*کیا تکفیر ہی دین کی خدمت ہے؟*
*(سوال واقعی اپنی جگہ کیوں قائم نہیں رہتا؟)*
وضاحت پیشِ خدمت ہے، یہ پہلے ہی واضح کی جا چکی ہے کہ اس تحریر کا مقصد نہ کسی مسلک کو نیچا دکھانا ہے، نہ کسی کی نیت پر حملہ، بلکہ اصل مسئلہ ایک ایسے فکری اور عملی خلطِ مبحث کی نشاندہی ہے جو سوالیہ تحریر میں بار بار سامنے آ رہا ہے، سوالیہ مضمون یہ تاثر دیتا ہے کہ وہ کسی مسلک کے خلاف نہیں بلکہ صرف عملی رویّے (Practical Pattern) پر بات کر رہا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ عملی رویّے کو بار بار ایک مخصوص مکتبِ فکر کے ساتھ جوڑ کر پیش کرنا، خود اسی مسلک پر الزام بن جاتا ہے،اور مزید یہ کہنا کہ یہ کسی مسلک کے خلاف نہیں یہ بحث لغو ہے،جو اپنے دعوے پر ہی درست نہیں، چاہے نیت کچھ بھی ہو، یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جہاں سے اختلاف پیدا ہوتا ہے،لیکن فریق مخالف پھر بھی اس چیز کے قائل ہیں۔
اولا میں یہ عرض کر دوں کہ یہ فرق سمجھنا ناگزیر ہے کہ فتویٰ، عقیدہ اور فقہ ایک چیز ہیں، اور افراد کے جذباتی، مناظرانہ یا غیر محتاط بیانات دوسری چیز، اسلیے کہ اہلِ سنت کے ہاں مسلک کا موقف افراد کے اقوال سے نہیں بلکہ اصولی مآخذ سے متعین ہوتا ہے، ان دونوں کو ایک کر دینا ہی وہ اصل تضاد ہے جس پر پوری عمارت کھڑی کی گئی ہے۔
اب پہلا سوال سامنے آتا ہے کہ کیا *سب سے زیادہ تکفیر علماء اہلسنت بریلوی کی طرف سے کی جاتی ہے* کا دعویٰ واقعی بے بنیاد ہے؟
اس کا جواب یہ ہے کہ یہ دعویٰ اپنی جگہ اس لیے قائم نہیں رہتا کہ خود سوالیہ تحریر مانتی ہے کہ یہ کوئی فقہی مقدمہ نہیں، نہ کسی مرکزی فتویٰ کا حوالہ ہے، نہ کوئی باقاعدہ احصائی یا تقابلی ثبوت، اس کے باوجود ایک مخصوص مکتبِ فکر کو *سب سے زیادہ تکفیر* سے موسوم کر دینا علمی تجزیہ نہیں بلکہ عمومی تاثر سازی ہے، اگر یہ کہا جائے کہ یہ سماجی و فکری تجزیہ ہے تو پھر سوال یہ بنتا ہے کہ اس تجزیے کا پیمانہ کیا ہے؟ دوسرے مسالک کے عوامی بیانات، مناظرانہ زبان اور سوشل میڈیا کے رویّے اس دائرے سے کیوں خارج رکھے گئے؟ بغیر واضح معیار کے الزام، تجزیہ نہیں رہتا بلکہ یک طرفہ نتیجہ بن جاتا ہے، یہاں فتویٰ کی کتابیں اور عوامی زبان کو آمنے سامنے لا کر یہ تاثر دیا گیا کہ عوامی القابات زیادہ مؤثر ہوتے ہیں، اس لیے اصل مسئلہ وہی ہیں، اہلِ سنت کہتے ہیں کہ اثر اور حکم میں فرق ہے، عوامی زبان اثر رکھ سکتی ہے، مگر شرعی حکم کا مدار نہ اثر پر ہے نہ شور پر، بلکہ اصول پر ہے، اگر عوامی زبان ہی حجت بن جائے تو دنیا کا کوئی مسلک اپنے عوام کی غلطیوں سے بری الذمہ نہیں رہ سکتا،یہ تسلیم شدہ قضیہ مذکورہ تحریر جو میری جانب سے جواب میں لکھی گئی تھی،اسکی تصدیق کرتا ہے،پھر یہ سوال قائم نہیں رہتا،اور الزام بھی باقی رہتا ہے۔
پھر یہ سوال اٹھایا گیا کہ *اگر یہ سب افراد کرتے ہیں، مسلک نہیں تو اصلاح کیوں نہیں ہوتی؟ اور براءت کیوں نہیں آتی؟*
