🖋️بنتِ ابوالخیر اعظمیؔ

انسانی زندگی کی سب سے بڑی آزمائش یہ نہیں کہ وہ کیا کہتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنے کہے ہوئے پر کتنا عمل کرتا ہے۔
 الفاظ تو ہر زبان پر آسانی سے آ جاتے ہیں، دعوے ہر محفل میں سنائی دیتے ہیں، نعرے ہر دور میں لگتے رہے ہیں۔
مگر اصل کمال یہ ہے کہ یہی الفاظ جب کردار میں ڈھل جائیں، تو ایک فرد ہی نہیں بلکہ پوری قوم کی تقدیر بدل دیتے ہیں۔

ہم ایسے معاشرے کا حصہ بن چکے ہیں جہاں گفتگو کا شور بہت ہے مگر عمل کی آواز مدھم پڑتی جا رہی ہے۔
 سچ، امانت، عدل، اخلاص اور قربانی جیسے بلند اقدار ہماری تقریروں کا حسن تو ہیں، مگر ہماری روزمرہ زندگی میں ان کا عکس کم ہی نظر آتا ہے۔
 ہم اصلاح کی بات تو بہت کرتے ہیں، مگر خود اصلاح کے مرحلے پر آ کر رک جاتے ہیں۔
دوسروں کو آئینہ دکھانا آسان ہے، مگر خود آئینے میں جھانکنا مشکل۔
لفظ دراصل نیت کا اظہار ہوتے ہیں، اور عمل نیت کی سچائی کا پیمانہ۔
 اگر زبان کچھ کہے اور عمل اس کے برعکس ہو، تو ایسے الفاظ محض کھوکھلے نعرے بن کر رہ جاتے ہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ جن اقوام نے محض باتوں پر اکتفا کیا وہ زوال کا شکار ہوئیں، اور جنہوں نے اپنے الفاظ کو عمل کی بنیاد بنایا وہ رہنماؤں کی صف میں کھڑی ہوئیں۔
اسلام ہمیں اس تضاد سے سختی سے روکتا ہے۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے کہ وہ بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں۔
یہ سوال ہر اس شخص کے لیے ہے جو خیر کا پیغام تو دیتا ہے مگر خود اس پر عمل سے گریزاں ہے۔
نبی کریم ﷺ کی سیرت اس حقیقت کی روشن مثال ہے کہ آپ ﷺ کی زندگی قرآن کی عملی تفسیر تھی۔
جو کچھ فرمایا، پہلے خود اس پر عمل کرکے دکھایا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ ﷺ کے الفاظ دلوں میں اتر گئے اور دنیا بدل گئی۔
آج ہمیں بھی اسی اسوۂ حسنہ کی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنے گھروں سے، اپنے کردار سے، اپنی نیت سے آغاز کرنا ہوگا۔
 جب والدین کی زبان اور عمل میں ہم آہنگی ہوگی تو اولاد سیکھے گی۔
جب اساتذہ قول کے ساتھ فعل میں بھی نمونہ ہوں گے تو شاگرد سنوریں گے۔
جب قائدین خود کو قانون کا پابند بنائیں گے تو قوم سیدھی راہ پر چلے گی۔
لفظوں سے عمل تک کا سفر آسان نہیں، اس میں صبر بھی چاہیے، قربانی بھی، اور مستقل مزاجی بھی۔
مگر یہی وہ راستہ ہے جو انسان کو محض بولنے والا نہیں بلکہ اثر رکھنے والا بنا دیتا ہے۔
دنیا کو الفاظ نہیں، کردار بدلتا ہے؛ نعرے نہیں، نمونے زندہ کرتے ہیں۔
 اگر ہم واقعی تبدیلی چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی گفتگو کو اپنے کردار کا ترجمان بنانا ہوگا۔
جب ہمارے الفاظ ہمارے اعمال کی تصدیق کریں گے، تب ہی ہمارے کہنے میں وزن پیدا ہوگا، اور تب ہی ہم ایک بہتر فرد، ایک صالح معاشرہ اور ایک مضبوط امت کی بنیاد رکھ سکیں گے۔