★وستانویؒ کا مثل علمی دنیا کو ملنا محال ہے★
حضرت مولانا غلام وستانوی رحمۃ اللہ علیہ… یہ وہ تابندہ نام ہے جس سے کون ناواقف ہوگا؟
بچہ ہو یا جوان، عمر رسیدہ مرد ہو یا پردہ نشیں خاتون، ملکی باشندہ ہو یا بیرونِ وطن مقیم، اپنا ہو یا پرایا — گویا ہر فردِ بشر کے دل و دماغ پر حضرت وستانویؒ کی شخصیت اپنی گہری چھاپ چھوڑ چکی ہے۔
اور ایسا کیوں نہ ہو؟
جب حضرت والا نے خالقِ دوجہاں کے مبارک و متبرک کلامِ پاک کو اس طرح تھاما جیسے وہ ان کی زندگی کی سب سے عظیم غزا ہو، جس کے بغیر جینا ان کے لیے ممکن نہ تھا۔ قرآن سے ان کا رشتہ صرف زبانی نہیں بلکہ قلبی، روحانی اور عملی تھا۔
اور پھر اس عظیم نعمت کو انہوں نے اپنی ذات تک محدود نہ رکھا، بلکہ قریہ قریہ، بستی بستی پہنچانے کا عزم صمیم فرمایا۔ ہر بچے کے قلبِ سلیم میں قرآن کی روشنی بسانے کے لیے شب و روز انتھک محنت کی، قربانیاں دیں اور ایک ایسی علمی تحریک برپا کی جس کی مثال کم ملتی ہے۔
حضرت اقدسؒ نے اپنے دولت کدے کو سونے چاندی سے مزین کرنے کے بجائے ربِ ذوالجلال کے سینکڑوں گھروں کو آباد کیا۔ اپنے خالق سے رشتہ مضبوط کرنے کے لیے مخلوقِ خدا کی بے لوث خدمت کو ذریعہ بنایا۔ یوں وہ اس فرمانِ نبوی ﷺ کے عملی پیکر بن گئے:
"تم زمین والوں پر رحم کرو، آسمان والا تم پر رحم فرمائے گا۔"
شب و روز کی تھکا دینے والی جدوجہد کو خوش دلی سے قبول کرتے ہوئے انہوں نے قولِ خدا اور قولِ رسول ﷺ کو عام کیا، اور پیارے آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام کی سنت کو اپنی عملی زندگی میں اس طرح نافذ کر کے دکھایا کہ دنیا نے دین کو صرف سنا نہیں بلکہ چلتا پھرتا دیکھ لیا۔
حضرتؒ کی سادگی، مہمانانِ رسول ﷺ سے بے پناہ محبت، بچوں پر شفقت، ہر ایک سے مسکرا کر ملنا، خوش مزاجی اور خلوص بھرے اخلاق — یہ سب صفات انہیں منفرد انسان بناتی تھیں۔ وہ صرف ایک عالم نہیں بلکہ ایک مشفق مربی، ایک دردمند داعی اور ایک سچے عاشقِ قرآن تھے۔
حضرت تو اس دارِ فانی سے کوچ فرما گئے، اور ایک دن ہم سب نے بھی جانا ہے، مگر انہوں نے اپنی مختصر سی عمر میں ایسے عظیم کارنامے انجام دیے جو بڑی بڑی ہستیاں پوری عمریں کھپا کر بھی نہیں کر پاتیں۔
یہ سب ان کی جدوجہد، والدینِ گرامی کی مخلصانہ دعاؤں اور بارگاہِ الٰہی کی خاص توفیق کا نتیجہ تھا کہ قلیل وقت میں اتنا عظیم کام سرانجام پایا۔
جب تک حضرت ہمارے درمیان رہے، ان کی تعظیم و تکریم کسی بادشاہِ وقت سے کم نہ تھی۔ اور جب انہوں نے یہاں سے رختِ سفر باندھا تو اہلِ دل نے بڑی عقیدت سے رخصت کیا۔ اور جو کچھ وہ یہاں اپنے پیچھے چھوڑ گئے ہیں، انہیں دیکھ کر ہمیں قوی امید ہے کہ وہاں بھی ان کا استقبال عزت و شرف کے ساتھ ہوا ہوگا۔
اللہ تعالیٰ حضرت مولانا غلام وستانویؒ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، اور ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمین۔
(جمال الدین انوری )🖋️