ماہ شعبان میں ایک رات جو کہ شب برات کے نام سے معروف ہے، فارسی زبان سے ہے ۔ اس لفظ کا معنی ہوتا ہے نجات پانے والی رات ۔ اس رات بے شمار گناہ گار لوگوں کی اللہ پاک بخشش فرماتے ہیں اس لیے اس کا یہ نام پڑ گیا ورنہ اسے "لیلۃ من نصف شعبان" کہا جاتا ہے ،یعنی پندرہویں شعبان کی رات ۔ یہ شعبان کی 14 تاریخ کے سورج غروب ہونے سے شروع ہوتی ہے اور15تاریخ کی صبح صادق تک رہتی ہے۔

 أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَليْهِ وسَلَّمَ : إِذَا كَانَتْ لَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، فَقُومُوا لَيْلَهَا وَصُومُوا نَهَارَهَا ، فَإِنَّ اللَّهَ يَنْزِلُ فِيهَا لِغُرُوبِ الشَّمْسِ إِلَى سَمَاءِ الدُّنْيَا ، فَيَقُولُ : أَلاَ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ لِي فَأَغْفِرَ لَهُ , أَلاَ مُسْتَرْزِقٌ فَأَرْزُقَهُ , أَلاَ مُبْتَلًى فَأُعَافِيَهُ , أَلاَ كَذَا أَلاَ كَذَا ، حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ
ابن ماجہ 1388 باب ما جاء فی لیلۃ النصف من شعبان
ترجمہ: حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب شعبان کی پندرہویں شب ہو تو اس رات میں قیام کرو اوراس دن روزہ رکھو، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ غروب آفتاب کے وقت سے آسمان دنیا پراعلان فرماتے ہیں : کیا کوئی ہے مغفرت طلب کرنے والا کہ میں اس کی مغفرت کروں؟ کیا کوئی ہے رزق کو تلاش کرنے والا کہ میں اسے رزق عطا کروں ؟ کیا کوئی مصیبت کا مار اہے کہ میں اس کی مصیبت دور کروں؟ کیا کوئی ایسا ہے؟ کیا کوئی ایسا ہے؟ حتی کہ صبح صادق کا وقت ہوجاتا ہے۔
شبِ براءت کی فضیلت میں بہت سی احادیث مروی ہیں، اگرچہ ان میں سے بعض سند کے اعتبار سے ضعیف ہیں لیکن چونکہ فضائل میں ضعاف بھی مقبول ہے اورکثرتِ روایات و اسناد مل کر اس ضعف کو دور کر دیتی ہیں۔ مزید امت کا تعامل اور اسلاف کا اس رات کےقیام پر عمل پیرا چلے آنا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ روایات مقبول ہیں اور لیلۃ البراءت کی اصل ضرور ہے۔ چند ایک روایات نقل کی جاتی ہیں۔
أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَقَالَ: هَذِهِ اللَّيْلَةُ لَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ وَلِلَّهِ فِيهَا عُتَقَاءُ مِنَ النَّارِ بِعَدَدِ شُعُورِ غَنَمِ كَلْبٍ، لَا يَنْظُرُ اللهُ فِيهَا إِلَى مُشْرِكٍ، وَلَا إِلَى مُشَاحِنٍ ، وَلَا إِلَى قَاطِعِ رَحِمٍ، وَلَا إِلَى مُسْبِلٍ ، وَلَا إِلَى عَاقٍّ لِوَالِدَيْهِ، وَلَا إِلَى مُدْمِنِ خَمْرٍ
شعب الایمان للبیہقی: رقم الحدیث3556، الترغیب و الترہیب للمنذری: رقم الحدیث 1547)
ترجمہ: حضرت جبرئیل علیہ السلام میرے پاس تشریف لائےاور فرمایا: یہ شعبان کی پندرھویں رات ہے۔ اس رات اللہ تعالیٰ قبیلہ کلب کی بکریوں کے بالوں کے برابرلوگوں کو جہنم سے آزاد فرماتا ہے لیکن اس رات مشرک، کینہ رکھنے والے، قطع رحمی کرنے والے، ازار ٹخنوں سے نیچے رکھنے والے، ماں باپ کے نافرمان اور شراب کے عادی کی طرف نظر(رحمت) نہیں فرماتے۔

اس رات کی فضیلت کے بارے تقریباً دس صحابہ کرام سے روایت منقول ہیں جن میں مشترکہ طور پر یہ بات پائی جاتی ہے کہ اس رات کے فضائل موجود ہیں ۔ اس لیے نہ تو سرے سے انکار کرنا اور نہ ہی حد سے بڑھ کر رسومات و خرافات مثلاً حلوے مانڈےضرور پکانا،آتش بازی کرنا،مرد وں اور عورتوں کا مخلوط اجتماع کرنا، عورتوں کا قبرستان جانا، مَردوں کا قبرستان جانے کو بہت ضروری خیال کرنا، ساری رات جاگنے کو ضروری تصور کرنا ، انفرادی عبادات کو اجتماعی شکل میں تبدیل کرنا جیسے صلوٰۃ التسبیح وغیرہ وغیرہ کو اس میں زبر دستی شامل نہ کیے جائیں بلکہ اعتدال کے ساتھ جتنے فضائل احادیث میں مذکور ہیں ان کو اسی درجے میں تسلیم کرنا چاہیے

اس رات کے بارے میں اعتدال کا خیال رکھنا نہایت ضروری ہے بعض لوگ تو سرے سے اس کی فضیلت کا انکار کرتے ہیں اور بعض لوگ اس رات میں اپنی طرف سے بعض من گھڑت باتیں شامل کر کے اسے دین کا نام دیتے ہیں ۔ افراط و تفریط سے ہٹ کر اگر اعتدال کو ملحوظ رکھتے ہوئے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کے فضائل و مناقب مذکور ہیں لیکن بدعات و اختراعات سےپاک ہے ۔

          والسلام