خاک سے افلاک تک: چندو بھائی ویرانی اور بالاجی ویفرز کی داستانِ عزیمت

(دھرو راتھی کی ایک یوٹیوب ویڈیو کا خلاصہ)
تحریر:- محمّد سلیمان قریشی

بنجر زمین اور آرزوؤں کا سفر
یہ داستان گجرات کے ضلع جام نگر کے ایک پسماندہ گاؤں سے شروع ہوتی ہے، جہاں کی زمین پیاسی اور آسمان بخیل ہو چکا تھا۔ جب خشک سالی نے کسانوں کی محنت کو خاک میں ملا دیا، تو ایک بوڑھے باپ نے اپنی زمین بیچ کر تپتی دھوپ میں اپنے بیٹوں کے ہاتھ میں بیس ہزار روپے تھمائے۔ یہ محض رقم نہیں تھی، بلکہ ان کی بقا کا آخری سہارا اور باپ کا اٹل اعتماد تھا۔ یہیں سے چندو بھائی ویرانی اور ان کے بھائیوں کی ہجرتِ مسلسل کا وہ سفر شروع ہوا جس نے آگے چل کر ہندوستانی صنعت کی تاریخ بدل ڈالی۔
آزمائش کی بھٹی اور کردار کی تعمیر :-
شہر کی چکا چوند میں پہلے ہی قدم پر دھوکے اور ناکامی نے ان کا استقبال کیا، مگر وہ "عزمِ مصمم" کے پیکر تھے۔ راجکوٹ کے ایک سینما ہال کی کینٹین میں محض نوے روپے تنخواہ پر "کینٹین بوائے" کی ملازمت اختیار کرنا ان کے لیے کوئی شرمندگی کی بات نہیں تھی، کیونکہ وہ "محنت کش" آدمی تھے۔ وہ فرش صاف کرتے، دیواروں پر فلمی پوسٹر چپکاتے اور سینما کی ٹوٹی ہوئی نشستوں کی مرمت کرتے۔ ان کی اسی بے لوث خدمت اور دیانت داری نے تقدیر کا رخ موڑ دیا اور کینٹین کے مالک نے انہیں ہی اس کا ذمدار بنا دیا۔
تخلیق کا لمحہ:- ایک چھوٹی کڑھائی سے ایک عظیم برانڈ تک
جب سپلائرز کی بدعہدی اور چپس کے پست معیار نے کاروبار کو متاثر کیا، تو چندو بھائی نے "چنتا" (فکر) کے بجائے "چنتن" (تدبر) کا راستہ اپنایا۔ 1982 میں، اپنے گھر کے صحن میں ایک چھوٹی سی کڑھائی اور تندہی کے ساتھ انہوں نے آلو کے قتلے تلنا شروع کیے۔ وہ خود ہی مزدور تھے، خود ہی کاریگر اور خود ہی سیلز مین۔ "بالاجی" کے نام سے شروع ہونے والا یہ سفر، جو کبھی سائیکل کے پیچھے بندھے تھیلوں پر محیط تھا، آہستہ آہستہ پورے گجرات کی زبان کا ذائقہ بن گیا۔
فلسفہِ حیات:- خدمت، نہ کہ تجارت
چندو بھائی کا کاروباری فلسفہ روایتی کاروباری کتابوں سے مختلف مگر نہایت گہرا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے کبھی "سیلز" (Sales) نہیں کی، بلکہ "سروس" (Service) فراہم کی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر آپ خدمتِ خلق کی فکر کریں گے تو دولت خود بخود قدم چومے گی۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے بڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے پرکشش سودوں کو ٹھکرا دیا تاکہ وہ اپنے صارفین کو سستے داموں معیاری غذا فراہم کر سکیں۔ آج بالاجی ویفرز 6,000 کروڑ روپے سالانہ کی ایک ایسی سلطنت ہے جس کی بنیادیں مٹی سے جڑی ہوئی ہیں۔

اس داستان کا سب سے خوبصورت پہلو  ان کا خاندانی اتحاد ہے۔ وہ "مفاد پرستی" کے بجائے "افادہ عام" کے اس اصول پر یقین رکھتے ہیں کہ ریاست میری نہیں، تمہاری ہے۔ آج کے دور میں جب لوگ فوری کامیابی کے پیچھے اندھا دھند بھاگ رہے ہیں، چندو بھائی ویرانی کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ کامیابی "کود پڑنے"، "ڈٹ جانے" اور "سب کو ساتھ لے کر چلنے" کا نام ہے۔