خدا کی قدرت

خدا کی قدرت ایک ایسا موضوع ہے جس پر جتنا غور کیا جائے، انسان اتنا ہی عاجز اور حیران ہوتا چلا جاتا ہے۔ خدا کی قدرت ہر چیز پر حاوی ہے، وہی ذات ہے جو زمین و آسمان کا خالق ہے، جو اندھیری راتوں کو چاندنی میں بدل دیتی ہے، جو بنجر زمین کو بارش کے چند قطروں سے زندگی بخش دیتی ہے۔

اگر ہم اپنی آنکھوں سے فطرت کا مشاہدہ کریں تو ہر پتّے، ہر پھول، ہر قطرے میں خدا کی قدرت کا جلوہ نظر آتا ہے۔ سمندر کی گہرائیاں، آسمان کی وسعتیں، پہاڑوں کی بلندی اور صحرا کی وسعتیں، سب اس کی قدرت کی نشانیاں ہیں۔

خدا کی قدرت کا ایک روشن ثبوت انسان خود ہے۔ انسان کا جسم، اس کا نظام، دل کی دھڑکن، آنکھوں کی بینائی، عقل و فہم - یہ سب ایسے نظام ہیں جو کسی بڑی اور مکمل ہستی کے وجود کی دلیل ہیں۔

دن اور رات کا آنا جانا، سورج کا وقت پر طلوع و غروب ہونا، ستاروں کا آسمان پر منظم انداز میں چمکنا - یہ سب کسی عظیم طاقت کی گواہی دیتے ہیں جو ان سب کو قابو میں رکھے ہوئے ہے۔

بعض اوقات انسان یہ سمجھ بیٹھتا ہے کہ وہ بہت کچھ جان چکا ہے، لیکن جب وہ کائنات کی وسعتوں میں جھانکتا ہے تو اسے احساس ہوتا ہے کہ خدا کی قدرت کا صرف ایک ذرّہ بھی اس کی عقل سے باہر ہے۔

خدا کی قدرت صرف تخلیق میں نہیں بلکہ تدبیر میں بھی ہے۔ وہی ہے جو مایوسی کو امید میں بدلتا ہے، جو بیمار کو شفا دیتا ہے، جو ناممکن کو ممکن کر دیتا ہے۔

لہٰذا، ایک مؤمن کا ایمان اور یقین ہمیشہ خدا کی قدرت پر قائم رہتا ہے۔ جب کوئی در بند ہو جائے، تو وہ جانتا ہے کہ خدا ایسے راستے نکالتا ہے جن کا وہم و گمان بھی نہ ہو۔

خدا کی قدرت لامحدود ہے، اور اس کا ادراک انسان کے لیے باعثِ شکر، عاجزی اور محبت ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہر لمحے اس کی قدرت کو پہچانیں، اس کا شکر ادا کریں، اور اس پر مکمل بھروسہ رکھیں۔


اللّٰہُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ كَثِيرًا، وَسُبْحَانَ اللّٰهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا۔


✍️محمد علی سبحانی