خود کو کھونے کا ہنر
مفتی محمد تسلیم الدین المحمودی
فراغت ایک آزمائش ہے۔ بسا اوقات ایسا انسان اپنی عزت کو کھلونا بنا دیتا ہے۔
کیسے؟
جگہ جگہ بیٹھے گا۔ ہر موضوع پر بولے گا۔ ہر طرح کے لوگوں کے لیے دستیاب رہے گا۔ دوسرے کو کسی کام کے لیے "نا" نہیں کہے گا۔
ایسے لوگ خود کو بےوزن اور سستا کردیتے ہیں۔ اپنی عزتوں کے سوداگر بن جاتے ہیں۔ کبھی اپنی عزت دوسروں کے دسترخوانوں پر بھی تلاش کرتے ہیں۔
ان میں ایک مرض اور بھی آجاتا ہے۔ یہ ہر شخص کو راضی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ چلتا پھرتا ہر دل عزیز بننا چاہتے ہیں۔ جبکہ انہیں اس بات کا اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ دنیا والے ایسے فرد کے تذکروں سے اپنی جان چھڑانا چاہتے ہیں۔ رفتہ رفتہ ان کا وجود بوجھ بن جاتا ہے۔ پھر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ لوگ ایسے شخص سے کنارہ پکڑ لیتے ہیں اور سب کو راضی کرنے والا یہ فرد تنہا رہ جاتا ہے۔