بعض اوقات لوگ آپکی پسند، آپکی بات، آپکے طور طریقے پر ہنستے ہیں تو ہنسنے دو آپ کو بورنگ کہتے ہیں تو کہنے دو۔ یہ ان کا نظریہ ہے آپ کو دیکھنے کا لیکن آپ کا نہیں ہونا چاہیے۔ آپ کو اللہ نے دو آنکھیں، دو کان، دو ہاتھ پیر، زبان سب کچھ عطا کیا ہے، سوچنے سمجھنے کا شعور دیا ہے، آپ نے ان کی باتوں میں آ کر سیلف ڈاؤٹ میں مبتلا نہیں ہونا ہے۔
میں پہلے دعا کرتی تھی کہ اللہ مجھے ویسا بنا دے جیسا لوگ مجھے چاہتے ہیں، بہت کوشش کرنے پر بھی جب ٹریٹمینٹ ویسی ہی رہتی تو میں کمزور پڑ جاتی اور خود کو ملامت کرنے لگ جاتی اور پھر میں خود پر کام کرنا چھوڑ دیتی یہ سلسلہ چلتا رہتا، اپنی ذمہ داری اٹھاتی اور حوصلہ افزائی نہ ہونے پر ماند پڑ جاتی۔میں کیوں خود سے نفرت کرنے لگ جاتی کیونکہ میں دنیا کیلۓ خود کو بدل رہی تھی مجھے خود کیلۓ خود کو بدلنا تھا میں رزلٹ کے جلدی سامنے آنے کے انتظار میں رہتی مجھے لوگوں کی حوصلہ افزائی سمیٹنی تھی جبکہ مجھے اپنی بڑائی خود کرنی چاہیے تھی۔
میرا نظریہ ہے خود سے محبت کا مطلب یہ نہیں آپ جو کر رہے ہیں صحیح ہے آپکو اپنے آپ سے کوئی شکایت نہیں آپ جیسے ہیں بہتر ہیں، نہیں۔۔۔
خود سے محبت کرنے کا مطلب ہے آپ خود کو بہتر بنانے کی خواہش کریں ۔
مجھ پر کوئی غلط کمنٹ پاس کرتا ہے اور اگر مجھے اس بات کا برا لگتا ہے تو میں حیران ہو جاتی ہوں کہ کہیں یہ سچ تو نہیں کیونکہ کڑواہٹ ہمیشہ حقیقتوں میں ہی گھلی ہوتی ہے ان کو اگنور کرنے کے بجاۓ میں ان باتوں پر غور کرتی ہوں بہت لوگوں کا ماننا ہے جو آپ کے بارے میں غلط بولتا ہے انہیں اگنور کرو مگر میرے نظریے میں ہر بات اگنور کرنے کی نہیں ہوتی اگر آپ ہر بات کو اگنور ہی کرنے لگ جائیں تو آپ ایک بہترین انسان ہی نہیں بن پائنگے کیونکہ یہ لوگ اور لوگوں کی باتیں ہی تو ہوتی ہیں جو ہمیں خود سے شناسائی دلواتی ہیں اور اجنبیت کا بھی باعث بناتی ہیں اگر ہم ہر بات کو اگنور کرنے لگ جائیں تو ہم تو بالکل neutral ہو جائنگے اس طرح سے تو ہم زندگی نہیں زندگی ہمیں گزار رہی ہوگی۔
ہم حال کو انجواۓ کرنے کے چکر میں اپنا مستقبل خطرے میں ڈال رہے ہیں جو لوگ کہتے ہیں نا کہ جو ہوگا دیکھا جائیگا یہ باتیں سیریئس میٹرس پر اپلائی نہیں کرنی چاہئے کیونکہ ہمیں اس دنیا میں بھیجا ہی گیا ہے خود پر کام کرنے کیلۓ اگر ہم ہر سیچوئیشن پر اتنا کمفرٹیبل ہو جائنگے تو ہم اپنے مقصد تک کیسے پہنچینگے ہم سب جانتے ہیں یہ دنیا ایک امتحان ہے جس کا نتیجہ ہمیں حساب کے دن معلوم ہونا ہے ہم سب اس میں پاس ہونا چاہتے ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ اس امتحان میں بنا تیاری کے ہی پاس ہو جائیں تو یہ تو کوئی احمقانہ بات ہو گئی۔