★اسلام اور نوجوان★

کسی بھی قوم کے عروج و زوال میں اس کے نوجوانوں کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر نوجوان سنجیدگی کے ساتھ اپنی قوم کو عروج پر پہنچانے کا عزم کر لیں تو ہزار بار زوال کے باوجود بھی قوم ایسی بلندی پر پہنچ سکتی ہے کہ پھر کسی طاقت کے لیے اس کے سامنے ٹکنا ناممکن ہو جائے۔
اور اگر یہی نوجوان قوم کے بگاڑ پر اتر آئیں تو پھر تنزلی کو ترقی میں بدلنا نہایت دشوار ہو جاتا ہے۔
یوں تو معاشرے کا ہر فرد اس کی بھلائی اور برائی کا ذمہ دار ہے، مگر نوجوانوں کی ذمہ داریاں سب سے زیادہ اور سب سے اہم ہیں۔ اس لیے کہ عمرِ شباب میں انسان کو نیکی کم اور برائی زیادہ سوجھتی ہے۔ یہی وہ دور ہے جس میں شیطان اپنی چالوں میں کامیاب ہونے کی پوری کوشش کرتا ہے۔
اس عمر میں صبر، شکر، انصاف پسندی، والدین کی قدر دانی، حقوق العباد، دور اندیشی اور گفتار و کردار کی عمدہ صفات کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے میں یہ غور طلب بات ہے کہ اسلام نوجوانوں سے کیا چاہتا ہے اور رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے کس چیز کا مطالبہ فرماتے ہیں۔
اسلام نے نوجوانوں کو بڑی اہمیت دی ہے۔ جوانی کی عبادت اللہ تعالیٰ کو بہت محبوب ہے۔ جوانی میں اللہ کے حضور بہنے والے ایک ایک آنسو کی قیمت دنیا و ما فیہا سے بڑھ کر ہے۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی نوجوانانِ ملت کی خاص قدر دانی فرمائی ہے۔
نوجوانوں کو اپنی صحت، عزت اور وقار کی حفاظت خود کرنی ہوگی۔ جذبات میں آ کر شیطان کے پھیلائے ہوئے جال میں پھنس کر نفسِ امّارہ کے پیچھے چل کر خود کو خسارے میں نہیں ڈالنا، بلکہ اپنے جذبات پر قابو رکھتے ہوئے راہِ ہدایت پر ثابت قدم رہنا ہوگا۔ صبر و شکر، والدین کی فرمانبرداری، بڑوں کا احترام، چھوٹوں پر رحم، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے ساتھ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں زندگی گزارنی ہوگی۔
یہی اسلام کا مطالبہ ہے۔ جس معاشرے کے نوجوان ان صفاتِ حسنہ سے متصف ہوں، اسے عروج سے کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔ یہی دنیا و آخرت کی حقیقی کامیابی ہے۔
آج باطل قوتیں پوری کوشش کر رہی ہیں کہ نوجوانانِ اسلام کو راہِ راست سے ہٹا کر گمراہی کے راستے پر ڈال دیں۔ ہماری کاہلی اور سستی کے سبب کچھ حد تک وہ کامیاب بھی دکھائی دیتے ہیں۔ ایسے حالات میں نوجوانانِ قوم و ملت کا سب سے بڑا فرض ہے کہ وہ اس سازش کو ناکام بنائیں اور معاشرے کو گمراہی کی دلدل میں گرنے سے بچائیں۔
یہ کام باہمی تعاون سے ہوگا۔ عوام علمائے کرام کا ساتھ دیں، ان کی باتوں کو سنجیدگی سے سنیں اور ہر معاملے میں ان کی رہنمائی لیں۔ اور علمائے کرام قوم کو اپنا خیر خواہ سمجھ کر انہیں وقت دیں اور ان کی اصلاح و تربیت کریں۔ جب عوام علماء کو اپنا نمونہ بنائیں گے تو معاشرہ اخلاقی و تعلیمی اعتبار سے بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔
یوں ہم دورِ اکابر و اسلاف کو دہرائیں گے، قوم کو زوال سے نکال کر عروج پر لے جائیں گے۔

(جمال الدین انوری)🖋️