سوال پھر بھی قائم ہے 
(مزید وضاحت کے ساتھ) 
بسم اللہ الرحمن الرحیم.. مضمون (79)
(فتویٰ اور فقہ کے باوجود عوامی تکفیر کا مسئلہ)
فتویٰ اور فقہ کو سامنے رکھ کر دیے گئے جوابات سے سوال ختم نہیں ہوتا، بلکہ سوال کے درد کو محسوس کرتے ہوئے یہ ضرورت اور بڑھ جاتی ہے کہ ہم سب مل کر ایسا لائحۂ عمل طے کریں جس سے عوام تشدد کی طرف نہیں بلکہ اخوت، بھائی چارگی اور مثبت فکری رویّے کی طرف بڑھے۔ کیوں کہ یہ بات مسلّم ہے، اور اس پر کوئی دو رائے نہیں، کہ اہلِ سنت والجماعت کے ہاں تکفیر کا باب نہایت نازک، محتاط اور سخت شرائط کا پابند ہے۔ یہ بھی درست ہے کہ فقہی اصول کے مطابق جب تک کفر قطعی، صریح اور غیر محتمل طور پر ثابت نہ ہو، نہ کسی فرد پر حکمِ کفر لگایا جاتا ہے اور نہ اس کے فقہی نتائج (نکاح کا فسخ، معاشرت کی حرمت وغیرہ) لاگو کیے جاتے ہیں۔ یہ اصول شریعت کی رحمت اور اس کے توازن کا مظہر ہے۔
نوٹ: یہاں تک بات اصولی اور کتابی سطح کی ہے، جس پر تقریباً تمام مکاتبِ فکر متفق ہیں۔ اختلاف کتاب میں نہیں، مسئلہ کتاب اور منبر کے فرق کا ہے۔
لیکن سوال یہاں فقہی کتابوں کا نہیں، بلکہ زمینی حقیقت کا ہے۔
اسی زمینی حقیقت کی بنیاد پر آپ کو معترضِ نشان بنایا گیا ہے، اس لیے نہیں کہ اختلاف صرف آپ سے ہے، بلکہ اس لیے کہ عوامی سطح پر تکفیر کا سب سے بلند اور منظم بیانیہ آپ ہی کی طرف سے سامنے آتا ہے۔ اہلِ سنت والجماعت کا لیبل لے کر سب سے زیادہ شور بھی یہی ہے، اور اسی شور میں عوام و خواص دونوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔
جبکہ حقیقت یہ ہے کہ دوسرے مسالک کے بہت سے علماء اور عوام - بصدِ احترام برا نہ مانیں. آپ کو عموماً بدعتی، غلطی پر یا حتیٰ کہ شرک کے قریب ضرور کہتے ہیں، مگر دائرۂ اسلام سے خارج نہیں کرتے۔
یاد رہے، یہاں گفتگو فتویٰ کی نہیں، بلکہ عوامی بیانیے اور زمینی اثرات کی ہے۔
الغرض : یہ اصول بھی یاد رہنا چاہیے کہ نظریہ کو قرآن و حدیث، اجماع و قیاس سے مدلل کیا جاتا ہے، پھر اسی سوچ پر عمل کی دعوت دی جاتی ہے۔ قبول و رد کا اپنا اپنا دائرہ اور دلائل ہوتے ہیں۔
نوٹ: یہی وہ مقام ہے جہاں نظریہ عوامی ذہن میں منتقل ہوتا ہے، اور یہی انتقال اصل بحران کی جڑ بنتا ہے۔
مگر عملی طور پر جو کچھ ہو رہا ہے، وہ یہ ہے کہ عوام اپنے اکابر سے جذباتی وابستگی رکھتے ہیں، ان کے اقوال کو دلیل سمجھے بغیر قبول کرتے ہیں، اور انہی اقوال کو منبر و محراب سے عام کر دیتے ہیں۔
یہاں مسئلہ یہ نہیں کہ فقہ کیا کہتی ہے،
مسئلہ یہ ہے کہ عوام کیا سن رہے ہیں اور کیا سیکھ رہے ہیں۔
نوٹ: عوام فقہی اصول نہیں پڑھتے، وہ خطیب کا لہجہ، جملہ اور انداز یاد رکھتے ہیں۔
اصل تضاد کہاں ہے؟
یہ بات مان لی جائے کہ عام افراد کی تکفیر فقہی طور پر شاذ ہے، کم ہے یا اصولاً درست نہیں۔
مگر سوال یہ ہے:
اگر یہ واقعی شاذ ہے تو پھر یہ منبر و محراب پر اتنی عام کیوں ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ اکثر عوامی بیانات میں:
؛؛ دیوبندی گمراہ ہیں ؛؛ 
؛؛ وہابی کافر ہیں ؛؛ 
؛؛ فلاں منکرِ شانِ رسالت ہے ؛؛
جیسے جملے اتنی آسانی سے ادا ہوتے ہیں کہ سننے والا یہی سمجھتا ہے کہ یہ دینی خدمت ہے، نہ کہ ایک خطرناک زبان۔
نوٹ: جب ایک جملہ بار بار مذہبی اسٹیج سے دہرایا جائے تو وہ فرد کی رائے نہیں رہتا، اجتماعی ذہن کی تشکیل بن جاتا ہے۔
یہاں تضاد یہی ہے کہ:
فقہ کہتی ہے: عام افراد کی تکفیر نہیں، احتیاط لازم ہے۔