یہ سوال خود اپنے اندر ایک اور سوال رکھتا ہے، کیا یہی معیار ہر مکتبِ فکر پر لاگو کیا جاتا ہے؟ کیا ہر سخت یا غیر ذمہ دارانہ بیان پر فوراً اجتماعی اعلان آتا ہے؟ اگر نہیں، تو یہ مطالبہ صرف اہلِ سنت سے کیوں؟ حقیقت یہ ہے کہ اصلاح بھی ہوتی ہے، رد بھی ہوتا ہے، مگر ہر فرد کے ہر جملے پر مسلک کو کٹہرے میں کھڑا کرنا انصاف نہیں،اور یہ بھی یاد رکھنے کی بات ہے کہ خاموشی ہر حال میں موقف نہیں بنتی، ورنہ پوری امت ہی مجرم ہو جائے گی اور کوئی ایک بھی اس سے خارج نہ سکے گا،کیونکہ بعض میں غلطیاں عوام اور بعض میں خواص،اور بعض میں دونوں کرتے ہیں،پھر یہ چیز عائد ہوگی دیوبندی مکتب فکر اور دوسرے مسالک پر بھی معلوم ہوا،کہ اس سے بھی میری جوابی تحریر کی تائید ہو رہی ہے،جس سے سوال اپنی جگہ قائم نہیں رہتا اور دعوی الزام اپنی جگہ مسلم ہے۔
پھر قرآن کی آیات کے سیاق کا اعتراض سامنے آتا ہے، یہ کہا جاتا ہے کہ *﴿وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللّٰهِ﴾* اور
*﴿وَلَا تَنَازَعُوا﴾* جیسی آیات اگرچہ فوری طور پر عسکری یا اجتماعی حالات کے بارے میں نازل ہوئیں، مگر چونکہ قرآن صرف وقتی ہدایات نہیں بلکہ اصولی رہنمائی بھی دیتا ہے، اس لیے ان آیات کو مسلکی اختلافات اور فکری نزاعات پر بھی منطبق کیا جا سکتا ہے، اہلِ سنت والجماعت اس اصولی بات سے انکار نہیں کرتے کہ قرآن کی آیات محض ایک وقتی پس منظر تک محدود نہیں ہوتیں، بلکہ امت کے لیے دائمی رہنمائی بھی فراہم کرتی ہیں، لیکن اصل سوال یہاں یہ ہے کہ اصولی رہنمائی کی حد کہاں ختم ہوتی ہے؟ اور اس کے نام پر کن حدود کو باقی رکھنا لازم ہے؟
کیا اصولی رہنمائی کا مطلب یہ ہے کہ ایمان و کفر، حق و باطل، سنت و بدعت کے درمیان قائم تمام شرعی سرحدیں مٹا دی جائیں؟ کیا *اتحادِ امت* کے نام پر یہ مان لیا جائے کہ ہر فکری انحراف بھی دائرۂ ایمان کے اندر ہی شمار ہوگا، اور ہر نظریاتی اختلاف کو محض رائے کا فرق کہہ کر نظرانداز کر دیا جائے؟ جواب صاف ہے ہرگز نہیں، اسی قرآن نے جہاں یہ اصول دیا کہ *﴿إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ﴾* وہیں یہ حد بھی متعین کر دی کہ
*﴿وَمَن يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَى﴾* یہ دونوں آیات ایک دوسرے کی نفی نہیں کرتیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں، پہلی آیت امت کے اندر اخوت اور اجتماع کا اصول دیتی ہے، جبکہ دوسری آیت یہ واضح کرتی ہے کہ یہ اخوت اور اجتماع اس وقت تک ہے جب تک رسول ﷺ کی مخالفت اور صریح انحراف واقع نہ ہو، اہلِ سنت کے نزدیک قرآن کا منہج یہ نہیں کہ اتحاد کی خاطر عقیدے کو قربان کر دیا جائے، اور نہ یہ ہے کہ عقیدے کے نام پر ہر اختلاف رکھنے والے کو امت سے کاٹ دیا جائے، بلکہ قرآن کا اسلوب یہ ہے کہ حدود واضح رہیں اور تعلقات بھی، وہ یہ نہیں کہتے کہ ہم سب آدم علیہ السّلام کی جانب سے بھائی ہیں، اس لیے باطل کو بھی حق مان لو،اس لیے کہ اخوت کا کوئی دائرہ باقی نہیں رہا، یہی توازن اہلِ سنت کے منہج کی بنیاد ہے، اتحاد وہاں تک ہے جہاں تک ایمان کی بنیاد محفوظ ہے، اور عقیدہ وہاں تک محفوظ ہے جہاں تک شریعت نے حد مقرر کی ہے، اس توازن کو