقت نہ ہو تو دل میں اس کو برا جانو ، یہ ایمان کا آخری درجہ ہے