لیکن منبر کہتا ہے: یہ لوگ گمراہ نہیں بلکہ دائرۂ اسلام سے باہر ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ عوام کس کی بات مانیں؟
کتاب کی یا خطیب کی؟
اصول کی یا جلسے کی؟
آپ نے درست فرمایا جو آپ کی تحریر سے جھلک رہا ہے کہ صرف نظریاتی اختلاف سے کافر نہیں کہا جا سکتا جب تک نصِ صریح کے خلاف نہ ہو۔
نوٹ: اگر یہ اصول واقعی مسلکی منہج ہے تو پھر اسے عوامی بیانیے کا بھی حصہ بننا چاہیے، صرف کتابوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔
تو پھر سوال یہی ہے کہ اگر واقعی ایسا ہے تو پھر جلسوں، تقاریر اور خطبات میں یہ؛؛ کافر ؛؛ اور ؛؛ گمراہ ؛؛کے فتوے کیوں؟
کیا یہ عوام میں نفرت نہیں پھیلا رہے؟
تشددِ فکری کو جنم نہیں دے رہے؟
اور فرقہ واریت کو ہوا نہیں دے رہے؟
یہ کہنا کہ ؛؛ یہ سب افراد کرتے ہیں، مسلک نہیں ؛؛ اصولی طور پر درست ہو سکتا ہے، مگر عملی طور پر ناکافی ہے۔
نوٹ: جب غلطی ایک جیسی زبان، ایک - جیسے اسلوب ؛ اور ایک جیسے پلیٹ فارم سے ہو تو وہ فرد کی نہیں، بیانیے کی پہچان بن جاتی ہے۔
کیونکہ جب غلطی منظم ہو جائے، ایک ہی زبان بار بار دہرائی جائے، اور کسی سطح پر اس کی اصلاح نہ ہو، تو وہ فرد کی نہیں بلکہ بیانیے کی غلطی بن جاتی ہے۔
کیا یہ عملی تضاد نہیں؟
یہاں ؛؛ تقیہ ؛؛ کا لفظ الزام کے طور پر نہیں بلکہ تشخیصی اصطلاح کے طور پر ہے:
عقیدہ کچھ،
فقہ کچھ،
منبر کچھ،
اور عمل کچھ۔
یہ چاروں جب ایک سمت میں نہ ہوں تو سوال اٹھانا غلط نہیں بلکہ فکری ذمہ داری ہے۔
نوٹ: فکری دیانت یہی ہے کہ اصول، دعوت اور عوامی زبان ایک ہی اخلاقی سمت میں ہوں۔
اگر واقعی ہم عام افراد کی تکفیر نہیں کرتے، ہم احتیاط کے قائل ہیں، ہم شریعت کے حسن پر ایمان رکھتے ہیں، تو پھر منبر کو بھی وہی زبان اپنانی چاہیے، نہ کہ وہ زبان جو عوام کو یہ سکھائے کہ دوسرا مسلمان نہیں بلکہ دشمن ہے۔
قرآن کا منہج کیا ہے؟
قرآن کہتا ہے:
﴿إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ﴾
اس آیت کے ذیل میں یہ کہنا کہ:
؛؛ چونکہ باطل باطل ہے، اس لیے بھائی چارگی ممکن ہی نہیں ؛؛
اصل میں یہ قرآن کے منہج کی صریح غلط فہمی ہے، کیونکہ عقائد (ایمان و اسلام) کا دائرہ خاص ہے، جبکہ حسنِ سلوک اور حسنِ معاشرت انسان ہونے کے ناطے، بحیثیتِ مخلوقِ خدا، سب کے لیے عام ہے۔ 
لہٰذا : اہلِ سنت کا اصول یہ نہیں کہ:
ہر اختلاف = کفر
ہر غلطی = خروج عن الاسلام
بلکہ اصل اصول یہ ہے کہ:
باطل کو باطل کہا جائے،
لیکن جب تک صریح کفر ثابت نہ ہو
مسلمان کو دائرۂ اسلام سے باہر نہ نکالا جائے۔
مسلکوں کے درمیان زیادہ تر اختلافات:
تعبیر کے ہیں،
اجتہاد کے ہیں،
ترجیح کے ہیں،
نہ کہ ایمان و کفر کے۔
لہٰذا مسلک کے اندر رہتے ہوئے:
تنقید ہو سکتی ہے،
رد ہو سکتا ہے،
مباحثہ ہو سکتا ہے،
لیکن اخوت ختم نہیں ہو سکتی۔
تکفیر کے ذریعے اتحاد توڑنا
نہ قرآن کا منہج ہے
نہ اہلِ سنت کی روایت۔
اصل خطرہ یہ نہیں کہ لوگ باطل کو باطل کہتے ہیں،
اصل خطرہ یہ ہے کہ لوگ ہر مختلف کو
؛؛ باطلِ خارج از اسلام ؛؛ بنا دیتے ہیں۔
اور یہی وہ مقام ہے جہاں
نہ دین محفوظ رہتا ہے،
نہ امت۔
میرا قلم فقہ کو نہیں، بیانیے کو کٹہرے میں کھڑا کرتا ہے۔
اسی لیے عمداً کسی فتویٰ کو بطورِ دلیل پیش نہیں کیا، ورنہ ضرور کرتا. 
کیونکہ مقصد اصول گرانا نہیں،
کسی کو نیچا دکھانا نہیں،
بلکہ احتساب کرانا ہے،
جائزہ لینا ہے،
 اصول اور عوامی زبان کے درمیان خلا کو نمایاں کرنا ہے۔
اور یہی خلا آج امت میں
سب سے بڑا فتنہ بن چکا ہے۔سوچیں اب لائحہ عمل کیا ہوگا.
بقلم محمودالباری
mahmoodulbari342@gmail.com