توڑے بغیر نہ قرآن سمجھا جا سکتا ہے اور نہ امت کو جوڑا جا سکتا ہے، لہٰذا جب آیات کے اصولی پہلو کا حوالہ دے کر یہ کہا جائے کہ مسلکی اختلافات پر سخت موقف اختیار کرنا قرآن کے خلاف ہے، تو اہلِ سنت کہتے ہیں کہ قرآن کا خلاف وہی ہوگا جو یا تو حدودِ ایمان کو مٹا دے یا اخوتِ ایمانی کو غیر ضروری طور پر منہدم کر دے،یہ بھی میری جوابی تحریر کی تائید کر رہا ہے،جس سے سوال اپنی جگہ قائم نہیں رہتا۔
*اصل نکتہ نکاح، امامت، سلام اور معاشرت کا ہےجسے عملی تضاد قرار دیا گیا، یہ سوال اٹھایا گیا کہ اگر دوسرے مسالک واقعی دائرۂ اسلام سے خارج ہیں تو ان کے ساتھ نکاح کیوں، امامت کیوں، سلام کیوں؟ اور اگر یہ سب جائز ہے تو پھر کافر کہنے کی زبان کیوں نہیں رُکتی؟*
اس مقام پر یہ بات پہلے ہی واضح کی جا چکی ہے کہ اہلِ سنت کے نزدیک یہ کوئی تضاد نہیں بلکہ ایک واضح فقہی قاعدہ ہے، اصول یہ ہے کہ جب تک کفر قطعی، صریح اور غیر محتمل طور پر ثابت نہ ہو، نہ تکفیر کی جاتی ہے اور نہ اس کے فقہی لوازم جیسے نکاح کا ٹوٹنا، معاشرت کا ختم ہونا، یا سلام و تعامل کا سقوط لاگو کیے جاتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ سخت گمراہی کے باوجود، احتیاطاً اسلام کا حکم باقی رکھا جاتا ہے، یہ شریعت کی کمزوری نہیں بلکہ اس کا حسن اور اس کی رحمت ہے،اسی لیے یہ کہنا کہ یا *کافر کہو یا نکاح توڑو* فقہی استدلال نہیں بلکہ فقہی سادگی بلکہ غلطی ہے، کیونکہ شریعت نے کفر کے حکم اور اس کے عملی نتائج کے درمیان سخت شرائط رکھی ہیں، عام افراد پر وہ حکم صادر نہیں کیا جا سکتا جو خواصِ علم کے لیے بھی انتہائی احتیاط کے بعد نافذ ہوتا ہے، اور یہی بات جوابی مضمون میں مدلل انداز میں بیان کی جا چکی ہے،
مزید یہ کہ اگر فریقِ مخالف کے اس نظریے کو اسی محل پر رکھ کر عام کر دیا جائے یعنی جس کے قول یا منہج پر شبہ ہو اس سے ہر طرح کا تعلق منقطع کر دیا جائے، تو اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلے گا کہ ہندوستان جیسے ملک میں بے شمار تاجروں، کاریگروں اور کاروباری طبقات سے انتفاع کلی طور پر ممنوع ہو جائے، حالانکہ خود فریقِ مخالف بھی اس کے قائل نہیں، یہی عملی حقیقت اس بات کی دلیل ہے کہ شریعت نے معاملات اور معاشرت میں احتیاط، تفریق اور درجہ بندی رکھی ہے، نہ کہ ایک ہی حکم سب پر چسپاں کر دیا ہے، لہٰذا یہ مثالیں دراصل جوابی مضمون کی تائید کرتی ہیں، نہ کہ اس کی نفی، اور اسی بنا پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس پہلو سے سوال اپنی جگہ قائم نہیں۔
*حدیثِ تکفیر کا حوالہ دے کر یہ سوال اٹھایا گیا کہ کیا آج کی تکفیر بے جا نہیں؟* اہلِ سنت اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ بے جا تکفیر حرام ہے، مگر یہ بھی پوچھتے ہیں کہ کیا ہر گمراہی کی نشاندہی تکفیر ہے؟ اگر ہر سخت علمی حکم کو حدیثِ تکفیر کے دائرے میں ڈال دیا جائے تو سلف کی بڑی تعداد خود اس کی زد میں آ جائے گی،اور اس نظریہ سے بہت سے لوگ خارج ہو جائیں گے،جو فریقین کے درمیان مسلم شخصیات ہیں، پھر کچھ یوں ہو جائے گا، نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے *یہ سوال کہ کیا ہر دیوبندی عالمِ کفر کی تفصیلات جانتا ہے؟* دراصل اہلِ سنت کے موقف کو ہی مضبوط کرتا ہے، کیونکہ اسی وجہ سے اہلِ سنت عام افراد کی تکفیر نہیں کرتے، نظریے اور فرد میں فرق کرتے ہیں۔
