*القاب کی ارزانی اور اشتہارات کی فراوانی*
آج کل دینی و تعلیمی پروگراموں کے اشتہارات غیر معمولی طور پر بڑے اور طویل ہوتے جا رہے ہیں، ایک ہی پرچے میں پچاس پچاس مدعوین کے نام درج ہوتے ہیں، اور ہر نام کے ساتھ القابات کا انبار___کبھی سالانہ پروگرام کا اشتہار نظر آتا تو دل میں مسرت جاگتی، شوق پیدا ہوتا کہ یہاں شرکت کی جائے؛ اس لیے کہ اس میں وقار بھی ہوتا تھا اور انتخاب بھی___مگر آج صورتِ حال یہ ہے کہ وہی القابات—جو کبھی اہلیت، خدمت اور علمی وزن کی علامت تھ—اب بے دریغ تقسیم ہو رہے ہیں، نا اہل لوگوں کو بھی ایسے خطابات عطاء کیے جا رہے ہیں جن کے وہ مستحق نہیں۔ نتیجتاً القاب کی وقعت کم ہوتی جا رہی ہے، اور اشتہار کی چمک دمک اصل مقصد پر غالب آ گئی ہے۔
اکثر یہ سب مدرسے یا ادارے کی شہرت کے نام پر کیا جاتا ہے، مگر شہرت اگر معیار سے خالی ہو تو دیرپا نہیں ہوتی۔ ہر چیز اپنی حد میں رہ کر ہی اچھی لگتی ہے۔ القاب اگر ذمہ داری اور معیار کے ساتھ دیے جائیں تو وقار بڑھاتے ہیں، ورنہ کثرت میں ارزاں ہو کر اپنا اثر کھو دیتے ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سادگی، انتخاب اور اہلیت کی طرف لوٹیں، کم نام، مگر معتبر؛ مختصر اشتہار، مگر بامعنی—تبھی پروگرام بھی بامقصد ہوں گے اور علم و ادب کی روایت بھی محفوظ رہے گی۔