موڈو اس دن مدرسے میں داخل ہوا تھا جب بستہ اس کے قد سے بڑا تھا۔
آج بھی وہی کہتا ہے:
“ابو! ابھی تو پڑھ ہی رہے ہیں۔”
وہ طالبِ علم جس کے سامنے زمانہ بھی فارغ ہو گیا۔
بھاکری کی تاریخ میں نہ جانے کتنے دور آئے اور گزر گئے،
نظام بدلے،
نصاب بدلا،
نسلیں بدلیں،
مگر ایک شے مستقل رہی—
عبدالملک عرف موڈو کی تعلیم۔
جب موڈو نے مدرسے میں پہلا قدم رکھا تھا،
تو آج کے آدھے طلبہ ابھی دنیا کے رجسٹر میں درج بھی نہیں ہوئے تھے۔
اساتذہ کے سیاہ بال سفید ہوئے،
سفید ریشوں نے وقار اختیار کیا،
وقت نے چال بدلی،
رفتار بدلی،
انداز بدلا—
مگر موڈو کا سبق بدستور جاری رہا۔
کچھ اساتذہ ایسے ہیں
جو اس وقت خود بچے تھے،
آج وہی مسندِ تدریس پر ہیں۔
گاؤں کی پوری ایک نسل بدل گئی:
جو سفید ریش تھے، وہ اللہ کو پیارے ہو گئے،
جو جوان تھے، وہ اب دادا کہلاتے ہیں،
جو بچے تھے، وہ آج اپنے بچوں کا داخلہ کرواتے ہیں—
مگر موڈو کا داخلہ ابھی تک تعلیمی سلسلے میں چل رہا ہے۔
کچھ اساتذہ عصا تھام کر رخصت ہوئے،
کچھ نے کہا:
“اب ہم ریٹائر ہوتے ہیں”،
اور کچھ خاموشی سے دنیا ہی سے چلے گئے۔
موڈو ہر بار بس یہی کہتا رہا:
“استاد جی! ہم تو ابھی پڑھ رہے ہیں۔”
نئے استاد آئے—
جوش، ولولہ، نئی روانی کے ساتھ۔
مدرسے میں نئی عمارتیں کھڑی ہوئیں،
پرانوں پر رنگ چڑھا،
کمرے بدلے،
نصاب بدلا،
سالانہ نظام بدلا،
امتحان کے انداز بدلے،
رجسٹروں کے صفحے پلٹے،
دستخطوں کے اسٹائل بدلے—
مگر ہر سال ایک جملہ وہی رہا:
طالبِ علم: عبدالملک (موڈو)
جو ساتھی تھے، ان کے بچے ساتھی بن گئے۔
کچھ اپنے بچوں سے کہتے ہیں:
“بیٹا! ادب سے رہنا،
ہم بھی انہی کے ساتھ پڑھا کرتے تھے۔”
بچہ پوچھتا ہے:
“ابو! وہ تب بھی پڑھ رہے تھے؟”
جواب آتا ہے:
“ہاں بیٹا… اور اب بھی پڑھ رہے ہیں۔”
چوکیدار بدلے،
باورچی بدلے،
نائب مہتمم بدلے،
دال کی دیگچی بدلی،
تھالیاں بدلیں، کپ بدلے،
(گھاٹ) سے ترقی کر کے چائے کا دور آیا—
مگر ایک گاہک مستقل رہا:
موڈو۔
ادارہ عربی سوم سے دورۂ حدیث تک جا پہنچا،
شعبۂ تحفیظ دو درجوں سے چھ درجوں تک پہنچ گیا—
مگر موڈو ہے کہ بس پڑھنا ہے۔
کورونا آیا اور چلا گیا،
وزیراعظم بدلے، وزیراعلیٰ بدلے،
بات یہیں نہیں رکی—
ملک کی کرنسی تک بدل گئی!
اور اب اعلان ہو رہا ہے:
“موڈو فارغ ہو رہا ہے!”
دیواروں نے چونک کر پوچھا:
“سچ میں؟
یہ تو ممکن نہیں…
وہ پھر لوٹ آئیں گے!”
نہیں، اب نہیں۔
یہ خبر سن کر
کچھ اساتذہ خوش ہیں—
کہ آخرکار ایک تعلیمی تاریخ مکمل ہوئی،
کچھ جذباتی ہیں—
کہ ایک مستقل چہرہ رخصت ہو رہا ہے،
اور کچھ ہلکے سے پریشان—
کہیں اگلے سال پھر درخواست نہ آ جائے:
“میں نے سوچا ایک اور تخصص کر لیتا ہوں،
فارم کہاں جمع ہوگا محترم؟”
موڈو طالبِ علم کم،
مدرسے کی چلتی پھرتی یادداشت زیادہ ہے۔
یہ داخلہ نمبر نہیں—
یہ ایک پورا تعلیمی عہد ہے۔
اللہ تعالیٰ انہیں
علمِ نافع،
عملِ صالح،
اور زندگی میں عزت عطا فرمائے—
اور ہمیں یہ حوصلہ دے
کہ اگر وہ کبھی ملنے آئیں
تو ہم یہ نہ پوچھ بیٹھیں:
“واپس آ گئے؟
داخلہ لینا ہے یا ملاقات؟”
“جی جی… ملاقات!”
الوداع موڈو!
تم سلامت رہو ہزار برس،
ہر برس کے ہوں دن پچاس ہزار۔