بالکل، اسی اسلوب میں اسے قدرے مفصل مگر مربوط انداز میں واضح کر رہا ہوں تاکہ اعتراض کی اصل کمزوری پوری طرح سامنے آ جائے:
*تقیہ کی مثال دے کر جو اعتراض کیا گیا، وہ بھی محل سے ہٹا ہوا ہے* کیونکہ اس میں تین بالکل مختلف چیزوں کو خلط کر دیا گیا ہے *عقیدے کا تقیہ، فقہی احتیاط، اور دعوتی مصلحت* حالانکہ یہ تینوں نہ مفہوم میں ایک ہیں اور نہ حکم میں۔
*عقیدے* کا تقیہ اس صورت کو کہتے ہیں کہ انسان اپنے ایمان یا عقیدے کو خوف یا مجبوری کے تحت چھپائے، اور یہ ایک مخصوص تاریخی اور اعتقادی تصور ہے جس کا اطلاق ہر مقام اور ہر رویّے پر نہیں کیا جا سکتا، اس کے برعکس فقہی احتیاط وہ اصول ہے جسے شریعت نے خود اختیار کرنے کا حکم دیا ہے، یعنی ایسے مقامات پر جہاں کفر یا اسلام کا فیصلہ قطعی نہ ہو، وہاں حکمِ اسلام کو برقرار رکھا جائے اور تکفیر سے بچا جائے، یہ کوئی دوہرا معیار نہیں بلکہ شریعت کا مقرر کردہ ضابطہ ہے،
اسی طرح *دعوتی مصلحت* کا تعلق عقیدے کے چھپانے سے نہیں بلکہ اس حکمت سے ہے جس کے تحت حق بات کو ایسے انداز میں پیش کیا جائے کہ فتنہ کم ہو اور اصلاح کا دروازہ بند نہ ہو، نبی کریم ﷺ اور صحابۂ کرام کا طرزِ عمل اس کی روشن مثال ہے، جہاں ہر موقع پر ہر بات پوری شدت کے ساتھ نہیں کہی گئی، بلکہ حالات، مخاطب اور نتائج کو سامنے رکھا گیا،ان تینوں کو ایک خانے میں ڈال کر یہ کہنا کہ اہلِ سنت کا رویہ *تقیہ* ہے، دراصل ایک سخت تعبیر ہے، استدلال نہیں، احتیاط اور مصلحت کو تقیہ کہنا مسئلے کو حل نہیں کرتا بلکہ اسے لفظی الزام میں بدل دیتا ہے، اسی لیے یہ اعتراض نہ فقہی طور پر مضبوط ہے اور نہ اصولی طور پر، بلکہ محلِّ نزاع سے ہٹا ہوا قرار پاتا ہے۔
*آخر میں اصل سوال یہ بچتا ہے کہ کیا تکفیر ہی دین کی خدمت ہے؟*
جوابی مضمون میں جواب یہ ہے کہ نہیں، نہ تکفیر ہمارا ہتھیار ہے، نہ اختلاف کو کفر بنانا ہمارا منہج، ہم اختلاف کو اختلاف رکھتے ہیں، گمراہی کو گمراہی کہتے ہیں، مگر تکفیر کو آخری، نادر اور انتہائی شرط کے ساتھ باندھتے ہیں،جس کی کافی اچھے انداز میں تردید میں جوابی مضمون میں کر چکا ہوں۔
ان تمام باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ کہنا کہ *سوال اپنی جگہ قائم ہے* دراصل اسی جگہ درست لگتا ہے جہاں فقہی اصولوں کو سمجھے بغیر عمل کو تضاد سمجھ لیا جائے، اہلِ سنت کے نزدیک جواب جذبات کا نہیں، شریعت کے ضوابط کا ہے اور وہ جواب اپنی جگہ پوری طرح قائم نہیں۔
اللہ کریم حق لکھنے اور حق پر عمل کرنے کی توفیق بخشے،اور علماء حقہ کے ساتھ میرا حشر فرمائے آمیـــــــــــــــــن یــــا رب الــــــــعـــــــالــــــمـــــیــن بجاہ النبی الکریم ﷺ۔
*✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*