گناہ کا ایک ہی حل ہے کہ اسکو چھوڑ دیا جاۓ
اگر نہی چھوڑیں گے تو گناہ کی عادت پکّی ہوجائےگی
اور راسخ ھوتی جائیگی
پھر یہ اتنی غالب آئیگی کِ انسان کے لئے روحانی موت کا سبب بن جائیگی
گناہ کی ابتداء کچے دھاگے کی طرح کمزور ھوتی ھے
کِ کچے دھاگے کو بچہ بھی توڑ دیتا ہے
ابتداء میں گناہ کو چھوڑنا بہت آسان ھوتا ھے
لیکِن
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پھر اس گناہ کی مثال جہاز کے لنگر کے مانند ہوجاتی ہے
جسے وہ جہاز کو ہلنے نہی دیتا
اس طرح گناہ کرتے کرتے ایسا مضبوط ہوجاتا ہے
کِ اگر اسے چھوڑنا بھی چاہے تو چھوڑ نھی سکتا
۔
از قلم ✍️
۔
(عالیہ نمرہ قریشی)